امر یکہ ،طا لبا ن امن معا ہد ہ ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟
16 مارچ 2020 2020-03-16

امر یکہ ،طا لبا ن امن معاہدے کے با رے میںایک مبصر نے کیا خو ب کہا ہے کہ گیند لڑھک رہی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اسے جال میں پھینکنے کی کامیابی کسے ملے گی۔تاہم فی الحا ل یہ دیکھنا ہو گا کہ اسو قت گیند کس کے کو رٹ میں ہے۔ کہنا یہ چا ہ رہا ہو ں کہ امریکہ، طالبان امن معاہدہ کے اثرات و مضمرات اور خدشات و نتائج رفتہ رفتہ سامنے لائے جارہے ہیں۔ خطے کی سیاست، تاریخی عوامل، بڑی طاقتوں کی دور اندیشی اور افغان عوام کو امن کی سوغات دینے کی کوشش کیا رنگ لائے گی اس پر کوئی بات کہنا قبل از وقت ہوگا۔، صدر اشرف غنی کو، دوسرے صدر عبداللہ عبداللہ کو یا اب تیسرے نامزد ’’صدر‘‘ ہیبت اللہ خان کو۔ صورتحال نے بلاشبہ ڈرامائی رخ اختیار کرلیا ہے۔ یقین و بے یقینی کی جنگ شدت پکڑ سکتی ہے، بہرحال صدارتی انتخابات کے بعد امن معاہدہ ہوا، ابتدائی نتائج کے مطابق اشرف غنی کو صدر منتخب قرار دیا گیا۔ تاہم چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے خود ساختہ صدر ہونے کا اعلان کردیا۔ یوں افغانستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار دو نہیں بلکہ تین شخصیات بیک وقت عہدہ صدارت کے دعویٰ دار ہیں۔ اس گنجلک، پیچیدہ اور اعصاب شکن مسئلہ کا کوئی حل ڈھونڈنا امریکہ سمیت تمام بڑی طاقتوں کا بنیادی ٹاسک ہوگا۔ اس وقت افغانستان کسی نئے بحران، خانہ جنگی اور بربادی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ ایسا پنڈورا باکس ہے جو ایک بار پھر عاقبت نااندیشی کے باعث پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ لہٰذا سٹیک ہولڈرز کو جو افغان امن صورتحال کے اہم جبکہ تزویراتی منظر نامہ کے کلیدی کردار ہیں۔ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے کثیر جہتی پلان لے کر میدان میں اترنا ہوگا۔

بہر حا ل یہ ایک خود توضیحی طرز احساس ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں متوازی حکومت کے قیام کی شدید مخالفت کردی جبکہ طالبان نے بھی نئے افغان صدر کا اعلان کردیا۔ ادھر افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی بھی شر وع ہوگئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم افغانستان میں متوازی حکومت کے کسی بھی اقدام اور سیاسی اختلافات کو حل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ وائس آف امریکہ کے مطابق افغان طالبان نے اپنی حکومت قائم کرنے اور ملک کے نئے سربراہ کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ ان کے سربراہ ملا

ہیبت اللہ ملک کے قانونی سربراہ ہیں اور غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کرلی جائے گی۔ دوسری جانب طالبان سے معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔ افغانستان میں امریکی فورسز کے ترجمان سونی لی گٹ نے کہا ہے کہ 135 دنوں میں فوجیوں کی تعداد 8600 کرنے کے لیے فوجیوں کی مشروط واپسی شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی مقاصد کی تکمیل بشمول انسداد دہشت گردی آپریشن اور افغان قومی دفاع اور افغان فورسز کی مدد فراہم کرنے کا اختیار محفوظ رکھتے ہیں۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر ووٹنگ کرے۔ ادھر افغان حکومت میں صدارتی دراڑ، طالبان قیادت کے تحفظات اور نئے اعلانات کے بعد داخلی صورتحال نے کشمکش

