Goebbels' presence in the Senate election
16 مارچ 2021 (11:17) 2021-03-16

ہٹلر نے اپنی کتاب Mein Kampf (میری جدوجہد) میں لکھا تھا ’’پروپیگنڈہ لوگوں کو پڑھانے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ ان کا دھیان کچھ خاص حقائق کی طرف لانے کیلئے ہوتا ہے۔ پروپیگنڈہ ایک فن ہے جس کا اثر لوگوں کے احساسات پر ہوتا ہے جبکہ ان کے دماغی اور ذہانت پر اس کا اثر بہت کم ہوتا ہے‘‘۔

سینٹ کے انتخابات میں رہ رہ کر بابا گوئبلز کی پاکستان میں موجودگی کا احساس ہوتا رہا۔ یوں لگا کہ پروپیگنڈہ کا بادشاہ یہیں کہیں ہم میں موجود ہے، ہاں شاید اس کی مادی شکل بدل چکی ہو، اس کی آواز، آنکھیں پہلے جیسی نہ ہوں، وہ پہلے کی طرح چھوٹے سے قد کا کوئی لنگڑا شخص نہ ہو لیکن وہ ہم میں موجود ہے۔

پروپیگنڈہ ایک دن میں نہیں ہوتا، دہائیوں کی کوششیں ہوتی ہیں، مسلسل محنت ہوتی ہے، اذہان سازی کی جاتی ہے، لوگوں کے دماغوں میں جھوٹ انڈیلا جاتا ہے، مسلسل فراڈ کیا جاتا ہے، عوام کو زمینی حقائق سے دور کیا جاتا ہے اور نتیجتاً ایک ایسی قوم کی تشکیل ہوتی ہے جو شخصیت پرستی میں اپنے حقوق سلب ہوتے ہوئے دیکھتی رہتی ہے، اسے بتایا جاتا ہے کہ کوئی بھی امیر بنا ہے تو تمہاری دولت چوری کر کے بنا ہے، قوم کو لنگر لینے والی، بھیک مانگنے والی، فراڈ کرنے والی، جھوٹ بولنے والی قوم بنایا جاتا ہے۔ انہیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ امیر ہونے کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے، انتھک محنت، دماغ، سٹریٹجی کے بعد بھی کئی بار ناکامی ہوتی ہے، اسے یہ نہیں بتایا جاتا کہ انسانوں سے محبت کرنا سیکھو، سچ بولنا سیکھو، محنت کرنا سیکھو۔ اسے بس یہ سکھایا جاتا ہے کہ چور تمہارا پیسہ لوٹ کر لے گئے، ورنہ تم آج بڑی اچھی زندگی گزار رہے ہوتے۔ اسے یہ نہیں بتایا جاتا کہ کوئی ملک کتنا بھی امیر بن جائے۔ کام چور اور جھوٹے پروپیگنڈہ پر یقین کرنے والے پھر بھی غریب ہی رہتے ہیں۔

ہٹلر نے طاقت میں آتے ہی ایک وزارت بنائی جس کو  Ministry of Public Enlightenment and Propaganda کا نام دیا گیا اور وفاقی وزیر جوزف گوئبلز کو بنایا گیا۔ گوئبلز کا ماننا تھا کہ میڈیا کے جو ادارے اس کی پارٹی کی  مخالفت کریں ان کو سنسر شپ کی نذر کیا جائے اور ان تمام ذرائع کو فروغ دیا جائے جو اس کے ساتھ منسلک ہوں ۔ 1935ء میں ہٹلر کی انتظامیہ نے سرکاری طور پر ایک فلم پروڈیوس کی جس کا نام ’’Triumph of the Will‘‘ تھا۔ پروپیگنڈہ کی دنیا میں اس فلم کا آج بھی ایک عظیم مقام ہے۔ کیسے عوام کے ذہنوں کو بدلا جاتا ہے۔ پروپیگنڈہ کی طاقت دراصل ہوتی کیا ہے ۔ اگر کسی نے جاننا ہے تو صرف یہ فلم دیکھ لیں ۔ گوئبلز کا ماننا تھا کہ پروپیگنڈہ سے آپ عوام کے ذہنوں اور ان کی رائے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ بات جھوٹ ہے یا سچ ۔

گوئبلز کا مقصد تھا کہ ا س وزارت کے ذریعے ہٹلر کے ارد گرد ایک عقیدت کا ہالہ قائم کر دیا جائے۔ ہٹلر کو اس صدی کے سب سے عظیم رہنما کی طرح دکھایا جاتا تھا۔ وہ جرمنی کے عوام کی قسمت بدلے گا، ان کی غربت دور کرے گا، پہلی جنگ عظیم میں ملنے والی جنگی  ناکامی کو فتح  میں بدل کر جرمنی کو دنیا میں دوبارہ ایک باوقار ملک کا مقام دلوائے گا۔ صرف ہٹلر ہی ہے جو جرمنی کو گریٹ ڈپریشن سے باہر لا سکتا ہے، وہی ہے جو روزگار دے گا، گھر دے گا، فٹ پاتھوں پر سونے والوں کو پناہ گاہیں دے گا اور بھوکوں کو لنگر دے گا، کروڑوں نوکریاں، قرضوں سے آزادی، ملک میں امن و امان اور سب سے بڑھ کر جرمنی کے ہمسایہ ملک کو ہر محاذ پر شکست دے گا۔

