خطرناک کرونا اور خناس وائرس
16 مارچ 2020 2020-03-16

کرونا وائرس ، دنیا بھر میں خوف و دہشت کی علامت، عالمی وبا قرار، چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی یہ وبا دنوں میں پوری دنیا میں پھیل گئی۔ 5700انسان لقمہ اجل بن گئے۔ اٹلی، ایران، جرمنی، امریکا، روس، ناروے سب متاثر، شہر کے شہر سیل، وائرس سے نمٹنے کے لیے کھربوں ڈالر مختص، شہر شہر قرنطینہ، تیل کی قیمتیں گر گئیں، اسٹاک ایکسچینج کریش ہوگئے۔ عالمی جنگوں نے اتنا نقصان نہ پہنچایا ہوگا جتنا ایک ان دیکھے وائرس نے کردیا۔ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے، گلے ملنے سے گریز، دن بھر صابن سے ہاتھ دھونے اور منہ چھپانے کی ہدایات، ان دیکھی مخلوق، کوئی تسلیم کرے نہ کرے، مگر خدا کا عذاب، اللہ تعالیٰ انسانوں کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے وقتاً فوقتاً مظاہر قدرت دکھاتا رہتا ہے۔ انسان پھر بھی لا تشعرون، قدرت کے انداز نرالے یہی تو رب ذوالجلال کی حقانیت کی بین دلیل ہے کہ وہ معمولی مچھر سے ٹرمپ جیسے مطلق العنان اور متکبر حکمران نمرود کو ایسی موت سے ہمکنار کرے جو دنیا بھر کے مغرور اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والے حکمرانوں کے لیے نشان عبرت بن جائے۔ اس کی قدرت کے رنگ ڈھنگ نیارے، عذاب کے نئے انداز، کسی نا فرمان قوم کو طوفان سے تباہ کردے، کسی ’’فرعون وقت‘‘ کو غرق دریا کرے، ایک آدھ گناہ کرنے والوں کو ایک چیخ، بجلی کی کڑک یا پتھروں کی بارش سے نیست و نابود کردے، ابابیلوں کی چونچوں میں دبی کنکریوں سے ہاتھیوں کے لشکر کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح تباہ کردے، ان اللہ علی کل شئی قدیر، قادر مطلق، جنگ حنین میں بنی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کافروں میں گھر گئے، آپﷺ نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھائین اور کافروں کے گروہ پر پھینک دیں فرمایا اسودت الوجوہ (تمہارے منہ کالے ہوجائیں) جسے کنکری لگی ہلاک ہو گیا اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں توثیق فرمادی کہ ومارمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمٰی (اے نبی جب آپ نے کنکریاں پھینکیں وہ آپ نے نہیں اللہ نے پھینکی تھیں) ہم کہ سر سے پائوں تک گناہوں میں لتھڑی ہوئی قوم، برائیوں کی دلدل میں دھنسی ہوئی امت، کہنے کو تعداد میں سوا ڈیڑھ ارب لیکن 53 مسلم ریاستیں ایک غیر مسلم سپر پاور سے خوفزدہ ،کسی نہ کسی حوالے سے مطیع و فرماں بردار بلکہ غلام، اللہ تعالیٰ نے انتباہ کے لیے ایک معمولی وائرس بھیج دیا کہاں سے آیا، کیسے آیا، قدرت کا ان دیکھا عذاب، مسلم خواتین کے چہروں سے نقاب نوچنے والے اپنے چہرے چھپانے پر مجبور، ہر چہرے پر ماسک، ’’دیکھو تو قدرت نے یہ دن دکھائے‘‘ پورا یورپ وسطیٰ ایشیا، مشرق وسطیٰ، مشرق بعید، قدرت کے عذاب سے کوئی محفوظ نہیں، حتیٰ کہ سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک میں بھی مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ، امت مسلمہ کی بد قسمتی، حرمین شریفین سے طواف معطل، مطاف اور حطیم بند، پرندے طواف کر رہے ہیں، فرشتے محو طواف ہیں۔ ایک بابے سے پوچھا’’ بزرگو اللہ رسولﷺ کے منکروں اور کافروںپر عذاب برحق، مسلمان کیوں لپیٹ میں ہیں، بابا جی غضبناک ہو کر بولے ’’کون سے مسلمان؟‘‘