کو دوچند کر دیا ہے۔ روس بھی برہم ہے، اس نے امریکہ کے ساتھ اس نکتہ نظر کا اظہار کیا ہے کہ مشترکہ طور پر وہ افغانستان میں کسی افغان امارات الاسلامیہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ وہ مذہبی، نظریاتی اور شرعی طور پر اس امر کے پابند ہیں کہ افغانستان میں ایک اسلامی حکومت قائم کریں۔ سیاسی ذرائع اور سفارتی حلقوں نے پیدا شدہ بحران کے حل کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے امریکہ اور دیگر طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آتش فشاں پھٹنے سے پہلے اصلاح احوال کی کوئی تدبیر کریں، ورنہ خطہ آگ اور خون کی لپیٹ میں آجائے گا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا تھا کہ امریکیوں کو اندازہ تھا کہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین ایک پُرامن بقائے باہمی کا پیدا ہونا ناگزیر ہے اس کے بغیر وہ سیاسی اختلافات ختم نہیں کر سکتے اور ان کے درمیان تنازعات کی ایک وسیع خلیج بھی حائل ہے۔ طالبان کا انداز نظر یہ ہے کہ وہ ملا عمر کی ختم کی گئی حکومت کا ازسرنو احیا چاہتے ہیں اور اپنی ایک شرعی اسلامی شناخت کا تقاضہ بھی ان کی اولین ڈیمانڈ ہے۔ ’’ڈیلی آئوٹ لک‘‘ افغانستان نے لکھا ہے کہ افغانستان کی مخلوط حکومت کی مشترکہ سیاسی جدوجہد انتظامی استحکام مہیا نہیں کرسکی، افغان حکمران باہمی لڑائی اور پاکستان پر الزامات لگانے میں وقت اور توانائی ضائع کرتے رہے۔ جبکہ 14 برس تک افغان عوام کو یقین تھا کہ کسی نہ کسی دن الیکشن ان کے وطن میں امن و سلامتی کی نوید لائے گا۔ اب چونکہ یہ امید پیدا ہوچلی ہے ، اس لیے افغانستان کے قائدین کو لمحہ حاضر کی اہمیت کا ادراک کرنا چاہیے اور اپنے تمام اختلافات ختم کرکے امن معاہدہ پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کوشش تیز کرنی چاہیے۔

پا کستان کے وزیراعظم عمران خان سمیت چین، روس اور دیگر ملکوں نے صدر اشرف غنی کو مبارک باد دی ہے، تاہم اسی صدارتی محل کے ایک حصے میں عبداللہ عبداللہ کی حلف وفاداری بھی ہوئی ہے جس میں پاکستان سے اراکین قومی اسمبلی، سیاسی رہنمائوں اور سفیروں نے شرکت کی۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغان صدر اشرف غنی کے صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد قابل قبول جامع حکومت کی تشکیل کے عزم کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کے ترجمان سٹیفن کے مطابق سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سیاسی قائدین اپنے اختلافات کو ملکی قواعد و ضوابط، استحکام و یکجہتی کے مفاد اور آئینی حکم کے مطابق حل کریں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین افغانستان کے موجودہ صدر محمد اشرف غنی کو دوسری صدارتی مدت کے آغاز پر مبارک باد دیتا ہے۔ ترجمان گینگ شوانگ نے منگل کو پریس بریفنگ میں کہا کہ چین افغان عوام کے ملکی مستقبل کے اس آزادانہ فیصلے کا احترام کرتا ہے۔ ترجمان نے افغان کی تمام جماعتوں سے اپنے ملک اور عوام کے مفادات کو ترجیح دینے، اتفاق رائے پیدا کرنے اور پُرامن تعمیر نو اور مصالحت کے عمل میں آسانی پیدا کرنے کا مطالعہ کیا۔ ادھر خود ساختہ افغان صدر عبداللہ عبداللہ نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ میں بھی خود کو صدر قرار دے دیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ افغان امن معاہدہ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کیونکہ خطے میں امریکہ سمیت اہم عالمی رہنمائوں کی امن دوستی اور سیاسی بصیرت کا اصل امتحان شروع ہوچکا ہے۔


ای پیپر