ڈائٹ پلان
16 مارچ 2020 2020-03-16

عالمی سطح پر خوف کا جمود طاری ہے،میڈیا سے لے کر نجی محافل تک، تعلیمی اداروں سے لے کر پبلک مقامات تک ہر کوئی اک دوسرے سے خطرہ،خوف محسوس کر رہا ہے، آمدورفت ہوائی جہاز کی ہو یا افراد کی سب کو روک لگ چکی ہے، بازار سنسان ہیں، مارکیٹیں بند ہیں، جب اہل کشمیر کی آزادی کو مودی سرکار نے طاقت کے بل بوتے پر سلب کیا تھا ، زمین ان پر تنگ کردی تھی ، پوری ریاست کو جیل میں بدل کے رکھ دیا تھا، یہ کیفیت اب بھی جاری ہے تو بڑی طاقتوں بشمول مسلم ممالک کے سب نے رسمی طور پر اسکی مذمت کرنے ہی پر اکتفا کیا تھا، یہ محض اتفاق ہے یامقام عبرت ! آج دنیا کو ایک وائرس نے گھروں میں بند کر دیا ہے، مشرق اور مغرب میں بھی کوئی تخصیص نہیں ہے تاکہ انھیں بھی احساس ہو کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور انسان ہی انسان کی آزادی چھین لے اور مظلومین کی حمایت میں صدائے حق بلند کرنے سے اگرصرف نظر کیا جائے تو پھرقادر مطلق عوام الناس کے گرد گھیرا تنگ کر کے اسے سوچنے کی دعوت تو ضرور دیتا ہے۔

فی زمانہ جس وائرس سے پورے عالم کوسابقہ پیش ہے، اس نے ان تمام سرگرمیوں پر روگ لگا دی جس سے ریاست اور افرادکو واسطہ رہتا ہے، تاجر برادری کے کھربوں ڈالر ان کے سامنے ڈوب رہے ہیں،کاروباری سر گرمیاں ماند پڑ چکی ہیں،اس میں مسلم اور نان مسلم کی بھی کوئی تقسیم نہیں بے بسی کی سی کیفیت ہرسوہے ۔

نائین الیون کا سانحہ بھی عالمی برادری کو یاد ہوگاجب تاریخ کادھارا بدلا گیا، زندہ انسانوں پر بم گرائے گئے، باقاعدہ منصوبہ بندی سے خوف پیدا کیا گیا، اس موقع پر بھی مارکیٹ کریش ہوئی تھی، کاروبار ٹھپ ہوئے تھے، اسی طرح ائر پورٹ پر چیکینگ ہوتی تھی مگر اس وقت صرف مسلم دنیا ہی سے لوگ زیر عتاب تھے بالخصوص وہ جنکا تعلق اسلامی تحاریک سے تھا، ہر چند بعد کے حالات نے اس سازش کو بے نقاب کیا تھا،منزل مفادات سمیٹنا تھا امت مسلمہ تو اب تلک اس کا خراج دے رہی ہے، اخلاقی طور پر تو ان تمام کرداروں کو نہ صرف متاثرین سے معافی مانگنا چاہئے تھی بلکہ ان کے معاشی، جانی نقصان کا ازالہ بھی کرنا تھا مگر اخلاق اور انسانی حقوق کا درس دینے والے خود اس جذبہ سے اس لئے محروم ، کہ ان کے اخلاقی، انسانی اقدار کے پیمانے الگ الگ ہیں۔

کرونا وائرس کے پھیلائو کا سبب چین کے باشندوں کی حشرات سے خوراک قرار دیا جا رہا ہے، چینی قیادت بھی اس پر تحفظات رکھتی اور اسکی توپ کا رخ بڑی طاقت کی طرف ہے،اس سازش کے پیچھے کون ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ہالی ووڈ کی دکھائے جانے والی فلموں میں ایک پیغام اہل نظر کے لئے ضرور موجود ہے،، کس ہاتھوں پر لہو تلاش کیا جائے گا؟ اس کا فیصلہ تو مورخ ہی کرے گا ۔ اس کے مابعد اثرات کا ازالہ کون کرے گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے تاہم خود کو مہذب سمجھی جانے والی دنیاکو اپنی اپنی ادا پر بھی غور کرنا ہے ۔

