پل پل بڑھتی مہنگائی سے عوام بے حال
16 مارچ 2020 2020-03-16

پاکستانی سیاست میں یہ روایت رہی ہے کہ یہاں جو پارٹیاں اپوزیشن میں ہوتی ہیں ان کے بیانات سے یوں لگتا ہے کہ عوام کا ان سے بڑھ کر کوئی خیر خواہ نہیں اور غریب آدمی کے مسائل کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ عوام کا جتنا درد ان کے دل میں ہے اور کسی کے دل میں نہیں ہے۔ حزبِ اختلاف کی یہ جماعتیں دعوے کرتی ہیں کہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد عوام کے مسائل کا حل اور انہیں ریلیف مہیا کرنا ان کی پہلی ترجیح ہو گی۔ حکومت سنبھالتے ہی عام آدمی کے تمام مسائل چٹکیان بجاتے ہی حل کر دیں گے۔ اسے مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات مل جائے گی اور عوام کا معیارِ زندگی پلک جھپکتے میں بلند ہو جائے گا۔ مگر جب یہی جماعتیں برسرِ اقتدار آتی ہیں تو عوام سے کئے گئے وعدوں کو یکسر فراموش کر دیتی ہیں اورطرح طرح کی تاویلیں گھڑنا شروع کر دیتی ہیں۔ ایسا ہی پی ٹی آئی کی جماعت نے کیا ہے جب وہ اپوزیشن میں تھی تو اس کے قائدین نے اپنے جلسوں، اخبارات کو دئے گئے انٹر ویوز اور چیلنلز کے پروگراموں میں عوام کی مشکلات دور کرنے کے دعوے کئے تھے۔ موجودہ حکمران اب عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کر چکے ہیں۔ حکومت آنے کے بعد سے عوام کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش رہا وہ مہنگائی ہے۔ خاص طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ گزشتہ سال کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں مہنگائی زیادہ بڑھی۔ سب سے زیادہ اضافہ تیل کی قیمتوں میں دیکھا گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کی لہر میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی آئل مارکیٹ میں تیل کی قیمت بہت گر چکی ہے لیکن ہمارے ہاں اس تناسب سے تیل کی قیمت کم نہیں کی گئی ہے۔

ایک ایسا ملک جس کی مجموعی آبادی کا 40 فیصد خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اس ملک میں مہنگائی کی ایک ایسی صورت بے حد تشویشناک ہے کہ دوسری جانب بیروزگاری بھی برق رفتاری سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ جو معاشرے میں بے یقینی اور اضطراب کو جنم دے رہی ہے۔ مایوسی، بد دلی اور غصہ چہار سو دیکھنے میں آ رہا تو حکومت کا فرض ہے کہ عوام کی زندگیاں سہل بنانے کے لئے انہیں مہنگائی کے عفریت سے نجات دلائے۔لیکن کیا حکومتی اقدامات سے مہنگائی کم ہو جائے گی؟ کیا حکومت

اپنی سطح پر قیمتیں کم کرنے والے اقدامات جیسے ٹیکسوں میں کمی جیسے فیصلے کرے گی یاصرف انتظامی طور پر قیمتوں کو نیچے لانے کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی؟ بظاہر تو یہ بات بہت مشکل دکھائی دے رہی ہے کیونکہ حکومت خود کہہ رہی ہے کہ معیشت کی رفتار بڑھانے میں وقت لگے۔ لیکن رفتار تو تب بڑھائی جائے گی جب معیشت کی کوئی رفتار ہو خواہ کم ہی ہو؟ یہاں معیشت کی رفتار تو دور کی بات ہے حقیقت یہ ہے کہ معیشت میں انجماد نظر آتا ہے ہاں رفتار الٹی ضرور ہے کہ آئے روز بازاروں میں اجناس اور سبزیوں کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

