لمحہ۔۔’’زکر۔یہ‘‘۔۔
16 مارچ 2019 2019-03-16

دوستو،عام زندگی میںآپ نے نوٹ کیاہوگا کہ کچھ معاملات ایسے آپ کے سامنے آتے ہیں کہ جنہیں آپ بلاشبہ ’’ لمحہ فکریہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔۔ اسی طرح کسی بھی نارمل انسان کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات بھی لازمی آتے ہیں جنہیں آپ ’’ لمحہ زکریا‘‘ کہہ سکتے ہیں، یعنی ایسے یادگار واقعات اور باتیں جنہیں آپ اپنے دوستوں، احباب اور رشتہ داروں سے ضرور شیئر کرتے ہیں۔۔آئیے آج کچھ ایسی ہی کچھ باتوں کا ذکر کرتے ہیں جسے پڑھ کر آج آپ اپنا چھٹی کا دن انجوائے کرسکتے ہیں۔۔

عوام جب بھی حکومت سے کوئی مطالبہ کرتے ہیں تو آگے سے انہیں ٹکا سا جواب دے دیا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے۔۔ کسان کو سبسڈی نہ دو کیوں کہ خزانہ خالی ہے۔۔بجلی مہنگی کردو کیونکہ خزانہ خالی ہے۔۔گیس مہنگی کر دو کیونکہ خزانہ خالی ہے۔۔ کھادیں مہنگی کردو کیونکہ خزانہ خلی ہے۔۔تیل کی قیمتیں بڑھادو کیوں کہ خزانہ خالی ہے۔۔یونین فنڈ روک دو کیونکہ خزانہ خالی ہے۔۔ اسپتالوں اور ادویات کی قیمتیں بڑھا دو کیوں کہ خزانہ خالی ہے۔۔موبائل فون مہنگا کردو کیونکہ خزانہ خالی ہے۔۔بڑھانی ہے تو ارکان اسمبلی کی تنخواہ بڑھا دو کیوں کہ یہ بے چارے بہت غریب ہیں۔۔ یہ سب کچھ عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہے اور ہمارے لئے لمحہ زکریہ۔۔سوچنے کی بات ہے کہ تنخواہیں بڑھانے کے قانونی ڈرافٹ کو متفقہ طور حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے منظور کرلیا۔۔پنجاب اسمبلی میں کوئی شورشرابہ ہوا۔۔نہ ہی ا سپیکر صاحب نے کسی کو باہر نکالا نہ شیم شیم کے نعرے لگے نہ ارکان گتھم گتھا ہوئے نہ واک اوٹ ہوا اورنہ ہی پنجاب اسمبلی کے باہر اجلاس ہوئے ۔۔ یہ عوام کے لئے واقعی لمحہ فکریہ ہے اور ہمارے لئے لمحہ زکریہ۔۔

پاکستان میں لوگ ٹریفک اشاروں کو سمجھنے سے قاصر ہیں لیکن آنکھوں کے اشارے سمجھنے میں’’ پی ایچ ڈی ‘‘ کر رکھی ہے۔۔ یہ واقعی سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔۔کہتے ہیں کہ کراچی ملک کا سب سے امیرترین اور سب غریب پرورشہر ہے، جہاں ایک سے بڑھ کر ایک شاندار اسپتال اور علاج کی جدید سہولیات ہیں۔۔ ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ اندرون سندھ کے نوے فیصدسرکاری ڈاکٹر صرف اس بات کی تنخواہیں لے رہے ہیں کہ۔۔اس مریض کوفوری کراچی شفٹ کردیں۔۔کراچی میں کسی بھی اچھے اسپتال میں ڈاکٹرکی کم سے کم فیس پانچ سوروپے ہے۔۔اسی طرح بلوچستان جو ملک کا سب سے غریب ترین صوبہ ہے اس کے دارالحکومت کوئٹہ میں ڈاکٹر کی فیس ایک ہزار روپے ہے۔۔کوئٹہ میں ایک شخص کو معدے کی کوئی تکلیف ہوئی تو کوئٹہ کے ڈاکٹر نے ایک ہزار روپے فیس لی۔۔پانچ قسم کی دوائیاں لکھ ڈالیں اور کہا کہ یہ دوائیں دو ماہ تک استعمال کریں، جس کی قیمت چار ہزار روپے بنی۔۔اس طرح مریض کو پانچ ہزار روپے خرچ کرنے پڑے۔۔ اتفاق سے وہ مریض کراچی اپنے کسی رشتہ دار سے ملنے آیا تو کراچی کے اچھے سے اسپتال میں کسی ڈاکٹر کو پانچ سوروپے فیس دے کر اپنا طبی معاینہ کرایا۔۔ڈاکٹر نے اس مریض کو صرف ایک ٹیبلیٹ لکھ کردی اور 1 ہفتہ استعمال کرنے کا مشورہ دیااس ٹیبلٹ کی قیمت صرف 150 روپے تھی۔۔ جب مریض نے پرہیز سے متعلق ڈاکٹر سے دریافت کیا تو وہ مسکرا کر بولا۔۔ کوئٹہ کے ڈاکٹر سے پرہیز کرنا۔۔۔ یہ واقعہ بلوچستان کے عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہے اور ہمارے لئے لمحہ زکریہ۔۔