طبی ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ بعض موذی بیماریوں کے پھیلائو میں ہماری خوراک کا شمار بھی ہے، اہل مغرب کی خوراک ان اجزاء پر مشتمل ہے جو کسی نہ کسی بیماری کو جنم دینے کی وجہ قرار پاتی ہے، ان میں قابل ذکر طاعون،سوائن فلو، پورک، ایڈز شامل ہیں، یہ بیماریاں جانوروں کا گوشت کھانے یا ایک دوسرے سے میل جول رکھنے سے جنم لیتی ہیں، اب تک کی وبائی امراض کے پھیلائو میں بڑا حصہ اہل مغرب کا ہے، کیونکہ وہ ان جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں جنہیں مسلمان حرام سمجھتے ہیں، جس میں شراب بھی شامل ہے،ہمارا دعویٰ ہے کہ کسی موذی بیماری کی شروعات مسلم کیمونٹی سے نہیں ہوئی کیونکہ ان کی ڈائٹ میںکوئی نقصان دہ چیز شامل نہیں، انکا ’’ ڈائٹ پلان ‘‘ اس ہستی کا مقرر کردہ ہے جس نے انکو پیدا کیا ہے، بھلا اس سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے کیا اس جسم کیلئے فائدہ مند ہے اور کس کو کھانا طبیعت اور سماج پر گراں گذرے گا ، اس حکم سے اللہ تعالی نے پوری انسانیت کو محفوظ کر دیا مگر اہل مغرب نے کھانے کے آداب سے لے کر اس کے اجزاء تک کو پس پشت ڈال کر پورے عالم کو مصیبت میں ڈال دیا ہے، مصومانہ سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک کے عوام کو ان کے نہ کئے کی سزا کیوں مل رہی ہے؟ انکے کاروباری، جانی نقصان کی ذمہ داری کون قبول کرئے گا۔

تاریخ میں یہ بڑا نازک موقع ہے جب اس کے مقدس مقامات اس قدرتی آفت کی زد میں ہیں، جو عوام مشرق میں آباد ہے اسکی بیماری کا ساماں بھی مغرب نے پیدا کر رکھا ہے، اپنے سوسائٹی کلچر کے مطابق اس نے بہت سارے فاسٹ فوڈ متعارف کرائے ہیںجن کو مشرقی ممالک میں بھی پسند کیا جا رہا ہے، مگر کون کون سے اجزاء اس کا حصہ ہیں اس بارے میں کوئی واضع ہدایات نہیں ہے بعض ماہرین کے مطابق ان بھی حرام جانوروں کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے بالخصوص وہ برانڈ جو عالمی شہرت کے حامل ہیں، ہمارے ہاں وبائی مرض کی ایک وجہ مذکورہ فاسٹ فوڈ بھی ہیں، کہا جاتا ہے کہ تیس سے زائد بیماریاں جانوروں سے پھیلائو کا سبب ہیں باقی چرند اور پرند کے کھانے سے ہوتی ہیں، وہ افراد جو مذکورہ حرام جانوروں، چرند، پرند سے اس لئے دورہیں کہ ان کا کھانا، پینا ان سے صحبت کرنا ہی حرام ٹھہرا ہے۔ایک تو موذی بیماری لانے کاسامان وہ غیر مسلم بنتے ہیں جو حلال حرام کی تمیز سے عاری ہیں دوسرا اس قماش کے لوگ ادویات اور ویکسین کی تیاری اور فروخت کے نام سے مسلم معاشروں کو لوٹتے ہیں۔ یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے ،ماہرین کا خیال ہے کہ سور، کتا، بلی، سانپ کا گوشت ہی موذی بیماریوں کی وجہ ہے، جبکہ مسلم آبادی کو تو انکا تصور کر کے ہی گھن آتی ہے کھانا تو بہت دور کی بات ہے۔

حرام جانوروں کا گوشت ان ممالک میں کھایا جاتا ہے جو عالمی برادری میں ایک مقام رکھتے ہیں اس لئے قیاس کیا جاتا ہے کہ زیادہ توجہ ویکسین کی تیاری، اسکی فروخت ، علاج معالجہ پر ہوگی کھانے پینے کا قانون مرتب ہی نہ ہوسکے گا، اس وقت امریکہ، یورپ میں ایشیائی باشندوں کی بڑی تعداد مستقل مقیم ہے جن کی غالب تعداد مسلمان ہے جن کوہر اس موذی بیماری سے پریشانی لاحق ہوتی ہے جو مغربی سماج میں پھوٹ پڑتی ہے۔ یہاں مقیم ان کے عزیزواقرباء بھی فکر مند ہو جاتے ہیں۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت دینا اب عہد جدید میں قدم رکھ چکی ہے، معلومات کا ایک خزانہ سب کی دسترس میں ہے، طب کے میدان میں کافی پیش رفت ہے اسکی بدولت موذی بیماریاں قابل علاج ہیں ، ماحول کی آلودگی سے پناہ کے لئے اگر عالمی برادری مل بیٹھ کر حل تلاش کر سکتی ہے ، اسلامی تحاریک سے وابستہ افرادپر غیر ضروری پابندیاں نافذ کر سکتی ہے تو اسکو کھانے پینے کے قواعدو ضوابط بھی وضع کرنا ہوںگے ہر اس ڈائٹ کو خلاف قانون قرار دینا ہو گا جو انسانیت کے لئے زہر قاتل ہے۔کم از کم امت مسلمہ کواقوام متحدہ سے قانون سازی کی التجا کرنا ہوگی جوہر بیماری کے لئے بغیر جرم سزاوار ٹھہرتی ہے۔


ای پیپر