دو غیر ملکی کھلاڑیوں کے علاوہ تمام غیر ملکی پاکستان آئینگے :نجم سیٹھی
16 مارچ 2018 (20:16)

شارجہ :رائیونڈ خودکش بم دھماکے کے بعد پاکستان سپر لیگ کھیلنے والے غیر ملکی کرکٹرز تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں تاہم پی سی بی نے انہیں پاکستان لانے کے لئے کوششیں تیز کردیں۔ آئی سی سی اور فیکا سے منظور شدہ غیر ملکی سیکیورٹی کمپنی کے سربراہ رگ ڈگسن ا دبئی پہنچ رہے ہیں اور اس موقع پر پی سی بی کی جانب سے ایک میٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔میٹنگ میں غیر ملکیوں کو پاکستان کے حالات اور لاہور و کراچی میں سیکیورٹی انتظامات پر خصوصی بریفنگ دی جائے گی۔

بند کمرے میں ہونے والی اس ملاقات میں کوشش کی جائے گی کہ غیر ملکی کھلاڑی بڑی تعداد میں لاہور اور کراچی کے لئے سفر کرسکیں جب کہ پاکستان کرکٹ سے وابستہ کچھ بڑے نام بھی غیر ملکیوں کے اعتماد میں اضافے کے لئے ان سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ رگ ڈگسن کی غیر ملکی کرکٹرز سے ملاقات کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ میری اطلاعات کے مطابق دو غیر ملکیوں کے علاوہ تمام غیر ملکی پاکستان آئینگے اور میڈیا اس موقع پر قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ غیر ملکیوں کو رگ ڈگسن پاکستانی حالات اور انتظامات کے بارے میں بتائیں گے کیوں کہ وہ دو بار کراچی بھی آچکے ہیں۔انگلش ٹیم کے کپتان این مورگن پاکستان سپرلیگ کے میچز کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے تاہم وہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے ضمن میں کی جانے والی کوششوں سے خاصے مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔یاد رہے کہ این مورگن پہلے کھلاڑی نہیں ہیں جنہوں نے پاکستان جانے سے معذرت کرلی ہے، ان سے قبل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنے والے انگلش بلے باز کیون پیٹرسن بھی پاکستان نہ جانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ آسٹریلوی آل راﺅنڈر شین واٹسن نے پاکستان جانے کے بارے میں حتمی فیصلے کو اپنی فیملی سے مشاورت سے مشروط کر رکھا ہے۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے منیجر اعظم خان کا کہنا ہے کہ اس وقت کہنا مشکل ہے کہ کون کون لاہور اور کراچی جائے گا، ہماری اطلاعات کے مطابق کیون پیٹرسن کے علاوہ تمام کھلاڑی پاکستان جانے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ان کے نام نہیں بتا سکتے جب کہ فرنچائز مالک ندیم عمر براہ راست غیر ملکی کرکٹرز سے رابطے میں ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے کرس گرین اور بین لافلین یقینی طور پر پاکستان جانے کو تیار ہیں۔ اس بار پی سی بی نے پاکستان جانے والے کھلاڑیوں کے لیے الگ سے 20 ہزار ڈالر رکھے تھے، تاہم اس کے باوجود بعض غیر ملکی کرکٹرز پاکستان جاکر کھیلنے سے گریز کر رہے ہیں۔


ای پیپر