The country and the people are suffering irreparable loss in this power struggle
16 مارچ 2021 (11:21) 2021-03-16

وطن عزیز حکومتی ہر نقطۂ نظر سے ہمیشہ نازک صورت حال سے گزررہا ہے۔ سوائے جناب بھٹو صاحب کے ساڑھے 5 سال کے مگر ایک بے مثال رہنما کو اقتدار کی خاطر عدالتی ذریعہ سے سولی چڑھادیا گیا کہ ثابت کیا جائے مغالطہ نہ رہے تمام ادارے ہماری گرفت میں ہیں۔ عظیم رہنما کی بیٹی نے اپنے بابل کی جماعت کی بھاگ ڈور سنبھالی اور تاریخ کے بدترین ظالم آمر کی 11 سالہ آمریت کا مقابلہ کیا۔ ان رہنما کی بیوہ پر تشدد ہوا، بیٹی قید رہی، بیٹے قتل ہوئے اور بالآخر اپنے بابل کے مؤقف پر لڑتی لڑتی ساری دنیا کے کیمروں کے سامنے قتل کر دی گئیں اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کہلائیں۔ پیپلزپارٹی اور جناب بھٹو کا حکمرانی پر عوامی حق کا بیانیہ رہا ہے اسی جدوجہد میں وہ اپنے بنگلوں سے شہیدوں کے قبرستان میں جا سوئے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی سے ان کی سیاسی موت نہ ہو سکی جو دراصل آج میاں نواز شریف کی زندگی کی ضمانت بن گئی    مگر مشرف دور میں اسٹیبلشمنٹ نے سوچا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے جناب بھٹو کو تو سیاسی طور پر موت دے سکے نہ ہی دفنا پائے لہٰذا بھٹوصاحب کی شہادت کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے پرویز مشرف نے اپنے مفاد کی خاطر میاں نواز شریف کو وطن عزیز سے چلے جانے کے معاہدے کا بندوبست کیا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی پر بہت تبصرے ہوئے کہا گیا کہ ان کے دور میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہوتی، اگر امریکہ خلاف نہ ہوتا ، اگر ضیاء الحق کی واجب تذلیل نہ کی جاتی، اگر ایٹمی پروگرام نہ ہوتا، اگر اسلامی دنیا کو اکٹھا نہ کرتے ، اگر تیسری دنیا کا نعرہ نہ لگاتے تو بھٹو صاحب پھانسی سے بچ جاتے مگر میرے ابا جی (جناب حاجی عنایت اللہ شہزادہ صاحب) کہتے کہ اگر جناب بھٹو کا باپ زندہ ہوتا تو ان کو کوئی سولی چڑھانے کی جرأت نہ کرتا۔ یہ بات نواز شریف کے معاملے میں سچ ثابت ہوئی۔ بابا گورو نانک کا ایک چیلا تھا جس کو کہیں سے ہیرا (لعل) مل گیا اب اس کو ڈر رہتا کہ کوئی چوری کر لے یا چھین نہ لے اس نے بابا جی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ڈر والی شے پھینک دو۔ ایک دو بار یہی تکرار ہوئی ۔ چیلے نے لعل پھینک دیا۔ بابا جی نے کہا اب تمہیں سکون ہے، میاں نوازشریف کے پاس ڈر والی شے اقتدار تھی لہٰذا انہوں نے ڈر والی شے سے بے نیازی اختیار کر لی ہے اور حق حکمرانی کے لیے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ لے کر نکلے ہیں۔ ایک بابل جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے اور بیٹی محترمہ شہید بی بی تھی دوسرا بابل نواز شریف اور بیٹی مریم نواز ہے۔ گو کہ سیاسی اور تاریخی اعتبار سے بہت فرق ہے مگر بیانیہ بھٹو صاحب کا ہی ہے۔ دراصل بھٹو صاحب ایک نظریہ، ایک طرز سیاست، ایک پیغام کا نام ہیں۔ اس پر کوئی بھی عمل کر سکتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ وہ پیپلزپارٹی سے ہی ہو کبھی نعرہ تھا کہ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا ۔ اب ہر جماعت بلکہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں سے بھٹو نکل رہا ہے۔ بلاول تو ہیں ہی مگر آج میاں نواز شریف بھی جناب بھٹو صاحب کی جگہ پر آن کھڑے ہیں لہٰذا طاقتور حلقوں کو سوچنا ہو گا کہ اب ضیاء الحق والی دنیانہیں گو کہ پاکستان میں گرفت اس سے بھی زیادہ مضبوط ہے لیکن دنیا میں وہ حالات نہیں ایک چھوٹی سی خبر لمحوں میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ شاہی قلعہ ، جیل کوڑے قیدیں، پھانسیاں عام ہوں اور دنیا بلکہ ملک کے دسویں حصے کو بھی خبر نہ ہو۔ محترمہ مریم نواز شریف کو مبینہ دھمکی پراور میاں نواز شریف نے واشگاف اعلان اور ممکنہ مبینہ مذموم حرکت کی ذمہ داری باقاعدہ نام لے کر چند مقتدر افراد پر عائد کی ہے۔ محترمہ بینظیر کابابل سولی چڑھ چکا تھا۔ مریم کا بابل موجود ہے اور با اثر بھی لہٰذا کسی بھی مذموم حرکت سے پہلے کئی بار سوچنا ہو گا۔

