مفاہمت کی سیاست اور محمد شہباز شریف
16 مارچ 2020 2020-03-16

پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بعض ایم این ایز اور سینیٹرز نے محمد نواز شریف کے بیانیہ کی حمایت کی۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں جذباتی تقریریں کی گئی کہ قائد محمد نواز شریف کے بیانیہ کو پس پشت ڈال کر نقصان اُٹھایا، پارلیمان میں ہماری کارکردگی پر عوام افسوس کا اظہاار کررہے ہیں، ہمیں محمد نواز شریف کے بیانیئے پر چلنا ہوگا ورنہ عوام بھی ہمارا ساتھ چھوڑ جائیں گے، پارٹی میں مشاورتی دائرہ کار کو بڑھایا جائے ، اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ بھی کیا گیا جس کی تمام اراکین نے تائید کی۔ تقرریں کرنا بہت آسان کام ہے اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔جب محمد نواز شریف احتساب عدالت اسلام آباد میں 100سے زیادہ پیشی بھگت رہے تھے اُس وقت یہ ایم این ایز اور سینیٹرز پیشی پر آتے تھے۔ محمد نواز شریف کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ جاری تھا۔اُن ایم این ایز و سینیٹرز نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو انھیں ادا کرنا چاہیے تھا ۔ مسلم لیگ (ن) کے جو سینیٹرز و ایم این ایز انقلابی بن گئے تھے۔ جب وہ مسلم لیگ (ن) حکومت میں وزیر و مشیر تھے۔لیگی عہدیداروں و کارکنوں سے ملاقات تک کرنا گوارہ نہیں کرتے تھے۔ مخلص و نظریاتی کارکنوں کو مکمل نظرانداز کر دیا گیا تھاجس کی وجہ سے کارکن مشکل وقت میں قیادت کے لیے قربانی دینے کے لیے گھروں سے نہیں

نکلے ۔ اگر یہ انقلابی حضرات قیادت کو غلط مشورے نہ دیتے تو محمد شہباز شریف کی مفاہمت پالیسی پر عمل کیا جاتا۔ انھیں فری ہینڈ دیا جاتا دوسری بار بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی پارٹی اور قیادت کے لیے مشکلات بھی نہیں ہوتی انقلابی حضرات نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو باور کرایا تھاکہ ترکی کے طیب اردگان کی طرح پاکستان میں بھی لاکھوں لوگ نکلیں گے اور انقلاب آئے گا لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔

ملک کو گزشتہ 18ماہ میں اقتصادی اور سفارتی محاذ پر نقصان پہنچایا گیا تقریباً 10لاکھ سے زائد لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں اقتصادی ماہرین کے مطابق GDP کی شرح 2.9فیصد ہونے کی وجہ سے رواں مالی سال 10لاکھ افراد مزید بے روزگار ہوجائیں گے۔اور مزاحمتی پالیسی کی وجہ سے تحریک انصاف کو اقتدار دلوایا گیا ، تحریک انصاف کی صورت میں جو تجربہ کیا گیا وہ ناکام ہو چکا ہے ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو سوچنا چاہیے کہ ملک اہم ہوتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ملک کی خاطر ماضی کی تلخیاں بھلا دینی چاہیے کیونکہ سیاسی محاذ آرائی ، پسند ناپسند اور انا کی سیاست نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ بنگلہ دیش معاشی ترقی میں پاکستان سے آگے نکل گیا ہے ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش 2030ء میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائیگا اور پاکستان ترقی پذیر ممالک کی صف میں رہیگا ۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کو بھی وطن آنا چاہیے اور ان کے مفاہمت کی پالیسی کو جاری رکھنا چاہیے ۔مسلم لیگ (ن) مزاحمتی جماعت نہیں زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہیے مسلم لیگ (ن) میں اکثریت محمد شہباز شریف کی مفاہمتی پالیسی کی حامی ہے ۔ملک اور قوم کے بہترین مفاد کو دیکھتے ہوئے محمد شہباز شریف کو ملک کو درپیش سنگین بحرانوں سے نکلنے کے لیے موقع ملنا چاہیے ۔ جس طرح انھوں نے دس سالوں میں پنجاب کو ترقی یافتہ صوبہ بنایا اور انقلابی اقدامات اُٹھائیں چین ، ترکی سمیت یورپ بھی ان کے قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں محمد شہباز شریف کو وطن آکر چاروں صوبوں کے دورے کرنے چاہیے مخلص اور نظریاتی کارکنوں کو اہم عہدے دینے چاہیے اور پارٹی کو منظم کرنا چاہیے ان کے بیرون ملک مزید قیام کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کو مزید مشکلات درپیش آسکتی ہیں ۔ پارٹی میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی بھی ان کی وطن واپسی چاہتی ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے لیے بڑے بھائی محمد نواز شریف کی بیماری سب سے اہم ہے ۔کیونکہ وہ محمد نواز شریف کی والد کی طرح عزت و احترام کرتے ہیں محمد نواز شریف کو وفادار ، مخلص بھائی نصیب ہوا ہے جو ہر مرحلے مشکل سے مشکل ترین وقت میں بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔


ای پیپر