گوئبلز کا پروپیگنڈہ دو طریقوں پر کام کرتا تھا، ایک طرف ہٹلر کو مسیحا کی طرح دکھایا جاتا تھا جبکہ دوسری طرف ایک دشمن پیدا کرنے  کی ضرورت تھی سو گوئبلز نے یہودیوں کو دشمن کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا۔ عوام کو یہ بتایا گیا کہ جرمنوں کا سارا پیسہ یہودی کھا گئے ہیں، یہودی چور ہیں، کرپٹ ہیں، الیکشن میں دھاندلی کرتے ہیں، بڑے بڑے محل بنا لئے ہیں۔ یہ سب ان کے باپ کا پیسہ نہیں بلکہ عوام کا پیسہ ہے۔ گوئبلز نے اس دور کے ڈیجیٹل میڈیا ٹول یعنی ریڈیو کا اس کیلئے استعمال کیا۔ 1934تک جرمنی میں 35لاکھ سے زائد ریڈیو کی فروخت ہوئی، یہ ریڈیو ہٹلر کی  تقریر لوگوں تک پہنچانے  کا کام کرتا تھا ۔

گوئبلز اپنے رہنما کے پبلک امیج کو بھی پروپیگنڈے کے اہم ٹول کے طور پر ا ستعمال کرتا تھا۔ ہٹلر روزانہ اپنے گھر میں مختلف تصاویر کھنچوایا کرتا تھا، ہنستے ہوئے، مکا لہراتے ہوئے، ایک  لیڈر کی طرح ۔ یہی سب مناظر آپ Triumph of the Will میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ عوام کو بتایا جاتا کہ یہ رہنما ہے جو عوام میں سے نکل کر ان کا رہنما بنا ہے۔ جس طرح آج کے دور میں آپ اکثر سوشل  میڈیا پر دیکھتے ہیں کہ سیاسی رہنمائوں کے روز نئے نئے پوسٹرز جاری کئے جاتے ہیں، اسی طرح گوئبلز بھی ہٹلر کے پوسٹرز جاری کیا کرتا تھا۔ آپ سوشل میڈیا پر اکثر پوسٹرز دیکھتے ہیں تو یہ گوئبلز کی پروپیگنڈہ پالیسی پر مکمل عمل کرتے ہوئے بنائے جاتے ہیں۔ طاقتور دکھانے کیلئے سیاسی رہنما کو سیدھی سٹریٹ لائن  میں تن کر کھڑا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ پیچھے عوام کھڑی ہے جو سب مل کر ترقی کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ آج سیاسی جماعتوںکے سوشل میڈیا پیجز پر روزانہ ایسے پوسٹرز جاری ہوتے ہیں جبکہ پروپیگنڈہ ٹول کے مطابق  ایک لیڈر کو دکھاتے ہوئے اکثر اس کے ایک دشمن کی بھی ضرورت ہوتی ہے سو مخالف سیاسی رہنمائوں کی میمز نظر آتی ہیں۔ سیاسی رہنمائوں کے میڈیا سیل مخالفین کو ایسے دکھاتے ہیں جیسے  کچھ بھی برا ہو رہا ہے تو ان کے مخالفین کی وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ انسانی نفسیات ہے کہ منفی چیزوں کو زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

گوئبلز نے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا، ہٹلر کو ایک لیڈر کی طرح پیش کیا اور اس کے نتائج جرمنی میں بدترین انسانیت سوز مظالم کی شکل میں سامنے آئے، جرمن عوام کے حقوق سلب کئے گئے، ان کا پیسہ لوٹا گیا، ان سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے، ان سے جھوٹ بولا گیا، دنیا کا بہترین ملک بنانے  کا وعدہ کر کے انہیں لنگر کی لائن میں لگا دیا گیا اور بھیک منگتا بنانے کی کوشش کی گئی اور مزے کی بات ہے کہ اس پروپیگنڈہ کا شکار اندھے لوگ لنگر کی لائن میں بھی کھڑے ہٹلر کو دعائیں دیا کرتے تھے۔ سینٹ کے انتخابات کے بعد اکثر لوگوں کو کہتے سنا کہ شفاف انتخابات ہوئے، ان سات اصحاب پی ڈی ایم کی معصومیت کا تذکرہ ہوا جنہیں معلوم تھا کہ کب ووٹ ضائع کرنا ہے اور کب نہیں۔ ذکر ہوا ان دوغلے سیاستدانوں کا جنہوں نے پی ٹی آئی سے غداری کی مگر پھر انہی سے عمران خان کو ووٹ لینا پڑے ۔ اوپن بیلٹ کی گردان سننے کو ملی مگر پھر چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے موقع پر یہ شفافیت کہیں تیل لینے چلی گئی اور پی ٹی آئی نے اپوزیشن کو للکار کر کہا۔ سات کا بدلہ سات ہوتا ہے۔ یعنی گوئبلز سینٹ انتخابات میں موجود تھا۔


ای پیپر