تنخواہیں، مراعات اور عزت آبرو!
16 مارچ 2019 2019-03-16

کئی بار عرض کرچکا ہوں اُنیس بیس کے فرق سے ہمارے تقریباً سارے سیاستدان ایک جیسی فطرت اور خصلت کے مالک ہیں، بلکہ اِس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے ہم سب ایک جیسی فطرت اور خصلت کے مالک ہیں۔ خصوصاً ذاتی مفادات کے لیے ہماری فطرت اور خصلت میں اُنیس بیس کا فرق بھی نہیں ہے، میں سوچ رہا تھا میں اگر رُکن پنجاب اسمبلی ہوتا میں بھی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافے کے بِل پر اُسی طرح دستخط کردیتا جس طرح تمام سیاسی جماعتوں کے ارکانِ اسمبلی نے دستخط کردیئے یا اُس کی منظوری دے کر ثابت کردیا کسی بھی قسم کے ملکی یا قومی مفاد کے بجائے اُنہیں صرف اور صرف ذاتی مفاد عزیز ہے اور اپنے اِس ذاتی مفاد کو قومی یا ملکی مفاد پر قربان کرنے کا جذبہ اُن کے پاس صرف زبانی کلامی ہے۔ جیسے ایک رُکن اسمبلی سے کسی نے پوچھا تھا ”آپ کے پاس دومربع زمین ہو اُس میں سے ایک مربع آپ غریبوں کی نذر کردیں گے“۔ رُکن اسمبلی بولے ”بالکل کردیں گے“۔ .... پھر اُن سے پوچھا گیا ”اگر آپ کے پاس ایک ارب روپے ہوں آپ اُس میں سے پچاس کروڑ غریبوں میں تقسیم کردیں گے؟“ وہ بولے ”بالکل کردیں گے“ .... پھر اُن سے پوچھا گیا ”اچھا یہ بتائیں آپ کے پاس دوگاڑیاں ہوں ایک گاڑی بیچ کر اُس کی رقم غریبوں میں تقسیم کردیں گے؟ ۔ وہ بولے ”بالکل نہیں کروں گا کیونکہ دو گاڑیاں تو میرے پاس ہیں “ .... ہمارے ارکان اسمبلی یا سیاستدان ذاتی مفادات کے لیے کس حدتک جا سکتے ہیں ؟ اگلے روز یہ اُنہوں نے پھر ثابت کردیا ، اپنی تنخواہوں اور مراعات میں تین گنا اضافہ کرکے بِل منظوری کے لیے گورنر پنجاب کو بھجوادیا، گورنر نے ابھی اِس پر دستخط اس لیے نہیں کئے کہ وزیراعظم عمران خان کا ایک ٹویٹ سامنے آگیا جس میں اُنہوں نے اِس بل کی منظوری پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا، بعد میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اُنہوں نے حکم بھی جاری کردیا یہ بل منظور نہ کیا جائے کیونکہ ملک کی معاشی حالت اِس مالی عیاشی کی اجازت نہیں دیتی۔ .... اب ایک بات کی سمجھ نہیں آرہی، پنجاب اسمبلی میںیہ بل ظاہر ہے وزیراعلیٰ بزدار کی منظوری سے پیش کیا گیا ہوگا۔ سب جانتے ہیں، جانتے کیا ہیں، حقیقت بھی یہی ہے اُن کی حیثیت ایک ”روبوٹ“ کی ہے جس کا کنٹرول وزیراعظم عمران خان کے موبائل میں ہے، ان حالات میں وہ وزیراعظم عمران خان کی منظوری کے بغیر یہ جانتے ہوئے کہ وہ ملک کی موجودہ معاشی حالت پر سخت پریشان ہیں اور سادگی پر مکمل یقین رکھتے ہیں ارکان پنجاب اسمبلی کی مالی ومراعاتی عیاشیوں کا بِل اسمبلی میں لانے کی جرا¿ت یا ہمت کیسے کرسکتے ہیں؟۔ جو وزیراعلیٰ رفع حاجت کے لیے بھی وزیراعظم کی منظوری کا محتاج ہو وہ اتنا بڑا اقدام اُن سے پوچھے بغیر کیسے کرسکتا ہے ؟ یا اِس کی منظوری کیسے دے سکتا ہے؟ اُن کے اکثر اقدامات سے لگتا ہے وہ ذہنی طورپر ابھی تک نون لیگ سے باہر نہیں نکلے۔ خصوصاً مختلف افسران کی تقرریوں اور تبادلوں کے معاملات میں تو وہ بار بار یہی ثابت کررہے ہیں وہ ابھی تک نون لیگ میں ہیں، لہٰذا ممکن ہے پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں میں تین گنا اضافے کا بل اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری اُنہوں نے وزیراعظم عمران خان سے لینے کے بجائے شہباز شریف سے لے لی ہو اورشہبازشریف نے اُنہیں یہ منظوری یہ سوچ کر دے دی ہو کہ چونکہ آج کل ہمارے ارکان اسمبلی کو لُوٹ مار کے ویسے مواقع میسر نہیں آرہے جیسے ہمارے نون لیگی دور میں آتے تھے لہٰذا کیوں نہ اُن کے دُکھوں کا تھوڑا بہت ازالہ اُن کی تنخواہوں اور مراعات میں تین گنا اضافہ کرکے کردیا جائے۔ .... اور اگر یہ بِل وزیراعظم عمران خان کی منظوری حاصل کرنے کے بعد اسمبلی میں لایا گیا یا اُسے منظور کیا گیا تو پھر بعد میں اِس بِل یا اقدام کی اُن کی جانب سے مخالفت کا کوئی تُک نہیں بنتا۔ وہ بھی اِس کی مخالفت کے بجائے اِس ”مجبوری“ کا سہارا لے سکتے تھے کہ ملک کی بدترین معاشی حالت کے باعث آج کل چونکہ ہمارے ارکانِ اسمبلی کو مالی حرام کاریوں کے ویسے مواقع میسر نہیں آرہے جیسے پہلے آیا کرتے تھے اور ہمیں خدشہ ہے اِس وجہ سے کہیں ہماری پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک ہی نہ بن جائے لہٰذا ہم اِس کے ازالے کے طورپر ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں اورمراعات میں تین گنا اضافے پر مجبور ہیں، اگر ہم ایسا نہ کرتے وہ جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی جو صرف اور صرف ارکان اسمبلی کے مالی و ذاتی مفادات سے وابستہ ہے۔ اِس جمہوریت کو بچانے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ یہ بھی ممکن ہے وزیراعظم عمران خان نے اس بل کی مخالفت کا فیصلہ شدید عوامی ردعمل کے بعد کیا ہو۔ اب کون یہ انکشاف کرنے کی ہمت یا جرا¿ت کرے کہ یہ بِل اُن کے نوٹس میں لاکر اسمبلی میں پیش کیا