آج بڑھتی مہنگائی سے معاشرے کا ہر طبقہ پریشان ہے اور وہ سمجھ رہا ہے کہ کساد بازاری، مہنگائی اور بے روزگاری کی جانب سے عوام کا دھیان بھٹکانے کے لئے حکومت نئے نئے منصوبے لا رہی ہے لیکن ان پر عملدرآمد اس طرح سے نہیں ہو رہی ہے، ایک کے بعد ایک معلق منصوبے کا اعلان کر کے حکومت آگے بڑھتی جا رہی ہے لیکن عملدرآمد کی صورت مشکل سے ہی نظر آ رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اور خصوصی طور پر عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عوام خوش تھے کہ پہلی مرتبہ اس ملک کو ایسا وزیرِ اعظم ملا ہے جس کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ دھبہ نہیں ہے، اس لئے یہ اس ملک کو لوٹ کھسوٹ کر دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے والے اس ملک کے لٹیروں کو شکنجے میں لا کر نہ صرف اس ملک کے وسائل کو لوٹنے والے اور عوام کا خون نچوڑنے والے سیاست دانوں کو نشانِ عبرت بنا کر رکھ دے گا اور عوام کے لئے خوشحالی کے دروازے کھول دے گا اور عوام گزشتہ ادوار حکومت اور اس حکومت کے طرزِ حکمرانی میں واضح فرق محسوس کریں گے لیکن اب تک کے حکومتی اقدامات سے تو ایسا لگتا ہے کہ عوام کے لئے تاریکی کی رات اور گہری اور لمبی ہوتی جا رہی ہے جو کہ عوام کو مایوسی کی گہری اور تاریک کھائی میں لے جا رہی ہے۔پاکستانی عوام کی موجودہ حکومت سے امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ عوام نے اس امید پر پی ٹی آئی کو ووٹ دئے تھے وہ اقتدار میں آ کر ان کے مسائل حل کریں گے۔ انہیں مہنگائی ، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلائیں گے لیکن یہ ان کی خام خیالی ثابت ہوئی۔ عوام کی توقعات کے برعکس پچھلے ڈیڑھ سال میں ان کے مصائب شدید ہو گئے ہیں۔ بالخصوص آسمان کو چھوتی گرانی نے ان کے اوسان خطا کر دئے ہیں۔ موجودہ دورِ حکومت میں مہنگائی کے عفریت نے جس تیزی سے عوام کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس کے پیشِ نظر یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی ایسا قانون ہے اور نہ کوئی ادارہ جو حسبِ منشا مصنوعات کے نرخ بڑھانے والے صنعت کاروں، مل مالکان، تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں کی پکڑ کر سکے۔ حکومت نے خود بھی گرانی کو مہمیز دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ڈیڑھ سال میں پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کے نرخ کئی بار بڑھائے گئے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے۔

حکومت کو وزیرِ اعظم عمران خان کے انتخابی نعروں اور وعدوں کے قطعی برعکس آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی اداروں کے بیل آؤٹ پیکیج کے لئے بھی جانا پڑا اور نئے ٹیکس روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی بتدریج بڑھانا پڑے اور اسی طرح قومی معیشت کے استحکام کی خاطر عوام کو کڑوی گولی کھانے پر بھی مجبور کرنا پڑا تاہم وزیرِ اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت سے عوام کی توقعات اس کے برعکس تھیں جو سابقہ حکومتوں کی عاجلانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں ملک میں بڑھنے والی مہنگائی ، یوٹیلٹی بلوں میں اضافہ، بے روزگاری، لاقانونیت اور حکمران اشرافیہ طبقات کی کرپشن کی داستانوں سے عاجز آ کر عمران خان کے ساتھ اپنے اچھے مستقبل اور کرپشن فری سوسائٹی کے لئے بے شمار امیدیں وابستہ کر چکے تھے اور اسی تناظر میں عوام نے عمران خان کو وفاق اور صوبوں کے لئے اقتدار کا مینڈیٹ دے کر انہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا تھا تاہم پی ٹی آئی کے اقتدار کے آغاز ہی میں اقتصادی اصلاحات سے متعلق اس کے مشکل اور غیر مقبول فیصلوں کے نتیجہ میں عوام کے غربت، مہنگائی ، روٹی روزگار کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھنے لگے عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت سے وابستہ عوام کی امیدیں بھی ماند پڑنے لگیں۔ اب حکومت روز ہی اعلان کر رہی ہے کہ ملک مشکل حالات سے نکل گیا ہے لیکن عوام کو پھر بھی کسی قسم کا ریلیف نہیں مل رہا ہے اور اس کے برعکس حکومت مزید مشکل فیصلے کرنے کا عندیہ دے رہی ہے۔ اس سے آنے والے دنوں میں عوام کی جو درگت بنے گی حکومت کو اب بہر صورت اس کا ادراک کرنا ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کے مصائب بالخصوص مہنگائی کا حقیقی معنوں میں ادراک کرتے ہوئے اس کی کمی کے لئے اقدامات کرے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عائد ٹیکس میں کمی کی جائے، بجلی کے نرخ نیچے لائے جائیں اور اشیائے صرف پر ناجائز منافع کمانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ ان اقدامات سے گرانی کی شرح نیچے آئے گی اور حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا جو اس وقت پستیوں کو چھو رہی ہے۔


ای پیپر