یوں تو 2018ء کے انتخابات ہی مبینہ طور پر دھاندلی زدہ تھے۔ ڈلیور نہ کر سکنے، وعدوں سے انحراف اور مخالفین کو احتساب کے نام پر انتقام ، مہنگائی ، بیروزگاری ، لاقانونیت نے موجودہ حکومت کی ناؤ ڈبو دی ہے۔ اس کے ملاح اس کے ڈوبنے کا اعلان نہیں ہونے دیتے۔ موجودہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں جو دیکھا گیا تاریخ میں نہیں دیکھا۔ یوسف رضا گیلانی کے سینیٹر کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ صرف غیر جانبدار ہوئی اور حکومت کی کھٹیاکھڑی ہو گئی مگر پھر شاید وزیراعظم کو بتایا گیا کہ یہی حالت عدم اعتماد اور چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں بھی ہو سکتی ہے تو وہ (کینڈے) یعنی سائز میں آ گئے ووٹ ضائع کروا دینا معمول کی بات ہے وہ بھی اس لیے کہ اگر حکومت قد سے اونچی سانس لے تو عدالتی فیصلے سے الٹا دیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب ان لوگوں نے اس ملک کے امکان کا بھی کھلواڑ کیا ہے یہ کب کہاں جا کر رکیں گے کچھ پتہ  نہیں کوئی شخص آبائی جائیداد میں سے اپنے کمزور رشتہ دار کو پورا حصہ نہیں دیتا تو یہ پی ڈی ایم والے چلے ہیں طاقتور حلقوں سے عوام کا حق حکمرانی مانگنے اس کے لیے کٹھن جدوجہد کی ضرورت ہے۔

اب یوسف رضا گیلانی عدالت جائیں گے جن کے فیصلے داد اسے پوتے تک چلتے ہیں اور اگر طاقتور حلقوں کو منظور ہوا تو پھر چند دن لگیں گے ریلیف مل جائے گا کیونکہ گیلانی صاحب کے مسترد ووٹ ناقابل استرداد ہیں۔ انتخابات کی رات کیمرے لگانا بذات خود جرم ہے جو حکومت کے علاوہ کوئی نہیں لگا سکتا پی ٹی آئی ہر جنگ ہار چکی ہے البتہ صرف طاقتور حلقے ایک سیٹ پر کامیاب ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اور نواز شریف حق حکمرانی کی بات تو کرتے ہیں یہ پہلے قومی تہواروں پر تو اپنا حق واپس لیں۔ 23 مارچ 1940ء، 14 اگست 1947ء سیاستدانوں کی لازوال محنت اور قربانیوں کے ثمر کے دن تھے جو اب سیاستدانوں اور عوام کے نہیں رہے وہ بھی طاقتور حلقوں کے تہوار ہی تصور ہوتے ہیں لہٰذا ابھی جنگ لمبی ہے دور اور دیر تک لڑنا ہو گی۔ اگر کوئی پلے بوائے ہاتھ میں تسبیح پکڑ سکتا ہے تو آمریت کی پیداوار جمہوری رہنما بھی نظریاتی بن سکتا ہے۔ اب پی ڈی ایم کو ڈر والی شے یعنی اقتدار پس پشت رکھ کر جدوجہد کرنا ہوگی وگرنہ دام اور غلط نشان لگتے رہیں گے۔ طاقتور حلقوں کے لیے بہت سوچنے کا لمحہ ہے کہ پنجاب کے نواز شریف اب ڈر والی شے سے بے نیاز ہیں اور مریم کے بابل ہیں میں سمجھتا ہوں جذباتی رشتوں کی تذلیل اور کبھی نہ بھولنے والے دکھ کم از کم سیاست میں نہیں دینے چاہئیں۔ تاتاریوں ، نازیوں اور شاہوں کا دور نہیں یہ آئی ٹی کا دور ہے۔ کوئی چیز چھپی نہیں رہتی۔ جمہوریت ہی چلے گی۔ اس کے مخالف لکھنے اور بولنے والے کرائے کے ’’دانشور‘‘ کچھ اور بول بھی نہیں سکتے کیوں کہ بار بار بِک چکے ہیں۔

سیاست دانوں نے ہمیشہ جواب دہی کا کٹہرا دیکھا ہے۔ مگر کوئی آمر کٹہرے میں نہیں آیا۔ جن کی تعداد 4 براہ راست عرصہ اقتدار 33 سال سے زائد ہے اور بالواسطہ ہمیشہ ہی رہے ہیں۔ اقتدار کی اس رسہ کشی میں ملک اور عوام کا ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے۔ نقصان کرنے والے عوام، بابل اور بیٹی کا بار بار امتحان نہ لیں یہ ڈر والی شے پھینک چکے ہیں جبکہ آپ اقتدار میں ہیں۔ میاں صاحب کا تو پتہ نہیں لیکن مریم نواز کا آئیڈئل محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہیں جبکہ ساتھ جناب بھٹو کا نواسہ جناب بلاول بھٹو بھی ہیں۔ یاد رہے دنیا کی کوئی ’’ریاست‘‘ عوام کی تائید کے بغیر مضبوط نہیں رہ سکتی۔ فرد اور ریاست کا سوشل کنٹریکٹ اگر کمزور ہو جائے تو ملکی جغرافیہ کمزور پڑ جایا کرتا ہے لہٰذا طاقتور حلقے ’’مورچہ‘‘ موبائل رکھنے کی بجائے قومی مکالمے کا اہتمام کریں۔


ای پیپر