گیا تھا، یا اُن کی منظوری حاصل کرنے کے بعد کیا گیا تھا، اور اگر اِس بِل کو اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے وزیراعلیٰ بزدار یا پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے اُن سے واقعی مشاورت نہیں کی اِس کا مطلب ہے پنجاب کے معاملات اُن کے ہاتھوں سے نکلتے جارہے ہیں اور اُن کا وزیراعلیٰ اور ارکانِ اسمبلی کسی معاملے میں اُن سے مشاورت کو اب ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، .... ذاتی طورپر دوسری بات میں مجھے اس لیے زیادہ وزن محسوس ہوتا ہے وزیراعظم عمران خان سادگی اور ایمانداری پر یقین رکھتے ہیں جبکہ پنجاب میں اُن کے وزیراعلیٰ اور ارکانِ اسمبلی نے اُن کی سادگی اور ایمانداری کی پالیسی کو جوتی کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ اُن کی جماعت کے اکثر ارکان اسمبلی سادگی اور ایمانداری کو باقاعدہ ”گناہ کبیرہ“ سمجھتے ہیں۔ اُوپر سے بیوروکریسی اتنی خوفزدہ ہے سیاستدانوں اور ارکان اسمبلی کو لُوٹ مار کے نئے نئے راستے بھی نہیں دیکھا رہی، البتہ مجھے یقین ہے پنجاب کے ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافے کا راستہ کسی نہ کسی بیوروکریٹ نے ہی دیکھایا ہوگا تاکہ بعد میں اِس کی آڑ میں بیوروکریسی اپنی تنخواہوں اور مراعات میں بھی کئی گنا اضافہ کرکے اِن دنوں حرام کھانے کے بڑے مواقعے نہ ملنے کے اپنے دُکھ کا تھوڑا بہت ازالہ کرسکے۔ .... ہمارے سیاستدان اور ارکان اسمبلی وغیرہ ملکی مفاد کے ہرجگہ ٹھیکیدار بنے دیکھائی دیتے ہیں، نجی محفلوں میں وہ یہاں تک یہ دعوے کرتے ہیں ملکی مفاد کے لیے اُن کے جذبے اور قربانیاں فوج اور جرنیلوں سے بڑھ کر ہیں، گزشتہ کچھ برسوں سے بذریعہ لُوٹ مار ملک کو جس معاشی تباہی کے مقام پر اُنہوں نے پہنچا دیا ہے اُس کا ازالہ اب صرف اسی صورت میں ہوسکتا تھا وہ رضا کارانہ طورپر یہ فیصلہ کرتے، یا وزیراعظم عمران خان ہی اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد یہ اعلان کردیتے چونکہ معاشی لحاظ سے ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں لہٰذا کم ازکم ایک برس تک میں تنخواہ لُوں گا نہ میری جماعت کے ارکان اسمبلی اور وزراءوغیرہ لیں گے۔ اُن کے اِس فیصلے یا اعلان کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی مجبوراً اسی راستے پر چلنا پڑتا، قومی خزانے کو اس سے شاید کوئی بہت بڑا فائدہ نہ پہنچ پاتا مگر علامتی طورپر یہ جذبہ پوری دنیا خصوصاً پاکستانی عوام کے لیے یقینا قابل قدر ہوتا، اس سے ہمارے اربوں کھربوں پتی ارکان اسمبلی کو بھی کوئی خاص مالی نقصان نہیں ہونا تھا، مگر دنیا اور عوام کی نظر میں اُن کی عزت اور قدر میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا افسوس وزیراعظم عمران خان کے حالیہ فیصلے کے بعد وہ اپنی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافہ تو نہیں کرسکے اپنی عزت آبرو میں کئی گنا کمی ضرور کر بیٹھے ہیں !!


ای پیپر