ہمارے پیارے دوست نے دعویٰ کیا ہے کہ ۔۔انگریزی میں ’’لوٹے‘‘ کو وکٹ کہاجاتا ہے۔۔ہم نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے۔۔جب بھی کوئی لوٹا پارٹی تبدیل کرتا ہے تو شوراٹھتا ہے کہ ایک اہم وکٹ گرادی۔۔باباجی علیہ ماعلیہ کا فرمان عالی شان ہے کہ ۔۔کچھ لوگ اتنے گندے ہوتے ہیں کہ قمیض سے ناک صاف کرتے ہیں حالانکہ گھر میں دس جگہ پردے لٹکے ہوتے ہیں۔۔ہمارے پیارے دوست جوابھی تک کنوارے ہیں ، کہتے ہیں کہ۔۔مسجد سے تو ہماری بہت جوتیاں اکثر اٹھائی گئی ہیں اب اگلی بار انشاء اللہ’’ سالی ‘‘ہی اٹھائے گی۔۔باباجی کا بھی کہنا ہے کہ ۔۔سنا ہے کہ پرانے زمانے میں بیویاں رات کے کھانے پہ شوہر کا انتظار کیا کرتی تھی کہ یہ آئیں گے تو کھائیں گے۔۔ لمحہ فکریہ تویہ ہے کہ بیویاں اب بھی انتظار کرتی ہیں کہ یہ لائیں گے تو کھائیں گے۔۔ویسے اس بات میں بھی سوفیصد سچائی ہے کہ ۔۔ امائیں لڑکی ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں تو سمجھ نہیں آتاکہ لڑکی میں ایسا کیا ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں ہر لڑکی میں عیب نکال کے جو شاہکار لاتی ہیں دو ماہ بعد اسے چڑیل قراردے دیتی ہیں۔۔ہمارا بھی تمام نوجوانوں کے لئے کھلا پیغام ہے کہ جس جس کا محبوب پتھردل ہے ہمیں جلدی سے بتادے۔۔ہمارا گھر بن رہا ہے ، سیمنٹ بجری کے ساتھ ساتھ پتھروں کی بھی اشد ضرورت ہے۔۔باباجی کے لئے تو یہ بات بھی لمحہ فکریہ ہے کہ پتہ نہیں جنت میں انہیں پینے کو حقہ ملے گا بھی یا نہیں۔۔ایک دن ہم باباجی سے فون پر باتیں کررہے تھے۔۔ہم چائے پی رہے تھے اور وہ خون۔۔

آپ سب کے لئے یہ بات بھی لمحہ فکریہ اور ہمارے لئے لمحہ زکریہ ہے کہ ۔۔اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ،میں جھوٹ نہیں بولتا،تویہ وہ فقرہ ہے جو آج کل کے دور میں بولنے والا ہر شخص جھوٹے بولتے ہوئے بول رہا ہوتا ہے۔۔لوگ کہتے ہیں ،ہمیشہ اپنے دل کی سنو،پرہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ اب بندہ ، دھک ، دھک ، کا کیا مطلب سمجھے؟؟باباجی فرماندے نے۔۔۔مرد کا دل بس کی طرح ہوتا ہے۔ بس فل بھی بھری کیوں نہ ہو ،نئی سواریوں کیلئے جگہ بن ہی جاتی ہے۔ تْسی وی آجاؤ ، تْسی وی آجاؤ ، تے تْسی وی آ ہی جاؤ۔۔۔ایک دن ہم نے باباجی کو لاجواب یہ سوال پوچھ کر کردیا کہ۔۔ یہ جوغصہ آتا ہے،پیدل آتا ہے یا رکشے پر؟؟۔ ۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے۔۔ہمارے پیارے باباجی نے ایسا سوال کردیا کہ جو سب کے لئے تو نہیں سندھ حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔۔باباجی پوچھتے ہیں کہ ۔۔اگر موٹروے جنگی جہازوں کیلئے استعمال ہو سکتی ہے تو سندھ کی سڑکوں کے کھڈے بھی بطور مورچے استعمال کئے جاسکتے ہیں کیا؟؟ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔کیا ترکی بہ ترکی کا جواب اٹلی بہ اٹلی سے دیاجاسکتا ہے؟؟

آج پی ایس ایل کا فائنل ہے اسی مناسبت سے ایک تازہ واقعہ بھی سن لیجئے۔۔۔ ہم گزشتہ شب باباجی کی بیٹھک میں تشریف فرما تھے، دنیا بھر کے موضوعات پر باباجی کی ’’فکری نشست‘‘ جاری تھی۔۔باباجی کا جب لیکچر چل رہا ہوتا ہے تو سامنے والے کی وہ ایک نہیں سنتے۔۔نیوزی لینڈ میں مساجد کے اندر فائرنگ کے واقعہ پر بات کرتے کرتے اچانک فرمانے لگے۔۔میں نے تین لوگوں سے زیادہ بدنصیب کسی کو نہیں دیکھا۔۔ہم ذہنی طور پر الرٹ ہوگئے۔۔ ان تین لوگوں کے بارے میں پوچھاتو کہنے لگے۔۔ایک تو وہ شخص جوپرانے کپڑے پہنے جب کہ اس کے پاس نئے کپڑے ہوں۔۔دوسرا وہ شخص جس کے پاس کھانا ہو اور پھر بھی بھوکا رہے۔۔یہاں پہنچ کر باباجی اچانک چپ ہوگئے اور ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔۔ہم حیرت زدہ رہ گئے۔۔پوچھا،باباجی وہ تیسرا بدنصیب کون ہے؟؟ باباجی نے دھوتی کے پلو سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔۔وہ تیسرا شخص لاہور قلندر کا مالک ہے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔خوش رہیں چاہے اس کے لئے آپ کو’’خوش فہمی ‘‘میں ہی کیوں نہ رہنا پڑے کیونکہ خوشی انمول ہے۔


ای پیپر