سانحہ نیوزی لینڈ کے مرکزی ملزم پرعدالت کے باہر ’’چاقوسے حملہ‘‘
16 مارچ 2019 (19:50) 2019-03-16

کرائسٹ چرچ :کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گذشتہ روز مساجد میں کی جانے والی دہشتگردی کے مرکزی ملزم کو آج صبح کرائسٹ چرچ کی عدالت میں پیش کیاگیا۔ جہاں عدالت نے اس کا 5 اپریل تک ریمانڈ منظور کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ برینٹن ہیریسن پر ابتدائی طور پر قتل کی دفعات لگائی گئی ہیں لیکن اس پر مزید دفعات بھی لگائے جانے کا امکان ہے۔ جبکہ مزید لوگ بھی زیر حراست ہیں۔اٹھائیس سالہ آسٹریلوی شہری برینٹن ہیریسن نے عدالت میں پیشی کے دوران ریلیف یا ضمانت کی اپیل نہیں کی نہ ہی برینٹن کے وکیل نے ایسا کوئی مطالبہ عدالت کے سامنے رکھا۔

اس واقعہ کی تحقیقات میں نیوزی لینڈ پولیس کر رہی ہے جس میں آسٹریلوی پولیس بھی بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے۔نیو ساتھ ویلز پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر مائیک ولنگ کا کہنا ہے کہ خطے کا انسداد دہشتگردی یونٹ بھی اس سلسلے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ مرکزی ملزم کی عدالت پیشی کے دوران غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بندکیا گیا تھا۔ لیکن عدالت کے باہر کافی تعداد میں لوگ جمع تھے جنہوں نے سماعت سے قبل ہی اسے پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔

جیسے ہی مرکزی ملزم کو عدالت لایا گیا ایک چاقو بردار شخص نے عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ نیوزی لینڈ ہیرلڈ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص نے میڈیا کو بتایا کہ وہ برینٹن پر چاقو کے وار کرنا چاہتا تھا۔ ملزم کو عدالت میں قیدیوں کے سفید سوٹ میں پیش کیا گیا۔ برینٹن نے عدالت میں کسی سے کوئی گفتگو نہیں کی اور خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن دوران سماعت برینٹن انتہا پسند سفید فام تنظیم کا نشان بناتا رہا۔


ای پیپر