مغرب زدہ خواتین اور ہماری اسلام پسندی
16 مارچ 2019 2019-03-16

گزشتہ 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کراچی فریرہال میں کچھ این جی اوز کی نمائندہ خواتین اور ان کے ساتھیوں نے بڑے بڑے اور نمایاں پلے کارڈز کے ساتھ عورت مارچ کے نام سے جو ریلی نکالی۔۔۔ آزادی نسواں کے مختلف نعروں کے تحت جن خیالات، تصورات اور مطالبات کا بلند بانگ اظہار کیا یا دوسرے الفاظ میں اپنے لیے مادر پدر آزادی کا استحقاق مانگا۔۔۔ اباحیت پسندی میں اس حد تک چلی گئیں مردوزن کے تعلقات کو رسم نکاح کی پابندیوں سے بھی آزاد کر کے رکھ دینے کا مطالبہ کر ڈالا۔۔۔ پورے ملک کے اندر اس واقعے کی بازگشت سنی گئی۔۔۔ اس نے ملک بھر کے راست باز دانشوروں ، اہل علم و قلم اور مسلم سماج کی اعلیٰ قدروں کے محافظوں کی آنکھیں کھول کر رکھ دی ہیں ۔۔۔اس سوچ میں پریشاں نظر آتے ہیں کہ بگاڑ نے اگر مزید خرابی کی صورت اختیار کر لی تو دیکھا دیکھی ہماری بہترین سماجی اقدار تتر بتر ہو کر رہ جائیں گی۔۔۔ چنانچہ جس انداز میں ریلی نکالی گئی جو مطالبات کیے گئے اور جس طرح کے پلے کارڈز اٹھائے گئے اس نے کم از کم میڈیا کے اندر ایک ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔۔۔ کیا ہمارے مرد وزن کو واقعی نکاح کی شرائط اور دوسری پابندیوں سے ماورا ہو کر مغربی معاشروں کو بھی پیچھے چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔ یہ اور اس سے متعلقہ دوسرے سوالات ہمارے ذرائع ابلاغ کے اندر بڑا موضوع بن گئے ہیں کہ اگر کھلی فحاشی پر مبنی مطالبات اور مظاہروں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو کہاں جا کر رُکے گا۔۔۔

تشویش اپنی جگہ بجا لیکن جو رد عمل سامنے آیا ہے وہ فکری اور عملی طور پر اتنا ہی سطحی ہے جتنے کھوکھلے مطالبے ان مغرب زدہ خواتین و حضرات نے بلند کیے ہیں۔۔۔ جس طرح ہمارا ہر عام آدمی مغرب کی چکا چوند سے بہت متاثر ہے۔۔۔ اس کی سطح آب پر ابھرنے والی تصویر کی نقالی کر نے کا شوقین ہے۔۔۔ ان کی کامیابی کے اصل راز تک نہیں پہنچتا۔۔۔ نہ ان جیسی تخلیقی اور امور دنیا میں اجتہادی خوبیوں کو حرز جان بنا دینے کی خواہش یا ارادہ رکھتا ہے، اسی طرح حالیہ یوم خواتین کے موقع پر مظاہرہ کرنے والی خواتین اور ان کے ساتھی حضرات کو لمحہ موجود کی ترقی یافتہ اقوام کی ظاہری اور کھلی ادائیں بہت پسند آئی ہیں اور وہ سوچے سمجھے بغیر ان پر لٹو ہوئے جا رہی ہیں۔۔۔ یہاں جس وارفتگی کا اظہارکیا گیا ہے وہ ان معاشروں کے نظر آنے والی دلفریب حرکات اور طرز زندگی پر ہے۔۔۔ ان کی کامیابی کی تہہ تک پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔۔۔ نہ اصل الاصول کو لے کر اسے اپنے تہذیبی سانچوں میں ڈھال دینے کا عزم اور ارادہ رکھتا ہے۔۔۔ اسی طرح رد عمل میں خیالات و افکار پیش کرنے والے ہمارے تہذیبی و رثے اور اعلیٰ اقدار ار کو عزیز ازجاں رکھنے والے قدیم خاندانی نظام کے محافظین نے جواب کے طور پر جو اپنا مقدمہ پیش کیا ہے اس میں صرف روایتی یا اصولی باتیں کی گئی ہیں جن کے اگرچہ سچ یا حقیقت ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر محض انہیں دہرا دینے سے مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔۔۔ مثلاً یہ کہ اسلام سب سے پہلا دین یا مذہب ہے جس نے عورت کو عزت کا اس وقت مقام دیا جب یورپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، اُسے ایسے عہد میں آزاد فرد کی حیثیت دے کر ترقی پسند انہ قدم اٹھایا جب اسے زیادہ سے زیادہ گھر کی باندی بنا کر رکھا جاتا تھا۔۔۔ اسے دوسرے درجے کی مخلوق کی حیثیت سے نکال کر تقریباً مرد کے برابر کا درجہ دیا۔۔۔ وراثت میں حصہ تسلیم کیا۔۔۔ مرد کو اگر طلاق دینے کا اختیار حاصل تھا تو عورت کے لیے بھی خلع کا حق تسلیم کیا گیا۔۔۔ اسے ذاتی کاروبار کرنے اور ذاتی آمدنی پر پورے تصرف کا اختیار دیا گیا۔۔۔ نان و نفقہ با وجود اس کے کہ بیوی کما کر لاتی ہو شوہر کی ذمہ داری قرار دیا گیا اور یہ کہ مرد کو جن امور پر تفوق حاصل ہے اس کا سبب مرد و زن کی خلقت میں ودیعت، جبلی اور فطری خصائص کی بنا پر ہے نہ کہ عورت کو محکوم محض بنا کر رکھنے کی خاطر یہ اور دوسری باتیں اگرچہ روز روشن کی طرح حقیقت کا درجہ رکھتی ہیں لیکن کیا کبھی اس پر کسی نے غور کرنے کی زحمت فرمائی ہے کہ بر صغیر کے جس مسلم معاشرے میں ہم صدیوں سے پروان چڑھتے چلے آ رہے ہیں اس میں پائے جانے والی اقدار کی جڑیں کیا فی الواقع اسلام کی معاشرتی تعلیمات یا سنت رسول ؐ کے ذریعے ہم تک پہنچنے والے نظام زندگی میں پائی جاتی ہیں، وہ معیاری نظام زندگی جس کا دن رات زبانی چرچا کرتے ہم نہیں تھکتے کیا عملاً بھی ہمارے یہاں رائج ہے ذرا پاکستان کے شہروں ، قصبات اور دیہات کے اندر جوان ہوتی اور شادی کی فطری عمر کو پہنچنے والی لا تعداد لڑکیوں کی ذہنی اور جذباتی حالت زار پر غور کیجئے جس کا وہ ہماری نام نہاد معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے کھل کر اپنے بزرگوں کے سامنے بھی اظہار نہیں کر سکتیں ان میں سے کئی ایک کی جوانی ڈھل رہی ہوتی ہے، بالوں میں سفیدی آنا شروع ہو جاتی ہے اور کچھ تو بیچاری ایسی ہوتی ہیں جو صبح اٹھ کر آئینے کے سامنے آئیں تو چہروں پر جھریاں دیکھ کر ان کے اندر کا اضطراب اور پریشانی کو اظہار کی زبان بھی نہیں ملتی۔۔۔ یہ سب وہ ہیں جن کے والدین خواہش کے با وجود ان کے ہاتھ پیلے نہیں کر سکتے اپنے آپ کو ان کو پیا کے ساتھ رخصت کرنے کے قابل نہیں پاتے اس لیے کہ بیٹیوں کی شادی کے بھاری اخراجات کے متحمل نہیں ہوتے۔۔۔ یہ وہ تمام اخراجات ہیں جن کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے نہ سنت رسول ؐ سے مثال ملتی ہے۔۔۔ نہ اس معاشرے میں ان پر عمل ہوتا تھا ۔۔۔ جسے اسلام نے اپنے سنہری دور میں پروان چڑھایا۔۔۔ ان میں سب سے زیادہ خرچہ جہیز پر کیا جاتا ہے۔۔۔ جس کی کوئی مثال ہمیں حقیقی اسلامی معاشرے کے اندر نہیں ملتی ۔۔۔ قرآن میں جہاں جہاں عورتوں کے حقوق یا ان کے واجبات کا ذکر آیا ہے ۔۔۔ جہیز کا اشارہ تک نہیں ملتا۔۔۔ اللہ کے آخری نبی ؐ نے جن ازدواج ؓ سے شادیاں کیں یا صحابہؓ کے نکاح پڑھائے وہاں لڑکے کی جانب سے مہر کی رقم تو زوجہ کو براہ راست ادا کی جاتی تھی۔۔۔ اسی کی ملکیت تصور ہوتی تھی مگر لڑکی یا اس کے گھر والوں کی جانب سے کسی قسم کے خرچے کا تصور نہیں ملتا۔۔۔ حضور ؐ نے اپنی صاحبزادی سیدہ طاہرہ فاطمہؓ کو رخصتی کے وقت جو مشکیزہ اور ایک آدھ دوسری چیزیں عطا کیں وہ حضرت علیؓ کی جانب سے پیش کردہ مہر کی رقم سے خریدی گئی تھیں۔۔۔ اسی طرح ہمارے یہاں 50 سے لے کر سو دو سو بلکہ کئی پرانے خاندانوں میں ہزار تک کی تعداد میں بارات لے کر جانے کا جو رواج پایا جاتا ہے اور لڑکی والے ان کی شاندار دعوت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔۔۔ اس کا عہد نبوی یا خلافت راشدہ کے ادوار میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔۔۔ اس دور کی دلہنیں بھی ہماری رسوم کی مانند زیوروں سے لد پھد نہیں ہوتی تھیں۔۔۔ اس طرح جہیز اور شادی کے دوسرے اخراجات ملا کر امیروں اور رؤسا کی بات چھوڑ یے۔۔۔ نچلے متوسط طبقے کے والدین کو بھی پندرہ سے 20 لاکھ روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے اور جو اس کے متحمل نہیں ہو سکتے ان کی یوں سمجھئے کہ عزت لٹ کر رہ جاتی ہے۔۔۔ آبرو خاک میں مل جاتی ہے۔۔۔ قرض کے بوجھ تلے آجاتے ہیں۔۔۔ نتیجے کے طور پر کئی ایک کی بیٹیوں کی وقت پر شادی نہیں ہو پاتی۔۔۔ مناسب اور کماؤ لڑکے کا رشتہ نہیں ملتا۔۔۔ جہیز کی رسم جاگیردارانہ نظام کی پیداوار ہے جہاں بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا مگر شادی کے موقع پر گھریلو ضرورت کا کچھ سامان دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے اسی علت کا شکار متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ بھی ہو گئے ہیں۔۔۔ کیا کبھی کسی نے سوچنے کی زحمت گوارہ کی ہے کہ یہ جو لڑکیاں ماں باپ سے بغاوت پر اتر آتی ہیں، گھروں سے بھاگ جاتی ہیں۔۔۔ اور کچھ تو جیسے تیسے آشنا سے مرضی کی شادی رچا کر والدین کی نام نہاد عزت کو برباد کر کے رکھ دیتی ہیں۔۔۔ وہ بیچارے کسی کو شکل دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔۔۔نوبت عزت کے نام پر قتل تک جا پہنچتی ہے۔۔۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اسلام اس کا ہر گز ذمہ دار نہیں۔۔۔ لیکن ہم جو اسلام کے نام لیوا بنے پھرتے ہیں خود کو اعلیٰ مسلم اقدار کا مخافظ گردانتے ہیں اور مغرب زدہ خواتین کی بے راہ روی کی مذمت کرتے نہیں تھکتے، کیا ہمارے علماء اور صلحا یا اہل قلم و دانشوروں کے کسی بڑے گروہ نے مل کر ان ظالمانہ جکڑ بندیوں کے خلاف أوثر اور نتیجہ خیز مہم چلائی ہے۔۔۔ لاکھوں کی تعداد میں ان مسائل کا شکار کنبوں کو اس مصیبت سے نجات دلانے کی حقیقی فکر کی ہے؟ کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہو۔۔۔ کوئی بڑی این جی او وجود میں لائی گئی ہو۔۔۔ کسی شہر یا قصبے کے شرکاء کو ملا کر جہیز اور شادی کے دوسرے غیر ضروری لیکن بڑے مصارف کے خلاف نفرت کی مہم پھیلائی ہو۔۔۔ ہمارے علماء، واعظین اور اسلام دوست دانشور حقوق نسواں کے نام پر کسی بڑی تحریک کے داعی اور علمبردار بن کر سامنے آئے ہوں۔۔۔ ایسی کوئی بڑی اور قابل ذکر مثال ہمارے یہاں نہیں ملتی۔۔۔ بس چند سیاسی قسم کے لوگ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کبھی کبھار اجتماعی شادیوں کا ڈھونگ رچا دیتے ہیں۔۔۔ اس سے آگے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ سوال یہ ہے کہ شرافت کے نام نہاد پردے میں لپٹی ہوئی ایسی ظالمانہ اقدار اور جکڑ بندیوں سے تنگ آئی ہوئی لڑکیاں آگر مغرب زدہ خواتین کے پروپیگنڈے کا چارہ بنتی ہیں اور ان کے دلائل کو غذا فراہم کرتی ہیں اور بدنام بیچارہ اسلام ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ؟ ہمارے علماء ہمارے اسلام پسند دانشور ، یا ہم تقدیس مشرق کے محافظ بن کر لکھنے والے اور بولنے والے !

