دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے
16 مارچ 2019 2019-03-16

خبریں آرہی ہیں کہ مسلم لیگ(ن)23مارچ کو نواز شریف کے حق میں ایک مارچ کر نے جا رہی ہے بس نواز شریف کی اجازت کا انتظار ہے ۔ تازہ ترین خبر اگرچہ یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نے کارکنوں کو مظاہرہ کرنے سے منع کر دیا ہے ۔ میرا خیا ل ہے کہ نوازشریف کو 13جولائی 2018 بہت اچھی طرح یاد ہو گا جب لندن سے واپسی پر انہیں اور ان کی بیٹی کو گرفتار کر لیا گیا اور شہباز شریف بس اندرون لاہور میں اپنے کارکنوں کا لاحاصل لہوگرمانے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ میں نے پہلے بھی اپنے کالم میں لکھا تھا کہ 13جولائی کو اگر شہباز شریف اور باقی (ن) لیگ کی قیادت کارکنوں سمیت ائیر پورٹ پر پہنچ جاتی توآج پاکستان کی ملکی سیاست کا منظر نامہ کچھ اور ہونا تھا مگر شہباز شریف ایک لالی پاپ کو دیکھ کر مصلحت کا شکار ہو گئے وہ لالی پاپ جو ان کو بعد میں ملا بھی نہیں۔پنجاب بھی ہاتھ سے گیا اور باپ جیسا بھائی ابھی تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے مجھے (ن) لیگ کی سٹریٹجی بلکہ ہر ذی شعور شخص کو یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ یہ لوگ کون سی سیاست کر رہے ہیں قومی اسمبلی سے لے کر سینٹ تک کوئی با ا ثرآواز نواز شریف کے لیے نہیں اٹھ رہی اگر کوئی آواز آرہی ہے تو وہ ٹاک شوز پر سنائی دیتی ہے مگر متعلقہ فورم پہ نہیں۔خواجہ سعد نیب کیسز میں جیل میں اور (ن) لیگ کی قیادت میں کسی نے بھی خواجہ سعد رفیق کی حوالے سے کوئی با اثر تحریک نہیں چلائی۔خواجہ سعد رفیق بھی سوچ رہے ہوں گے کہ جس کو بھائی کا خیال نہیں آیا وہ ان کے لیے کیا کر سکتا ہے دوسری اہم بات جوکام ن لیگ کا تھا وہ پیپلز پارٹی کر رہی ہے ۔

بلاول بھٹو سے لیکر خورشید شاہ اور آصف زرداری تک نواز شریف کی بیماری اور ان کو علاج کی سہولیات نہ ملنے پر جو مہم پیپلز پارٹی نے شروع کی وہ دراصل ن لیگ کا کام تھا مگر افسوس ن لیگ کرنے میں ناکام نظر آئی۔دوسری طرف نوازشریف کی صحت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے ۔جو تازہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق لندن کے ہارلے سٹریٹ ہسپتال کو بھجوائی گئی تھیں ان کے نتائج انتہا ئی خطرناک ہیں۔ان رپورٹس کے مطابق نوازشریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ان کو الیکٹرو فزیا لوجی رائے کی ضرورت ہے اور ایسا کسی ایڈ وانس سہولیات کے کارڈیو وارڈ میں ہی ممکن ہے سب سے اہم بات یہ کہ نوازشریف پاکستانی ڈاکٹروں سے علاج بھی نہیں کروانا چاہتے۔ نواز شریف کو اس بات کا خدشہ ہے جو ڈاکٹر اُن کی بیماری نہیں لکھ سکتا وہ اُن کا علاج کیا کرے گا اور دوران علاج اُن کی جان کے ساتھ کوئی بھی کھیل کھیلا جا سکتا ہے ۔ نواز شریف کا خدشہ اپنی جگہ مگر نواز شریف کو اپنی پارٹی کے لوگوں کے رویے پر جیل میں بیٹھ کر ملال ضرور ہوتا ہوگا کہ اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں۔

اپنوں سے یاد آیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان نے 22 سال کی جدوجہد کی اور اتنے طویل عرصے بعد وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ الیکشن سے پہلے عمران خان نے ملکی معیشت کو اُٹھانے کا وعد ہ کیا تھا مگر آج 200 دن پورے ہونے کے بعد مجھے لگ رہا ہے کہ معیشت اُٹھانے کے بجائے غریبوں کو اُٹھانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے ۔

