بھٹو پر فلم کی کہانی
16 مارچ 2018

جنرل ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک طے شدہ منصوبے کے تحت کردار کشی کی مہم چلائی، جس میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکوت کے خلاف ایک ’’وائٹ پیپر‘‘ بھی شائع بھی کیا گیا، اس منصوبے پر اس وقت کروڑوں روپے ’’صَرف‘‘ کیے گئے اور یہ سب کچھ اُن کے خلاف مقدمۂ قتل کے دوران کیا گیا۔ یہ جنرل ضیاالحق کی نفسیاتی جنگ کا اہم حربہ تھا۔ ایسے مواد اور الزامات نے عوام کے Anti-Bhutto دھڑے کو متحرک رہنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یقیناًذوالفقار علی بھٹو مقبول ترین لیڈر ہوئے ہیں لیکن سماج میں رجعتی سوچ رکھنے والے طبقے میں ذوالفقار علی بھٹو کو ایک کافر، ملحد، قاتل، چالاک، مکار، عیاش، بھارتی ایجنٹ، اقتدار کا بھوکا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمے دار، غدار، ملک دشمن، سکیورٹی رسک اور طبقاتی بغاوت پیدا کرکے ملک میں بے چینی پیدا کرنے والا شخص قرار دیا گیا۔ جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء نے اس سارے موقف کی ریاستی سطح پر سرپرستی کی ۔ ریاستی مشینری جس میں سرکاری میڈیا اور اس وقت کا محدود پرنٹ میڈیا جو کہ حکومتوں کے رحم و کرم پر ہوتا تھا، نے ضیاالحق کے پراپیگنڈے کا مکمل ساتھ دیا ۔وہ جنہوں نے ساتھ نہیں دیا، اُن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ریاستی سطح پر اس پراپیگنڈے کا جواب ذوالفقار علی بھٹو نے موت کی کال کوٹھڑی سے دورانِ مقدمہ دیا اور خود ان کے بقول مقدمہ کی تیاری اور الزامات کی تردید لکھتے لکھتے ان کی انگلیوں میں زخم ہو گئے۔ ان جوابات میں ایک کتاب Rumours and Reality تھی جس کو جیل سے وکیلوں اور اہل خانہ کے ہاتھوں سمگل کیا جاتا تھا اور اس کی اشاعت ذوالفقار علی بھٹو کے مخلص اور وفادار ساتھی جناب ارشاد راؤ نے کی اور یہ کام اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کیا گیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے مارشل لاء حکومت کے وائٹ پیپر کا ایک طویل جواب لکھا، جو جیل سے سمگل ہو کر دہلی پہنچایا گیا اور وہاں پر بھارت کے ایک معروف اشاعتی ادارے ویکاس نے اس کو شائع کیا اور اس کتاب کا نام ذوالفقار علی بھٹونےIf I am Assassinated رکھا۔ اس کتاب کی اشاعت نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بلا کا تجسس پیدا کر دیا اور یہ کتاب بھارت سے آنے والے محدود مسافروں کی ناریل اور پان کی ٹوکریوں میں چھپا کر لائی جاتی، پکڑے جانے پر دو سے چار سال تک قید کا سامنا کرنا پڑتا۔
If I am Assassinatedاور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے تین سال بعد یہ خبریں ’’سینہ گزٹ‘‘ اور چھوٹے اخبارات کے ذریعے پہنچیں کہ بھارت میں ذوالفقار علی بھٹو پر فلم بنائی جا رہی ہے۔ لہٰذا جنوری 1983ء میں، بھارت کے سفر کے دوران میں نے بھٹو پر فلم کے پروڈیوسر آئی ایس جوہر سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ دہلی میں جب میرے ایک دوست ہربچن سنگھ خربندا کو میری اس خواہش کا علم ہوا تو انہوں نے مجھے یہ بتایا کہ جناب آئی ایس جوہر کی فلم کی کہانی بھارت کے معروف جریدے’’ انڈیا ٹوڈے‘‘ میں چھپ چکی ہے، جو انہوں نے فوراً ہی فراہم کر دیا۔ یہ کہانی بھٹو کے مقدمۂ قتل کے دوران کے واقعات پر مبنی تھی، جس میں کوٹ لکھپت جیل اور راولپنڈی جیل کے ان پر بیتے ایام کا زمانہ فوکس کیا گیا تھا۔ یہ کہانی تقریباً مکمل حقائق کو اکٹھا کر کے لکھی گئی تھی۔ اس کے مطالعے کے بعد میں دہلی سے بمبئی روانہ ہوا۔ میرے پاس آئی ایس جوہر صاحب کا کوئی ایڈریس موجود نہیں تھا۔ بمبئی میں میرا قیام اندھیری کے علاقے میں تھا جو کہ بمبئی کے معروف علاقے جوہو سے زیادہ دور نہیں۔ میں نے بمبئی کے فلمی اداروں کے دفاتر کے چکر لگانے شروع کر دئیے اور اس تلاش میں مجھے ایک دو دن میں کامیابی ہو گئی اور یوں معلوم کردہ ایڈریس پر میں جا دھمکا۔ 2 لوٹس کورٹ، کولابہ۔ کولابہ، بمبئی کا خوبصورت ترین علاقہ ہے، جہاں پر بھارت کا معروف اور خوبصورت ہوٹل تاج محل بھی واقع ہے۔
صبح گیارہ بجے کے قریب میں 2 لوٹس کورٹ کے خوب صورت اپارٹمنٹ پر موجود تھا، فلیٹ کے دروازے پر گھنٹی بجائی۔ دوسری یا تیسری گھنٹی پر ایک ملازم باہر نکلا۔ میں نے پوچھا، آئی ایس جوہر صاحب کا گھر یہی ہے اور کیا وہ موجود ہیں؟ جواب ملا،جی ہاں اُن کا یہی گھر ہے۔ میں نے پوچھا، کیا میں اُن سے مل سکتا ہوں؟ جواب میں پوچھا گیا،آپ کا تعارف؟ میں نے بتایا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور میرا تعلق ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی سے ہے۔ جواب ملا، ٹھیک ہے بابو جی، آپ ٹھیک 3 بجے آ جائیے گا، صاحب آپ کو مل سکیں گے۔ ملازم، پاکستان اور ذوالفقار علی بھٹو کا نام سن کر حیرانی سے مجھے دیکھنے لگا۔ اُن دنوں پاکستان کے بارے میں تعارف یہ تھا کہ ایک ایساملک جہاں پر سرعام کوڑے اور لوگوں کو پھانسی دی جاتی ہے اور یہ بھی کہ جو سوویت یونین کے خلاف اسلامی جہاد کر رہے ہیں۔ میں نے وقت گزارنے کے لئے اس اپارٹمنٹ کے سامنے ایک بورژوا سنیما میں فلم دیکھنے کا فیصلہ کیا اور یوں میں نے معروف انگریزی فلم The Blue Lagoon دیکھی۔ فلم ختم ہوتے ساتھ ہی میں واپس جناب آئی ایس جوہر کے فلیٹ پر پہنچ گیا۔گھنٹی بجنے پر اسی ملازم نے دروازہ کھولا اور خوشی اور مسکراہٹ سے کہا:آ جائیے، صاحب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی میں نے سامنے دیکھا کہ آئی ایس جوہر جوگیا رنگ کا لمبا چوغا پہنے ایک دیوان پر بیٹھے ہیں۔ تعارف کروانے کے بعد اور بمبئی کی خوشبودا ر چائے کے دوران گفتگو کا آغاز ہوا۔ انہوں نے میرے پنجابی لہجے کو محسوس کرتے ہوئے کہا، کیا آپ پنجابی ہیں؟ جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا کہ گفتگو پنجابی میں ہونی چاہیے، اور جب انہوں نے پنجابی بولنا شروع کی تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا لہجہ میری جائے پیدائش سرگودھا کا ہے۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کہاں پیدا ہوئے؟ اُن کا جواب تھا، تلہ گنگ، اپنے علاقائی تعلق پر خوشی کا اظہار کیا اور اُن کو بتلایا کہ گو اب میں لاہور رہتا ہوں، مگر میری جائے پیدائش سرگودھا کی ہے۔ آئی ایس جوہر نے کہا اور میں سناتن دھرم ہائی سکول سرگودھا (جو کہ اب خالقیہ ہائی سکول بن چکا تھا) میں پڑھا ہوا ہوں۔
