کالاباغ ڈیم کی تعمیر:مسئلہ سیاسی نہیں تکنیکی ہے
16 مارچ 2018 2018-03-16



دنیا کے باشعور ممالک کے محب وطن سیاستدان قومی بقاء اور ملکی استحکام کے ضامن منصوبوں کی تکمیل کو اپنی زندگیوں کا اہم ترین نصب العین تصور کیا کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی ایسا منصوبہ سامنے آتا ہے تو وہ پیش پا افتادہ مفادات اور نجی و گروہی تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر قومی نقطۂ نظر سے رائے عامہ سازی اور ذہن سازی کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر وہ قومی بقاء اور ملکی سلامتی کو اپنی اولین ترجیح بنا لیتے ہیں۔ اسے شومئ قسمت کہیے یا ہمارے سیاسی زعماء کی کج فکری کہ وہ مفادات و تعصبات کے خول سے باہر نکلنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کو بھی وہ ذاتی مفادات کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز گوناگوں مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ یہ ٹیڑھا طرز فکر ہمارے ہاں ہی مروج ہے کہ اگر مسائل باقی نہ رہے تو سیاستدانوں کو ’’کارسیاست ‘‘ سے دست کش ہونا پڑے گا۔ اس طرز فکر کو کسی بھی طور عوام دوست اور ملک نواز طرز فکر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ منفی سوچ کے بطن سے کبھی مفید اور مثبت رائے کا تولدپذیر ہونا امر محال ہے ۔ جب سیاستدان ملک کو شطرنج کی ایک بساط سمجھ کر ہر اہم ایشو کو مہرے کے طور پر استعمال کریں گے تو تاریخی حوالے سے نتیجہ سیاستدانوں کی سیاسی مات ہو تا ہے ۔
کالا باغ ڈیم کے مسئلے پر محب وطن قومی اور سیاسی حلقوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ مخالفت برائے مخالفت کی روش ترک کر کے تمام سیاسی زعماء کو بالاتفاق یہ سوچنا چاہئے کہ ان کی سیاست وطن عزیز کی بقاء اور قوم کی خوشحالی کے ساتھ مشروط ہے ۔ قومی خوشحالی کیلئے آبی وسائل کو ترقی دینا انتہائی ضروری ہے ۔ یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پانی کا بحران یا دوسرے لفظوں میں قلت آب کا مسئلہ صرف پاکستان ہی کا نہیں بلکہ دنیا بھر کا ایک سنگین ترین مسئلہ ہے ۔ آنے والے سالوں میں قلت آب انسانیت کو درپیش ایک بڑے چیلنج کی صورت میں سامنے آئے گی۔ 2004ء میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ اگر انسانوں نے آبی ذخائر کی تعمیر و ترقی کے عمل کو بالائے طاق رکھ کر موجودہ شرح سے پانی کے استعمال کو جاری رکھا تو 2025ء تک دنیا کے 2ارب 70کروڑ افراد پانی سے محروم ہو جائیں گے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہمہ جہتی آلودگی کی وجہ سے زمین پر تازہ پانی کی مقدار میں اضافے کا عمل رک چکا ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تمام تر ترقی کے باوجود اس وقت عالم یہ ہے کہ دنیا میں ایک ارب بیس کروڑ افراد کو پینے کا صاف پانی مہیا نہیں ۔ ہر سال 50لاکھ افراد مضر صحت پانی کے استعمال کی وجہ سے مہلک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ہمیں انتہائی مختصر عرصہ کیلئے خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا۔ پانی کی فراہمی کے لحاظ سے پاکستان کا شمار خطے کے خوش بخت ممالک میں ہوتا ہے ۔ 2002ء پاکستان کے عوام کیلئے ایک خشک سال تھا، اس کے باوجود 2کروڑ ایکڑ پانی سمندر کی نذر ہو کر ضائع ہو گیا۔ جولائی 2003ء کی بارشوں سے صرف سندھ میں ساڑھے تین ہزار دیہات متاثر ہوئے۔ جانی نقصانات الگ ہیں۔ اگر سیلابی پانی کا ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہوتی تو مالی نقصانات سے بچاؤ کے راستے نکل سکتے تھے۔ان بارشوں کے دوران مجموعی طور پر ایک کروڑ 83لاکھ 84ہزار ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہوگیا۔ بارانی پانی کو محفوظ کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ اگر ملک میں چھوٹے اور بڑے ڈیموں کا نیٹ ورک موجود ہوتا تو 2کروڑ ایکڑ فٹ کے قریب قیمتی پانی کے ضیاع کو روکا جا سکتا تھا۔ اسی پر بس نہیں ، ظلم تو یہ ہے کہ جب اس حوالے سے منصوبہ بندی کی کوئی تجویز سامنے آتی ہے تو عصبیت فروشوں کا ایک ٹولہ جذباتی اور سستے نعرے لگا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اب یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کے خلاف بیان بازی کرنے والے نام نہاد سیاسی پریشر گروپس درحقیقت ذاتی مفادات کی تحصیل کیلئے سادہ لوح عوام کے مستقبل سے کھیلنے کے سنگین جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