اسد عمر کی مثال اُس شخص جیسی ہے جو کسی جاب پر جاتا ہے تو ایک بہترین سی وی بناتا ہے اور وہ وہ چیزیں بھی لکھ دیتا ہے جس کا اُسے علم بھی نہیں ہوتا ۔ اُسے یقین ہوتا ہے کہ مجھے کونسا رکھ لینا ہے مگر جب اُسے اُس کا سی وی دیکھ کر رکھ لیا جاتا ہے اور پھر کام کرنے کی باری آتی ہے تو اُس کے ہاتھ پاﺅں پھول جاتے ہیں کہ اب کیا کرے ۔ میرا خیال ہے کی اسد عمر کےساتھ بھی یہی ہو رہا ہے کہ وہ سمندر کے کنارے بیٹھ کر سمندر کی گہرائی کے اندازے لگا رہے تھے اور سانس پھول گئی جب سمندر میں اُتر کر دیکھا۔

تحریک انصاف جب اپوزیشن میں تھی تو ہمارے انتہائی پڑھے لکھے اسد عمر ملکی معیشت کو سدھارنے کے سو سے زائد فارمولے بتاتے تھے مگر جب سے وزیر خزانہ بنے ہیں لگتا ہے سارے فارمولے ہی اُلٹے ہوگئے ہیں اور اب اسد عمر وہ گدڑ سنگھی ڈھونڈرہے ہیں جس سے اسحاق ڈار 5 سال تک ملکی معیشت کو چلاتے رہے۔ مان لیا کہ پچھلی حکومتوں نے معیشت کا بیڑا غرق کیا مگر تب اتنے برے حالات نہیں تھے معاشرے کا ہر فرد بے یقینی کی کیفیت سے گز ر رہاہے نہ روزگار ہے نہ مزدوری ہے اور جو پرائیوٹ شعبے میں سیلری والا طبقہ ہے اُس کیلئے بھی زندگی اوربھی اجیرن ہو چکی ہے ۔ صحافیوں کے گھروں کے چولھے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ میڈیا کے اوپر ایک غیر مرئی تلوار لٹک رہی ہے ۔ میری ذاتی رائے میں پلوامہ حملے کے بعد جس طرح پاکستانی میڈیا نے انڈیا کے جھوٹے پراپیگنڈہ کو بے نقاب کیا اور جس طرح ذمہ دارانہ طریقے سے پاکستان کا مقدمہ لڑا اس میڈیا کو شاباش دینی چاہیے اور اب اداروں کو یہ بات سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ ایک طاقتور میڈیا ہی مشکل وقت میں اپنی ریاست کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے ۔ اور حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگے بڑھے اور میڈیا ورکرز کی مشکلات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے ۔

خان صاحب کو پتا نہیں اُن کی ٹیم کو نسے سبز باغ دکھارہی ہے مگر مجھے یہ ڈر ہے کہ خان صاحب کی 22 سا ل کی جدوجہد اُن کی یہ ناکارہ ٹیم ٹکے ٹوکری نہ کر دے۔ خان صاحب کو ملکی معیشت کے حوالے سے جوبھی اقدام کرنے ہیں یا ہو رہے اُ ن کی نگرانی خود کرنی چاہیے۔ کیونکہ اگر یہ ناکام ہوتے ہیں تو کسی کا کچھ نہیں جانا بدنامی صرف عمران خان کی ہوگی۔

تحریک انصاف میں اگر کوئی وزیر اور وزات اپنا کام احسن طریقے سے کر رہی ہے تو وہ وزارت اطلاعات ہے کیونکہ اُس کا وزیر متحرک اور آنے والے وقت پر نظر رکھے ہوئے ہے مگر جس طرح کی اطلاعات اُس کے حوالے سے آرہی ہیں خدا ہی خیر کرے ۔۔۔ کہ منصوبہ ساز کیا پلان بنارہے ہیں۔

مئی کے پہلے ہفتے میں رمضان شروع ہونے والا ہے مگر تحریک انصاف کی حکومت نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر اکرم چوہدری بتا رہے تھے کہ ابھی ہم سوچ رہے ہیں کہ رمضان میں سستے بازار لگانے ہیں کہ نہیں۔۔۔دوسرا پلان جو بتارہے تھے وہ سن کر تو میں دنگ رہ گیا کہ اگر ہم سستے بازار نہ لگا سکے تووہ لاہور کے بڑے سٹورز پر رمضان میں سبسڈی دیں گے۔ اللہ کے بندوں سے پوچھا جائے کہ غریب آدمی کیا اِن مہنگے اور برانڈڈ سٹوروں پر جائے گا رمضان میں خریداری کیلئے یوٹیلٹی سٹورز پہلے بند ہیں اوپر سے سستے رمضان بازاروں کا نہ ہونا مجھے لگتا ہے حکومت غریب مکاﺅ مہم پر عمل پیرا ہے ۔ کیونکہ معیشت اور مہنگائی کا اثر تو غریب لوگوں پر ہوتا ہے تو جب غریب ہی نہیں ہونگے تو حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔ نہ ہوگا بانس اور نہ بجے گی بانسری


ای پیپر