ہم جانتے ہیں
16 مارچ 2019 2019-03-16

اس بات میں ابہام اب نہ ہونے کے برابر ہے کہ پاکستان کو لاحق خطرات میںصرف ایک فریق ہمارا ہمسائیہ بھارت نہیں ہے بلکہ ایک پوری عالمی سازش اس کے پیچھے ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی حالات ایسے ہیں کہ نا صرف جنوبی ایشیابلکہ دنیا میں اس کی ایک خاص اہمیت اور مقام ہے۔جب دنیا میں دو سپر پاورز امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کولڈ وار تھی تو بھی پاکستان اہم تھا۔ سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت ہوئی توپاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا اور اس کے اثرات آج تک بھگت رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے افغان اوردہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے بعد ایک اور جنگ کا شکار ہوجاتا؟ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تو پاکستان 100 ارب ڈالر کا نقصان کروانے کے ساتھ ساتھ70 ہزار پاکستانیوں کی جانیں بھی گنوا چکا ہے اور ابھی تک ہم کسی نہ کسی آپریشن کی شکل میں یہ جنگ لڑ بھی رہے ہیں ۔

ایسے میں جب پاکستان کی نئی حکومت ملک کو معاشی طور پر کھڑا کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ دنیا سے سرمایہ کاری لانے کی تگ و دو کی جارہی ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔پاکستان نے اپنے خلاف خطرناک محاذ کو شکست دے کر ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر ثابت کیا لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ یہ خبریں بھی ہیں کہ گزشتہ دنوں پاک بھارت کشیدگی میں جو کچھ ہوا اس کا 30 فیصد بھی منظر عام پرنہیں آیا۔ میں اندازے کے ذریعے باقی 70 فیصد کا احاطہ تو نہیں کرسکتالیکن اتنا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک بہت بڑی سازش کے تحت ہلا بولا جانا تھا۔یہ بھی خبریں سامنے آئیں کہ پاکستان کے پانچ بڑے شہروں کو نشانہ بنایاجانا تھا جس میں بہاولپور اور کراچی کا ذکر تو ہم سن چکے ہیں ۔ پاکستان نے اس سازش کو ناکام بنایا بلکہ بھارت اور اس کے دوستوں کو باور کرایا کہ ہم تمہاری سازشوں سے بخوبی واقف ہیں ۔ اگر تم نے پاکستان کی سرزمین پر کسی قسم کی کوئی جارحیت کی تو یہ یہ وہ مقامات ہیں جن کو ہماری جانب سے فناکردیا جائے گا۔ اس کے بعد صورتحال سب کے سامنے ہے۔کیا یہ اسی منصوبہ بندی کے چند محرکات ہیں جس کا کچھ عرصہ قبل سابق وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے اظہار کیا تھا جس میں وہ کہتے تھے کہ پاکستان کو اطراف سے عالمی سازش کے خطرات لاحق ہیں ۔ مئی 2017 میں چودھری نثار میڈیا سے بات کرتے ہوئے خبرادر کررہے تھے کہ پاکستان کی نیشنل سکیورٹی شدید خطرات کی لپیٹ میں ہے۔ اور پاکستان کو عالمی سازش کے تحت گھیرے میں لیا جارہا ہے۔ صرف چار سے پانچ افراد کو اس سنگین صورتحال کاعلم ہے جن میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی نوید مختار،سابق وزیراعظم نواز شریف اور وہ خود شامل ہیں لیکن خطرات کی نوعیت نہایت حساس ہے اس لیے کسی سے شیئر بھی نہیں کی جاسکتی یہاں تک کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور کیبنٹ کے کسی ممبر کو بھی سیکورٹی تھریٹ سے متعلق علم نہیں ہے۔ میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوںکے آسمان پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں اور یہ وہ وقت ہے کہ ہمیں داخلی اختلافات بھلا کر ملکی دفاع کے لیے ایک ٹیبل پر آنا ہوگا۔ ان کی اس پریس بریفنگ کو اس وقت کے میڈیا نے ایک خاص پولیٹیکل اسسٹنٹ جان کر نظر اندازکردیا۔ میڈیا اور عوام یہ سمجھے کہ اپنی پارٹی کی پالیسیوں سے تنگ آکرسبکدوش ہونے والا وزیر داخلہ ایسا نہیں تو کیسا بولے گا۔

مجھے یاد ہے کہ سینیٹر اعتزاز احسن نے بھی یہ مدعا اٹھایا تھا اور اس وقت ان کا سیاسی بیانیہ تو میڈیا میں بہت اٹھا تھا مگر اس والے بیان پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ پاکستان کی سیاست میں اقتدار کو جب خطرہ ہو تو پاکستان کی سلامتی کو فوراً خطرے میں لاحق کہا جاتا ہے۔ لیکن آج چودھری نثار کی بات سچ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔اسی طرح کی عالمی سازش کے بارے میں چند سال قبل جنرل (ر) حمید گل مرحوم نے بڑا واضح کہا تھا کہ اس وقت جب امریکہ کی افغانستان سے نکلتے ہوئے پشت ہوگی اس وقت کشمیر میں جان بوجھ کر ایک حملہ کروایا جائے گا اورالزام پاکستان پر تھوپا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا یہ غالباً فروری کے تیسرے ہفتے کی شروعات ہوگی۔ اور ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ افغانستان سے امریکہ نکل رہا ہے۔ طالبان سے مذاکرات میں انتہائی مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔ ہمارا بوجھ کم ہورہا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے میں ایک طرف امن پیدا ہونے جارہا ہے توبھارت پاکستان پر حملہ کرکے خطے کا امن کیوں تباہ کرنا چاہتا ہے۔اور آج خطے کی کشیدگی میں بھارت اور اسرائیل کے علاوہ تیسرے فریق کی بات ہورہی ہے۔ لیکن یہ کوئی نہیں بتارہا کہ وہ کون ہے۔ امریکہ مکمل کریڈٹ لینے کے چکر میں ہے کہ اس کشیدگی کو ٹھنڈا وہ کررہا ہے اور ٹرمپ بھی توکہہ چکے ہیں کہ انہیں پاکستان اور بھارت سے اچھی خبریں آرہی ہیں ۔ 14فروری کے پلوامہ حملے کے بعد مودی کی دھمکیوں سے امریکہ کو پہلے بھی واقفیت تھی۔ وہ مسلسل پاکستان پر جارح بیانات دے رہا تھا لیکن امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کی دو انڈین جہاز گرنے کے بعد 'پرائیویٹ ڈپلومیسی' کہاں سے آگئی؟ کیا ہمارا زور بازو آزمانا مقصود تھا؟۔ پاکستان کا قصور کیا ہے یہی نہ ایٹمی طاقت ہے اور معاشی طاقت بننے کی جدوجہدکررہا ہے اور یہی قصور بھارت، اسرائیل اور 'تیسری قوت' کی آنکھ میں کھٹک رہا ہے۔ آئی ایس پی آر مصلحت کے تحت بے شک نہ بتائے، یا دفتر خارجہ اسے منطق جانے مگر کسی ذی شعور پاکستانی کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ وہ تیسرا ملک جو پاکستان کو لاغر اور مجذوب دیکھنے کی خام خیالی میں ہے وہ یقیناً بھارت نہیں تو اسرائیل کا 'بیسٹ فرینڈ' ضرور ہے۔


ای پیپر