آئی ایس جوہر کے ساتھ جناب بھٹو پر فلم کی بات میرا اہم مقصد تھا کہ اس پراجیکٹ کی کیا حقیقت ہے اور کس مرحلے میں ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ حکومت نے اس فلم کے بنانے کی اجازت نہیں دی اور ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ میں چھپی۔ جو کہانی آپ اپنے ساتھ لائے ہیں اب اس پر تھیٹر ڈرامے کا منصوبہ زیرِ بحث ہے (شاید یہ ڈرامہ قاضی تھیٹر کے تحت بعد میں ہو گیا)جبکہ میں بھٹو پر فلم کا منصوبہ اب نئے انداز میں آغاز کرنے کا سوچ رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے اس کہانی کے بارے میں بریف کیا کہ اب یہ کہانی بھٹو کی جیل سے زبردستی رہائی (Escape) پر مبنی ہوگی اور اس میں مرتضیٰ بھٹو کا ایک اہم کردار ڈالا جائے گا۔ انہوں نے اب مجھے جس فلمی کہانی سے آگاہ کیا، اس کا تعلق بھٹو کے مقدمۂ قتل یا سیاسی حقائق سے زیادہ سنسنی خیزی پر تھا۔ میں نے انہیں کہا کہ یہ تو ایک سراسر کاروباری سنسنی خیز فلم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ، ہاں تقریباً، لیکن اس سنسنی خیزی کے اردگرد سیاسی واقعات کا احاطہ کیا جائے گا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو میں نے اُن دنوں ایک انگریزی فلم دیکھی تھی، جس میں ایک افریقی لیڈر کو جیل سے فرار کروایا جاتا ہے اور طویل منصوبہ بندی اور کشت و خون کے بعد جب اس لیڈر کو جہاز پر بٹھایا جاتا ہے تو مخالف فوجی دستے اس جہاز پر فائرنگ کر رہے ہوتے ہیں، یہ لیڈر جیل سے بھگانے والے کمانڈوز کو کشت و خون سے روک رہا ہوتا ہے اور اس دوران ایک گولی اس کے سینے پر آ لگتی ہے ،کمانڈوز کو بے چینی ہوتی ہے کہ لیڈر کا جہاز جلد سے جلد ٹیک آف کر جائے لیکن گولی اس لیڈر کی موت کا سبب بنتی ہے اور یہ لیڈر اپنے ہمدرد کمانڈوز کو مسکراتے ہوئے کہتا ہے: ’’ A Leader will die, but spirit will be alive‘‘ آئی ایس جوہر میرے اس مؤقف سے متفق تھے کہ ہاں ایسی ہی فلم ہو گی، لیکن اگر آپ میری مدد کریں تو ہم اس کہانی کو مزید حقائق کے قریب کر دیں گے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اس فلم کی خبر کے بعد آپ دوسرے پاکستانی ہیں جو میرے پاس آئے ہیں۔ میرے استفسار پر کہ پہلا پاکستانی کون تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ مرتضیٰ بھٹو ، اور وہ بڑے جذباتی اور Concerned ہیں اپنے والد کے لیے۔ آئی ایس جوہر نے بتلایا کہ مرتضیٰ بھٹو نے کہا کہ اگر بھارت میں یہ فلم بننی مشکل ہے تو آپ یہ فلم لیبیا میں بنا سکتے ہیں اور میں اس کے لیے فنڈز بھی اکٹھے کر سکتا ہوں۔
آئی ایس جوہر کا مؤقف تھا کہ میں فلم اپنی مرضی اور منصوبے کے تحت بنانا چاہتا ہوں اور اس میں کسی کی مداخلت کو پسند نہیں کرتا۔ آئی ایس جوہر نے بتایا کہ اُن کی ذوالفقار علی بھٹو سے لاہور میں ایک مرتبہ ہوٹل میں قیام کے دوران ملاقات ہوئی جب وہ ایوب حکومت میں وزیر تھے۔ آئی ایس جوہر اس فلم کو بنانے میں بڑے Excited تھے لیکن افسوس یہ فلم تصور اور تحریری منصوبہ بندی سے آگے نہ جا سکی اور نہ ہی ذوالفقار علی بھٹو کے مالی طور پر مضبوط چاہنے والوں نے ایسی کوئی Effort کی ۔ بھٹو اور اُن کی جماعت کی بننے والی حکومتوں میں ایسے لاتعداد ’’معتقدین‘‘ ہیں جو ایسے کسی منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکتے تھے، لیکن نہیں۔ ’ذوالفقار علی بھٹو ‘ کا عشق صرف مفادات کے حصول تک محدود ہے اور یہ بھی افسوس کہ جن بے وسیلہ لوگوں نے ایسی کوئی کوشش کی تو وہ کوئی معیاری پروڈکشن نہیں تھی۔۔۔ یا پھر صرف ’’خانہ پری‘‘ کے لیے کارروائی کی گئی۔ آئی ایس جوہر سے ملاقات میری ’’تاریخ کی تلاش‘‘ کا ایک سفر تھا۔


ای پیپر