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

یہ مسلمان ہیں؟ جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

عذاب تو آئیں گے‘‘ عرض کیا عالمی معیشت تباہ ہوگئی۔ بولے’’ اپنی بات کرو ہم کتنے دور اندیش ہیں دنیا کی معیشت اب تباہ ہوئی ہے۔ ہم نے اپنی معیشت ڈیڑھ سال

پہلے ہی تباہ کرلی تھی‘‘۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے تو برملا کہا کہ لنگر خانے نہیں کارخانے بنائو، کارخانے نہ بنے تو پاگل خانے بن جائیں گے۔سیانوں نے کہا کارخانے بنانے والے تو چلے گئے اب تو پاگل خانے ہی بنیں گے۔ پاکستان کرونا وائرس کے ساتھ ایک اور وائرس کی زد میں بھی ہے، جسے’’ خناس وائرس ‘‘کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ وائرس سیاست دانوں کے دماغوں میں گھس کر انہیں بے چین کر رہا ہے۔ حکمران اپوزیشن سے اس ڈر سے ہاتھ نہیں ملاتے کہ اس وائرس میں مبتلا نہ ہوجائیں بلکہ اپوزیشن کو مبتلا کر کے کھڈے لائن لگا سکیں جبکہ اپوزیشن والے سارے ہی اس خناس وائرس میں مبتلا ہیں کہ باہمی اختلافات کے باوجود حکومت مارچ، اپریل یا چھ ماہ میں گرا لیں گے۔ یہ خناس وائرس بڑا طاقت ور ہے جس کا کوئی توڑ، کوئی جوڑ نہیں، جب ہی تو ملکی سیاست میں بھونچال کی کیفیت ہے ملک کرونا وائرس سے خوفزدہ ہے تو اپوزیشن سیاسی خناس وائرس سے نڈھال بلکہ منہ چھپائے نیب کے ’’قرنطینہ‘‘ میں قید ہے۔ حکومت کرونا وائرس سے پریشان، اپوزیشن حکومت سے نالاں، حکومت کو راہ دکھانے والے اپوزیشن لیڈروں کی اپنی راہ کھوٹی، ضمانتوں کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں، کوئی پوچھتا نہیں، ضمانتیں ہوجائیں تو بھی قرار نہیں’’ سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں‘‘ نیب میں بڑے بڑے کاریگر اور ماہرین قانون موجود ہیں، ادھر کسی کی ضمانت ہوئی دوسرے دن اس کے خلاف کسی اور معاملہ میں تحقیقات شروع تیسرے دن ضمنی ریفرنس دائر، سوالنامہ تیار، جوابات غیر تسلی بخش، آج تک کسی اپوزیشن لیڈر کے جوابات تسلی بخش قرار نہیں پائے۔ نواز شریف سوالناموں کے جوابات دیتے دیتے دل کا روگ لگا بیٹھے، حیرت ہے سرکاری ڈاکٹروں اور میڈیکل بورڈ نے ان کی حالت تشویش ناک بتائی باہر بھیجنے کی سفارش کی، کیا سارے ڈاکٹروں نے جھوٹ بولا تھا۔ نواز شریف کے ایک ازلی ابدی مخالف کالم نگار نے تو برملا کہہ دیا کہ نواز شریف بڑا ڈرامہ لوگوں کو خریدنے کے ماہر واللہ اعلم، وزیر صحت پنجاب جانیں یا پھر وزیر اعظم، باہر جاتے ہوئے منہ پر رونق آگئی تو وہ سمجھے کہ بیمار کا حال اچھا ہے، پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما اور نواز شریف کے سابق وکیل اعتزاز احسن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ نواز شریف بیمار نہیں آصف زرداری بیمار ہیں، یعنی باہر بھیجا جانے والا مریض بدل گیا۔ یہ بھی واللہ اعلم، اب ساری حکومت شکوک و شبہات کا شکار، شکار ہاتھ سے نکل گیا، تحقیقات کرالی جائے ڈرامہ ثابت ہوتو ڈاکٹروں اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو کڑی سزائیں دی جائیں، معاملہ کچھ نہیںِ سیاست میں بھونچال لانے کا ایجنڈا زیر بحث ہے۔ بے کار مباش کچھ کیا کر، بیکاری سے بیگاری بھلی، اپوزیشن کیا کر رہی ہے؟ کیا کرنا ہے وہی کر رہی ہے جو اس قسم کی حکومتوں میں اپوزیشن کیا کرتی ہے۔ دال پکا کر جوتیوں میں بانٹ رہی ہے۔ جس میں دال پکائی تھی وہ ہنڈیا شاہراہ دستور کے چوراہے میں پھوٹ گئی، ساری اپوزیشن دل سے حکومت مخالف ہے یا وہ بھی سیاسی ڈرامے بازی کر رہی ہے، یہ بھی واللہ اعلم، بظاہر تو ہر چھوٹا بڑا لیڈر سوتے جاگتے حکومت کو برا بھلا کہتا ہے۔ ہر ایک کی دلی آرزو کہ حکومت اگلے 5 منٹ میں ختم ہوجائے۔ لیکن عمل یکسر مخالف، ماشاء اللہ عملی اقدامات ایسے جن سے حکومت کے ہاتھ مضبوط ہوجائیں، ن لیگ سب سے آگے، 6 لیڈر اپنے قائد کو بھی لوٹا قرار دے کر لوٹے بن گئے۔ چھ ظاہر ہوئے ہیں مزید سامنے آکر بھونچال پیدا کردیں گے، یونس انصاری صحیح کہتے ہیں 52 کو سامنے لائوں گا، نواز شریف سے سلیکشن میں غلطی ہوئی یا سارے آسمان دنیا سے نازل ہوئے تھے کہ وقت آنے پر کوئی بھی اپنا نہ رہا۔ ن لیگ کو بھی ان دیکھے وائرس اور غیر مرئی مخلوق نے گھیر رکھا ہے، سمجھ لیا گیا ہے کہ چار کروڑ آبادی کے صوبہ کو ن لیگ سے نجات دلائے بغیر اقتدار مشکل اور دوام نا ممکن ہے۔ چنانچہ پہلے دونوں بھائیوں کو کسی غیبی این آر او کے تحت باہر بھیجا گیا، جب چلے گئے تو شور مچا دیا گیا بھاگ گئے پکڑو، لندن سے اشتہاری مجرم بنا کر لائیں گے، وزیر اعظم بھی این آر او نہیں دوں گا کی رٹ لگاتے رہ گئے۔ جنہوں نے دینا تھا انہوں نے این آر او دے کر باہر بھیج دیا۔ اوپر والوں نے نیچے والوں کو سمجھایا کہ بیمار نواز شریف سوا لاکھ کا، شہباز شریف لاکھ کا، دونوں کی موجودگی میں دال گلنے میں خوامخواہ تاخیر ہو رہی ہے، قدرت کے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے دونوں کے جاتے ہی اپوزیشن کے دیگر لیڈروں میں بھی تنقید کا وائرس گھس گیا، بلاول سمیت تمام لیڈر ایک دوسرے پر تنقید کرنے لگے گورنر پنجاب چوہدری سرور صورتحال بھانپ گئے۔ کہانی سمجھ میںآ گئی کہنے لگے اپوزیشن 2023ء تک آرام کرے ضد کرے گی تو بے آرام ہوگی، بے آرام تو ہونا ہی ہے، اپوزیشن میں وفاداریاں تبدیل کرانے والا وہی خناس وائرس گھس گیا ہے، جو کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک ہے، سیانے کہتے ہیں کرونا وائرس 15 دن پریشان کرتا ہے سیاستدانوں میں گھسنے والا وائرس 5 سال دربدر رکھے گا۔ کرونا وائرس میں ملوث 97 فیصد صحت یاب ہوگئے ہیں۔جبکہ خناس وائرس کا ڈسا پانی نہیں مانگے گا بلکہ کچھ اور طلب کرے گا۔


ای پیپر