ڈاکٹر مبشر حسن بھی رخصت ہوئے
16 مارچ 2020 2020-03-16

پیپلز پارٹی کے بانی رکن اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی، بلند پایہ دانشور، سیاستدان اور پالیسی ساز 98 برس کی عمر میں 14مارچ 2020ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ قحط الرجالی کے اس عہد میں ایک اور بڑا انسان رخصت ہوا۔ اس گھٹن اور حبس کے موسم میں مزید اضافہ ہو گیا۔ یوں تو آج کل بہار کا موسم ہے اور حالیہ بارشوں نے موسم کو مزید نکھار دیا ہے مگر سیاسی موسم حبس زادہ اور گھٹن کا شکار ہے اور اس حبس اور گھٹن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر مبشر حسن نے بھرپور زندگی گزار دی۔ وہ پیرا نہ سالی میں بھی متحرک رہے۔ محفلیں سجاتے رہے۔ لوگوں سے ملتے رہے۔ ان کی نماز جنازہ اسی گھر کے لان میں ادا کی گئی جہاں 30نومبر 1967ء کو پیپلز پارٹی نے جنم لیا تھا۔ ان کے پرانے دوست، رفیق اور ساتھی ان کو رخصت کرنے پہنچے۔

ڈاکٹر مبشر حسن بنیادی طور پر سول انجینئر تھے اور امریکہ سے سول انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ (Phd)کی مگر وہ 1960ء کی دہائی میں سیاست میں داخل ہوئے اور پھر بس اسی کے ہو رہے۔ انہوں نے 1967ء میں پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید، ملک معراج خالد اور دیگر رہنمائوں کے ساتھ مل کر پنجاب میں پارٹی کو

منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا پہلا مرکز 4مزنگ روڈ پر واقع شیخ محمد رشید کا دفتر تھا جو پنجاب پارٹی کا بھی پہلا دفتر تھا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی اسی دفتر میں بیٹھا کرتے تھے۔ پارٹی کے یہ تینوں بانی ارکان اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر مبشر حسن لاہور کے ایک حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ پارٹی کے لاہور کے پہلے صدر بھی تھے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے لاہور کی تمام نشستیں جیت لی تھیں۔ دسمبر 1971ء میں وہ وفاقی وزیر خزانہ اور منصوبہ بندی اور ترقی بنے۔ وہ 1974ء تک وفاقی وزیر رہے۔ انہوں نے 1974ء میں وفاقی وزارت سے استعفیٰ دے دیا اور جے اے رحیم کی جگہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل بن گئے۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے پیپلز پارٹی کے پہلے دورکی نیشنلائزیشن پالیسی کو بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ وزیر خزانہ کی حیثیت سے انہوں نے پارٹی کے منشور کے مطابق بے شمار اصلاحات کا آغاز کیا۔ انہوں نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ جولائی 1977ء تک وزیراعظم کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہے۔ اگرچہ انہوں نے مارچ 1977ء میں سیکرٹری جنرل اور مشیر کے

عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو نے ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مارچ 1977ء میں ایسے وقت میں استعفیٰ دیا تھا جب ملک میں قومی اتحاد کی تحریک عروج پر بھی لہٰذا اس استعفیٰ کے حوالے سے بہت زیادہ تحفظات موجود تھے اور آج تک اس معاملے پر ایک بحث اور نقطہ نظر موجود ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے چند سیاسی فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان پر اعتراض بھی کیا جا سکتا ہے مگر اس سے انکار ممکن نہیں کہ وہ ایک بڑے انسان ، سیاستدان، دانشور اور ماہر پالیسی ساز تھے۔

انہوں نے ہمیشہ ملک میں ترقی پسند سیاست سوشلزم کے نظریات، عوامی مسائل اور جمہوریت کی بات کی۔ انہوں نے تمام عمر سیاسی جدوجہد کی۔ اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور ملک کے انتظامی ڈھانچے، معیشت اور سیاست میں اصلاحات اور تبدیلی کیلئے کوشاں رہے۔

وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو کی بنائی گئی جماعت پیپلز پارٹی شہید بھٹو کا بھی حصہ رہے۔ انہوں نے میر مرتضیٰ بھٹو کے بعد اس جماعت میں شمولیت اختیار کی اور تین سال قبل تک اس کے پنجاب کے صدر رہے مگر اختلافات کے باعث اس جماعت سے استعفیٰ دے دیا۔

انہوں نے سیاست میں بہت عروج و زوال دیکھے مگر وہ اپنے نظریات پر مضبوطی سے کھڑے رہے۔ وہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل رہے۔ بھٹو صاحب کے قریبی ساتھی رہے۔ وفاقی وزیر رہے مگر اس کے بعد پارٹی سے ان کے اختلافات بھی ہو گئے وہ سیاسی تنہائی کا بھی شکار ہوئے۔ہزاروں کے جلسوں سے خطاب کرنے کے بعد وہ وقت بھی آیا جب وہ چند درجن ساتھیوں کے ساتھ مال روڈپر احتجاج کرتے نظر آتے تھے۔ وہ 90برس کی عمر میں بھی متحرک تھے۔ بعض لوگ ان کے چھوٹے مظاہروں کا مذاق بھی اڑاتے تھے مگر وہ کسی بھی پرواہ کیے بغیر اپنے موقف اور مطالبات کا اظہار کرتے تھے۔ وہ سوشل میڈیا پربھی متحرک تھے اور اکثر کرپشن کے خاتمے اور سیاست میں سرمائے کے عمل دخل کے خاتمے کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے NROپر بھی واضح موقف اختیار کیا اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ بھی لے کر گئے تھے۔ پیپلز پارٹی میں ان کے اس اقدام کو بھی پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔

اپنی وزارت کے دور میں انہوں نے پاکستان میں سائنس ، ٹیکنالوجی، جدت اور تحقیق کی ترویج کیلئے بہت کام کیا۔ انہوں نے سائنسی تحقیق کیلئے وظائف جاری کئے اور سائنسدانوں کیلئے مالی اعانت شروع کی۔ پاکستان نے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی طرف اپنے سفر کا آغاز بھی انہی کی وزارت کے دور میں کیا۔ وہ پاکستان میں سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی پسند سوچ کے پرجوش حامی تھے۔ انہوں نے 10کتابیں بھی تحریر کیں۔

وہ تمام عمر روشن خیالی، امن، انصاف اور طبقاتی نظام کے خاتمے کے لئے کوشاں رہے۔ وہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے بانی ارکان میں سے تھے اور انسانی حقوق کے تحفظ اور ترویج کیلئے کوشاں رہے۔ وہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان امن اور دوستی کیلئے بھی متحرک رہے۔ انہوں نے پاک انڈیا پیپلز فورم برائے امن کی بنیاد بھی رکھی۔

وہ ایک بڑے دانشور ، ترقی پسند سیاستدان اور اعلیٰ پائے کے منتظم اور ماہر تھے۔ پاکستان کے عوام ایک ایسی آواز سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئے جو ہمیشہ ان کے حقوق کے لئے بلند ہوتی تھی۔ ان کی وفات سے سیاست کا ایک اہم باب بند ہو گیا۔


ای پیپر