کرتی ہے حاجت شیروں کو رُوباہ
16 مارچ 2019 2019-03-16

حالیہ یومِ نسواں پر این جی اوز، موم بتی مارکہ متنازعہ مارچ پر باشعور طبقہ بھنا اُٹھا۔ اس مرتبہ تو بظاہر لبرل طبقہ بھی حیا باختہ پلے کارڈز پر نہایت برافروختہ نظر آیا، جو تہذیب، حیا، اقدار کی ساری حدیں پھلانگ کر سڑکوں پر لہرائے گئے۔ خاندان توڑنے، عورت کو منتشر خیالی اور ہیجان خیزی کی دلدل میں دھکیلنے کے سارے پیغام یک جا تھے۔ فخریہ اعلان: ’میں آوارہ میں بدچلن‘۔ (’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘ کا دیا جانے والا سبق پکا ہو گیا ہے انہیں) حیا سوز لباس میں چہرہ ماسک تلے چھپائے۔ ’اکیلی، آوارہ، آزاد‘۔ ’میرا جسم میری مرضی‘۔ ’اپنا کھانا خود گرم کرو‘۔ ’مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے ‘۔ ’اگر دوپٹہ اتناپسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو‘‘۔ یہ تو وہ ہیں جو کسی درجے میں لکھے جا سکتے تھے۔ تاہم ذہنی افلاس اور اخلاق باختگی قابلِ رحم اور لائقِ علاج ہے ۔ اصلاً جو ایجنڈہ مغرب کا مسلم معاشروں میں خاندان توڑ ابتری پھیلانے کا ہے ۔ عورت کو گھر سے بے گھر کرنے اور آزادی کے جھانسے میں دربدر کرنے کا ہے ، وہ کسی خوش فہمی کا شکار ہو کر اس مرتبہ ’فاسٹ فاروڈ‘ پر (بہت تیز) چلا دیا گیا اور عزائم یوں بے نقاب ہوئے کہ لوگ بوکھلا گئے۔ حالانکہ وہ اپنے ایجنڈوں میں ’ٹائٹس‘جیسی حیا سوز بیہودہ بے لباسی عام کر چکے۔ تعلیم اور روزگار کے نام پر بہت ابتری پھیلا چکے۔ تاہم اتنی بے باک بغاوت اور ’مرد دشمنی‘ کے لیے معاشرہ تیار نہیں۔ ویسے سمجھے پوچھے جانے کی بات تو یہ ہے کہ یہ ’مرد‘ کے نام پر جو طوفان اٹھاتی ہیں، مسلم معاشرے میں وہ ’مرد‘ کہاں ہوتا ہے ؟ آج بھی ہمارے ہاں ’مرد‘ نہیں۔ مہربان، شفیق رشتوں میں گندھے باپ، بھائی، شوہر، بیٹا، چچا، ماموں، نانا، دادا، بھانجا ، بھتیجا ہوا کرتے ہیں۔ ہر رشتہ محترم، محبوب، محافظ، غیور۔ رہے معاشرے کے عام مرد، تو نارمل مہذب گھروں میں عورت کا ان سے کیا واسطہ؟ ان سے برتنے، نمٹنے کو یہ محرم محافظ رشتے موجود ہیں اگر عورت ’اکیلی‘ آوارہ، آزاد کے زعم میں پاگل نہ ہوئی پھرے؟ یوں بھی جب یہ عورتیں سڑکوں پر رل رہی تھیں اپنے سول سوسائٹی دفتر والوں کے ہمراہ، اس وقت نارمل عورت 8 مارچ سے بے خبر گھر میں تھی۔ دوپہر میں بریانی، پائے، میٹھے کے ساتھ! مکان کو گھر بنانے والی عورت۔ گھر کے میٹھے رشتوں میں محبت بانٹتی، داد سمیٹ رہی تھی خوش ذائقہ کھانے کی۔ ان کھلکھلاتے خوش باس گھرانوں کے ہاتھوں فرسٹریشن کا مارا شیطان، سڑکوں پر جنہیں نکال لایا تھا وہ فاسٹ فوڈ کے صحت شکن باسی برگر اور سیاہ مشروب پر گزارا کر رہی تھیں۔ جس عورت کا نام لے کر وہ سینہ کوبی کرتی ہیں وہ گھر میں سکینت سے رہ رہی ہے ۔ مغرب کی جس عورت کو آئیڈیل بنا کر وہ ان راہوں پر بھٹک رہی ہے ذرا اسے بھی دیکھ لیں۔ اسرائیلی یہودی پروفیسر ڈاکٹر مورڈی چائی کیدار ، جو اسرائیلی خفیہ ایجنسی کا اہل کار بھی رہا ہے ، عرب دنیا ، سیاسیات ، اسلامک گروپس کا ماہر ہے ۔ اس کی رپورٹ ملاحظہ ہو جس کے مطابق ہزاروں نوجوان یورپ امریکہ، آسٹریلیا، حتیٰ کہ اسرائیل میں مسلمان ہو رہے ہیں۔ اس کی وجوہات میں سرِ فہرست مغرب کے ٹوٹے گھر ہیں۔ طلاق گزیدہ والدین، شراب منشیات کے نشے میں دھت ، اولاد کو جذباتی تحفظ، محبت کی گرمائش جو شخصیت سازی کا اہم ترین جزو اور نارمل زندگی کا لازمہ ہے ، نہیں دیتے۔ لڑتے جھگڑتے ساتھی بدلتے گھروں کے برعکس مسلمانوں کے ہاں گرمجوشی، والہانہ استقبال، مہمانوازی سکینت جو انہیں ملتی ہے وہ ان کے اپنے ہاں کے خود پرست، تنہائی گزیدہ (اکیلی، آوارہ!) سرد مہری کے مارے ، بے روح طرزِ زندگی سے یکسر مختلف ہے ۔ حوصلہ افزائی، امدادِ باہمی، محبت کے میٹھے بول ان کے دل جیت لیتے ہیں۔ پروفیسر کے مطابق، نو مسلم یہ کہتے ہیں کہ اسلام ان کی زندگی کو ایک مقصد ایک جہت عطا کرتا ہے ۔ سالہا سال کے فکری جمود، روحانی خلا، مادیت، لادینیت میں غرق تشنہ طرزِ زندگی کے بعد، انہیں صحیح اور غلط کا پیمانہ یہاں مل جاتا ہے ۔ وہ آگے بڑھ کر بخوشی شتر بے مہار آزادی ترک کر کے اسلام کی پابندیاں قبول کرتے ہیں۔ زندگی منضبط اور ذہنی افق وسیع تر ہو جاتا ہے ! (تم جس آزادی کو پکار رہی ہو، وہ اس کی تلخیاں سہہ کر اب خود کو لا الٰہ الا اللہ کے عہد میں باندھ رہے ہیں بہ رضا و رغبت)۔ ہمارے امریکہ قیام کے دوران جن امریکی لڑکیوں نے اسلام قبول کیا، سرتا پا حجاب کی پاکیزگی انہوں نے لپک کر قبول کی۔ ان کی خوشی یہ بھی تھی کہ اب شوہر ہماری ذمہ داریاں اٹھائے گا اور ہم بچوں سے مہکتی پر سکون گھریلو زندگی پا سکیں گے نوکریوں اور فکرِ معاش سے آزاد! مذکورہ رپورٹ میں بھی نو مسلمات کے حوالے سے یہی لکھا ہے کہ اسلام اخلاقیات اور حیا کو ابھارتا ہے جو ان کے اپنے معاشرے میں عنقا ہے ۔ وہ اپنے ہاں کی حیا باختہ مادر پدر آزاد، منشیات شراب میں لتھڑی زندگی سے بیزار ہو کر اعلیٰ اقدار والی اسلامی زندگی کو ترجیح دیتی ہیں۔ اسلام میں راحت عزت اور احترام سے پُر پذیرائی ملتی ہے اپنے ہاں کی تذلیل اور جنسی استحصال کے برعکس۔ گزشتہ سالوں میں مغربی عورتوں کی وہ رپورٹ بھی آئی تھی جس میں وہ پریشر ککر کو جپھی ڈالے اس حسرت میں مبتلا دیکھی جا سکتی ہے کہ یہ میں نے بہت چاہت سے خریداتھا۔ کاش میں اسے استعمال کر سکوں (تنہائی اور نوکری کی مصروفیت موقع/ خواہش نہیں چھوڑتی) یہ حسرت کہ کاش شوہر ہوتا (پارٹنر نہیں) جس کے لیے پکاتی، گرم کرتی ، موزہ ڈھونڈتی!