ہمارے سیاسی زعماء اور حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قومی اہمیت کے حامل کالاباغ ڈیم اور دوسرے مفید آبی ذخائر کے منصوبوں کی مخالفت کے نتائج ملک و قوم کیلئے انتہائی بھیانک ہونگے۔ یہ ایک بڑا سچ ہے کہ اگر ہم نے آنے والے سالوں میں
بڑے ڈیم نہ بنائے تو ایتھوپیا کے عوام کی طرح پاکستانی عوام کا مقدر بھی بھوک اور پیاس کے ہاتھوں مرجانا ہوگا۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر کے بغیر پاکستان کی قومی معیشت کی ترقی کا ہر دعویٰ دیوانے کے خواب اور مجذوب کی بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ کالاباغ یا اسی حجم کے دوسرے ڈیموں کی تعمیر قومی بقاء کیلئے ناگزیر ہے ۔ حقائق سے آنکھیں چرانا ایک بزدلانہ اور غیر دانشمندانہ اقدام ہے ۔ بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض سیاستدانوں نے اس شعار کو اپنا قومی شیوہ بنا لیا ہے ۔ 1968ء کے بعد ہمارے ہاں ایک بھی بڑا آبی منصوبہ بام تکمیل تک نہیں پہنچا۔
ہمارے سیاسی زعماء اور حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قومی اہمیت کے حامل کالاباغ ڈیم اور دوسرے مفید آبی ذخائر کے منصوبوں کی مخالفت کے نتائج ملک و قوم کیلئے انتہائی بھیانک ہونگے۔ یہ ایک بڑا سچ ہے کہ اگر ہم نے آنے والے سالوں میں بڑے ڈیم نہ بنائے تو ایتھوپیا کے عوام کی طرح پاکستانی عوام کا مقدر بھی بھوک اور پیاس کے ہاتھوں مرجانا ہوگا۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر کے بغیر پاکستان کی قومی معیشت کی ترقی کا ہر دعویٰ دیوانے کے خواب اور مجذوب کی بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ کالاباغ یا اسی حجم کے دوسرے ڈیموں کی تعمیر قومی بقاء کیلئے ناگزیر ہے ۔ حقائق سے آنکھیں چرانا ایک بزدلانہ اور غیر دانشمندانہ اقدام ہے ۔ بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض سیاستدانوں نے اس شعار کو اپنا قومی شیوہ بنا لیا ہے ۔ 1968ء کے بعد ہمارے ہاں ایک بھی بڑا آبی منصوبہ بام تکمیل تک نہیں پہنچا۔ ان 50 برسوں میں وطن عزیز کی آبادی اور ضروریات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ آبی ضروریات کی تکمیل کرنے والے منصوبوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو تو قحط نہ ٹلنے والی تقدیر کا روپ دھار لیا کرتے ہیں۔ آبی وسائل رفتہ رفتہ کم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1951ء میں 5ہزار 650 مکعب میٹر فی کس پانی دستیاب تھا، جو 49سال بعد 2000ء میں کم ہوتے ہوتے 1400مکعب میٹر رہ گیا اور 2005ء تک یہ مزید کم ہو کر 1000 مکعب میٹر تک گرگیا۔ اب صورت حال کہیں خوفناک اور لرزہ خیز ہوچکی ہے ۔ یہ منظرنامہ پانی کے قحط کے یقینی امکان کو جنم دے رہا ہے ۔ المیہ تو یہ ہے کہ بعض عناصر ذاتی اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے پانی کے مسئلہ پر عوام کو اکسا رہے ہیں اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں‘‘۔ عوام جانتے ہیں کہ یہ عناصر کون ہیں۔ ان کی اکثریت خطا معاف! ماضی مرحوم کے صوبائی گاندھیوں اور ان کے آشرموں کے پجاریوں کی باقیات پر مشتمل ہے ۔ یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ مقامی گاندھیوں اور ان کے حوالیوں موالیوں نے قیام پاکستان کی بھرپور مخالفت کی تھی، یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کی آل اولاد استحکام کے حامل کسی بھی منصوبے کے حامی، معاون اور مددگار بن سکے۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ یہ عناصر زمینی حقائق کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔
اگر حکمران اور مقتدر طبقات کالاباغ ڈیم یا کسی اور ڈیم کی تعمیر کو ملک و قوم کی بقاء اور سلامتی کیلئے ناگزیر تصور کرتے ہیں تو اس کیلئے انہیں کسی بھی چھوٹی موٹی مخالفانہ آواز کی سرمو پروا نہیں کرنا چاہئے۔ کابالاغ ڈیم ، بھاشا ڈیم ، سکردو اور اکوری ڈیم بالتدریج اس ملک کے عوام کی زندگی کے فروغ کے ضامن ہیں۔ ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ قطعاً کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ، یہ ایک خالصتًا سائنسی، فنی اور تکنیکی معاملہ ہے ۔ اس معاملے میں تکنیک کاروں، آبی ماہرین اور معیشتی امور کا ادراک رکھنے والے صائب الرائے دانشوروں کے افکار و آراء کسی بڑے سے بڑے سیاستدان کی بلاسیاق و سباق بیان بازی سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ اسے تو عاقبت نااندیش سیاست کاروں نے خواہ مخواہ ایک سیاسی مسئلہ بنا لیا ہے ۔ وہ کالاباغ ڈیم کو ایک ’’ہوا‘‘ بنا کر عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں، ٹھیک ہے قوم کے سامنے چار ڈیموں کی تعمیر کے آپشنز موجود ہیں، لیکن کالاباغ ڈیم سے صرف نظر کر کے کسی اور ڈیم کی تعمیر کیلئے سلسلہ جنبانی ایک تو وقت کا ضیاع ہوگی اور دوسرا سرمائے کی رائیگانی کا موجب بھی بنے گی۔
مجموعی طور پر آنے والی قومی ابتلاء کی نشاندہی کی ہے ۔ یہ ابتلاء واضح طور پر افق در افق دکھائی دے رہی ہے ۔ اس نے پردہ غیب سے یکدم ظہور پذیر نہیں ہونا۔ بزدلانہ حکمت عملی، مصلحت اندیشانہ طرز فکر اور مفاد پرستانہ سوچ ہی وہ عناصر ہیں جن کی مٹی سے اس ابتلاء کا خمیر تیار ہوگا۔ بعض شاطر اور طالع آزما کالاباغ ڈیم کے منصوبہ کو رد کرتے ہوئے بلاسوچے اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ بڑا ڈیم بنانے کے بجائے چھوٹے چھوٹے ڈیم کیوں نہیں بنائے جاتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ چھوٹے ڈیم بڑے آبی بحران کے نتیجہ میں جنم لینے والے جان لیوا ممکنہ قحط اور خشک سالی سے ملک و قوم کو بچا سکیں گے؟کیا چھوٹے ڈیموں کا مشورہ دینے والے ناصحان مشفق نے اس نہج پر کوئی عملی کام کیا ہے کہ کالاباغ ڈیم کے متبادل کے طور پر تعمیر کئے جانے والے چھوٹے ڈیموں کی تعداد کتنی ہوگی؟ ٹھیک ہے بعض ممالک میں چھوٹے ڈیم تعمیر کر کے پانی کی کمی کے مسئلہ پر قابو پایا گیا ہے مگر اس پر وہاں کے محب وطن سیاسی زعماء اور حکمران جماعتوں نے مشترکہ لائحہ عمل اور متفقہ حکمت عملی اپنائی۔چھوٹے ڈیموں کا مشورہ دینے والے مشیر تو ابھی تک چھوٹے ڈیموں کی مجموعی تعداد کا بھی تعین نہیں کر پائے۔ بفرض محال اگر 100یا 200کے قریب چھوٹے ڈیم تعمیر کر بھی لئے جائیں تو اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ یہ پانی کی قلت دور کرنے میں بھی معاون ہوں گے۔ کیا پاکستان ایسے ملک میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کا منصوبہ قابل عمل ہو سکتا ہے ۔ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے قبل بھی تو اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہوگا کہ ان کی عمر کتنی ہوگی اور یہ کہاں کہاں تعمیر کئے جائیں گے۔کیا چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے دوران جن علاقوں میں ان کی تعمیر کی داغ بیل ڈالی جائے گی وہاں کے مقامی پریشر گروپس کے موہومہ خدشات کے تحت ’’کفن بردوش احتجاجی تحریک‘‘ تو کیا ضلعی، صوبائی یا وفاقی حکومت ان منصوبوں کو بھی رول بیک کرنے کیلئے آمادہ ہو گی؟ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے تجویز کاروں کو یہ حقائق پیش نظر رکھنا چاہئیں کہ ایک تو چھوٹے ڈیموں کی عمر مختصر ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ ان کی تہ میں گار جمع ہونے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو کر اس سطح تک نہیں پہنچ جائے گی کہ ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہو جائے؟ جن ممالک میں چھوٹے ڈیم ہیں وہ وہاں کی مقامی ضروریات اور مخصوص ماحول اور حالات کے تحت تعمیر کئے گئے ہیں۔ کیا پاکستان کے حالات اور ضروریات ان ممالک سے مطابقت رکھتی ہیں؟ یہ بات بلامبالغہ اور بلااشتباہ کہی جا سکتی ہے کہ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے وطن عزیز کے گھمبیر مسائل کا حل ناممکن ہے ۔


ای پیپر