ایک اور مسئلہ جس کی اسلام کھل کر اجازت دیتا ہے لیکن ہماری جڑوں کے اندر ہندوروایات کی آبیاری کی وجہ سے اس کی بُری طرح تکذیب کی جاتی ہے وہ ہے مرد کو اگر وہ انصاف کر پائے تو دوسرے تیسرے یہاں تک کہ چوتھے نکاح کی اجازت ہے۔۔۔ اہل مغرب نے تو اس کا حل یہ نکالا ہے کہ آزاد معاشرہ ( permissive society ) قائم کر لیا ہے۔۔۔ عیسائیت میں طلاق ممنوع ہونے کے با وجود ان کی خاندانی زندگیوں کا معمول بن گئی ہے۔۔۔ یوں ازدواجی حصار (wedlock) سے باہر نکل کر جنسی روابط قائم کرنا معیوب نہیں رہا۔۔۔ طلاق کے عام ہو جانے کی وجہ سے ایک فرد کے لیے زندگی میں یکے بعد دیگرے تین تین چار چار شادیاں رچانا تعجب کی بات نہیں سمجھی جاتی۔۔۔ لیکن اسلام کے بارے میں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اس نے کثرت ازدواج کی اجازت دے کر مرد اور عورت دونوں کی جبلت اور جسمانی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے طلاق اور خلع کی اجازت دے کر ہر دو صنفوں کے اندر پائے جانے والے جسمانی تقاضوں کا پاس و لحاظ کیا ہے۔۔۔ کتابوں اور وعظوں کی حد تک اس اصول کا بہت پرچار کیا جاتا ہے۔۔۔ لیکن نام نہاد شرافت کے پردے میں لپٹے ہوئے وضعدار اور مسلم کہلانے والے جس معاشرے کی ہم پیداوار ہیں کیا اس میں پہلی بیوی کی موجودگی میں تیسری یا چوتھی شادی تو بہت دور کی بات ہے نکاح ثانی کو بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔۔۔ ذرا غور کیجئے کہ اسی ایک سبب کی بناء پر کتنی لڑکیوں کی شادی ہو سکتی تھی جو شوہروں کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔۔۔ ہمارے یہاں شادی کے قابل کتنی مطلقہ اور بیوہ عورتیں نکاح ثانی کے شرعی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کی بناء پر بے آسرا یا مشترکہ خاندانی نظام کے اندر خواری کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔۔۔ جہاں ان کی حیثیت یا مقام نہیں ہوتا۔۔۔ حالانکہ حضور سرور کائنات محمد رسول اللہ ؐکا ارشاد گرامی ہے کہ ’’اپنی مطلقہ یا بیواؤں کا جلد از جلد نکاح کرو‘‘۔۔۔ انہیں تو ولی کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ لیکن بیچاری اپنے طور پر کوئی اقدام کرنے کی جرأت کرے تو ہماری نام نہاد عزتوں پر حرف آجاتا ہے اور کئی ایک کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا جاتا ہے۔۔۔ مگر کیا کسی کو اندازہ ہے کہ تمام تر پردہ داری کے باوجود ہمارے یہاں زنا کتنا عام ہو گیا ہے۔۔۔ بدکاری ہے کہ پھیلتی چلی جا رہی ہے۔۔۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کسی کو پروا نہیں۔۔۔ یہ ہے وہ معاشرتی اور سماجی صورت حال جس سے مغرب زدہ خواتین اور ان کے ہمنواؤں کو اباحیت پسندی کے حق میں بھرپور غذا ملتی ہے۔۔۔ وہ اپنے دلائل میں وزن پیدا کرتے ہیں۔۔۔ مقصد ان کا بھی یقیناًنیک نہیں ہوتا لیکن فرسودہ تر روایات میں جکڑا ہوا ہمارا طرز ندگی انہیں کیا سب کچھ کہنے اور کرنے کا موقع فراہم نہیں کرتا۔۔۔ ہم اسے دیکھ اور سن کر سیخ پا بہت ہوتے ہیں۔۔۔ لکھتے اور بولتے بھی خوب ہیں۔۔۔ مگران کو کم متاثر کرتے ہیں، اپنے جھوٹے ضمیروں کی تسلی کا زیادہ سامان فراہم کرتے ہیں۔۔۔ خرابی کے اسباب پر نگاہ نہیں ڈالتے نہ انہیں دور کرنے کا ارادہ یا سعی کرتے ہیں۔۔۔


ای پیپر