سو یہ ایک پیکیج ہے جو تم نے خود منتخب کرنا ہے اے قابلِ رحم عورت! نیا جھگڑا کھڑا نہ کرو۔ اب 24 مارچ کو ’مرد مارچ‘ تیار ہے یہ کہتے ہوئے کہ ’اپنی چھپکلی خود مارو‘، ’سیرپ کا ڈھکنا خود کھولو‘، ’موزہ چھوڑو دوپٹہ ڈھونڈو‘! کیا دیوانگی ہے ! ملک وقوم پر دشمن نظر یں اور دانت گاڑے کھڑا ہے اور نوجوان کن جھگڑوں کی نذر ہیں؟ یہ بھرے پیٹوں اور این جی اوز کا شاخسانہ ہے ورنہ وزیر خزانہ علیٰ الاعلان فرما رہے ہیں۔ ’مہنگائی مزید بڑھے گی عوام کی چیخیں نکل جائیں گی‘ بے روزگاری ، گیس بجلی بحران، معاشی ابتری ’تبدیلی‘ کے عنوان تلے بڑھی چلی آ رہی ہے ۔ آئی ایم ایف کے قرضے اب مل جائیں گے۔ ایٹمی پاکستان سے نمٹنے کا یہ معاشی فارمولا ہمیں سر اٹھانے نہیں دے گا۔ ادھر ابھی تو طالبان امریکہ مذاکرات اور اسی دوران طالبان کی جانب سے پے در پے عسکری کارروائیاں اور مبہوت کن کامیابیاں جاری تھیں۔ جن پر دنیا بھر کے میڈیا کا دم بخود سناٹا جاری تھا۔ ایسے میں ڈچ صحافی خاتون بیٹی ڈیم کی پانچ سال ملا عمر کی تلاش پر مبنی کتاب سامنے آ گئی۔ ترجمان طالبان نے بھی اسی سلسلے کی تصاویر اور بیان جاری کر دیا۔ اسلامی امارات افغانستان کی قیادت ملا عمرؒ نے جس خستہ حال کچے چھوٹے سے گھر سے کی۔ وہائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور 49 چمکتے دمکتے لدے پھندے ممالک کی فوجوں کو شکست دی۔ ان کا دشمن ان کی بہت بڑی بیس سے صرف 3 میل کے فاصلے پر بلا سکیورٹی کھلے کچے گھر میں مقیم رہ کر 7 سال بعد ان کی ناک کے نیچے اپریل 2013ء میں انتقال کر کے دفن ہو گیا۔ دو سال بعد خود طالبان کے مطلع کرنے پر سٹیلائٹوں کے گھن گرج والے ہائی ٹیک ماسٹروں کو خبر ملی! ان کے انتقال کے دن علاقے میں شدید ژالہ باری سے بے شمار امریکی جہاز ہیلی کاپٹر سو ا ستیاناس ناکارہ ہو گئے۔ آسمان نے اپنی توپوں سے سلامی دی جی دار سپہ سالار کو ! عمر فاروقؓ سے ملا عمرؒ تک رومن ایمپائر کی کہانی میں مماثلت کتنی ہے ! دنیا میں اس خبر کی گونج نے تہلکہ برپا کر دیا۔ اشرف غنی کے سکیورٹی مشیر حمد اللہ محب نے اسے پراپیگنڈہ قرار دیا۔ حقائق کا انکار کرتے ہوئے! کیا کیجیے کہ اب تو افغان فوج بھی امریکیوں سے اروزگان میں جھگڑ پڑی۔ حملہ کر دیا۔ امریکی فضائیہ نے جوابی بمباری کر دی۔ یہ امریکی تابوت کا آخری کیل ہے ۔ افغان باقی کہسار باقی۔ الحکم للہ! الملک للہ! رہے ہم؟ تو۔۔۔ کرتی ہے حاجت شیروں کو روباہ! ہم پیٹ اور کشکول کے ہاتھوں خوئے اسد اللہی سے محروم رہے امریکہ کے آگے دبے جھکے۔


ای پیپر