ہزاروں خواہشیں ایسی کہ۔۔۔!
16 مارچ 2018



میں نے پچھلے کالم میں ایک تمنا کا اظہار کیا تھا کہ کاش سینیٹ کے نو منتخب چیئرمین کا تعلق بلوچستان اور ڈپٹی چیئر مین کا تعلق سندھ سے ہو ۔ خدا کا کرنا ہوا کہ میری یہ تمنا پوری ہو گئی ہے ، لیکن کیسے پوری ہوئی اور کس طرح پوری ہوئی اس کا جائزہ لیتا ہوں تو پھر دل کہتا ہے کہ تمنا کے اظہار کی بجائے غالب کا یہ مصرع دہرایا ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا ’ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے‘ ۔خیر اب کیا ہو سکتا ہے جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے۔ بلوچستان سے نو منتخب سینیٹر جناب صادق سنجرانی سینیٹ کے چیئرمین کا منصب سنبھال چکے ہیں اور ڈپٹی چیئرمین کا ہما سندھ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جناب سلیم مانڈی والا کے سر پر بیٹھ چکا ہے۔ کسی کو ان دونوں سینیٹرز کے سینیٹ کے مقتدر عہدوں کے سنبھالنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن سچی بات ہے جناب صادق سنجرانی کا مسلم لیگ ن کے چیئرمین بزرگ سیاسی رہنما سینیٹر راجہ ظفر الحق کے مقابلے میں 11 ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب ہونا کچھ دل کو نہیں بھایا ہے۔ جناب صادق سنجرانی نے 57 ووٹ لیے جبکہ راجہ ظفر الحق کے حصے میں 46 ووٹ آئے ۔یہ ایسی گنتی ہے کہ لگتا ہے کہ اُلٹی ہو گئی ہے۔ جتنے ووٹ راجہ ظفر الحق کو ملنے کی اُمید کی جا رہی تھی وہ جناب صادق سنجرانی کو مل گئے اور جتنے صادق سنجرانی کو ملنے کی توقع تھی وہ راجہ ظفرا لحق کے حصے میں آئے۔ ایسا کیوں ہوا؟ یقیناًیہ ایک ایسی بجھارت ہے جس کا بوجھنا اتنا آسان نہیں تو اتنا مشکل بھی نہیں۔
مسلم لیگ ن نے سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کے لیے راجہ ظفر الحق کو آخر وقت میں اپنا اُمید وار بنایا۔ پتہ نہیں مسلم لیگ ن کو کونسی ایسی مجبوری تھی کہ وہ راجہ ظفر الحق جیسی بزرگ شخصیت کو سامنے لے کر آئی اور عمر کے اس حصے میں ناکامی کا داغ اُن کے ماتھے پر ایسا لگا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کو بچگانہ انداز میں یہ طعنہ دینے کی جرات ہوئی کہ ضیا ء الحق کے اُوپننگ بیٹسمین کو شکست سے دوچار کیا۔ بلاول بھٹو زرداری ، راجہ ظفرالحق کی شکست پر بجا طور پر بغلیں بجا سکتے ہیں لیکن اس کا موقع انہیں جہاں اپنے والدِ گرامی ’’ایک آصف زرداری ۔۔۔۔ سب پر بھاری ‘‘ کی ہوشیاری ، سمجھداری ، تیز طراری اور موقع پرستی اور بعض نادیدہ قوتوں کی پسِ پردہ کرشمہ سازی کی بدولت نصیب ہوا ہے وہاں اس میں مسلم لیگ ن کی طرف سے سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کے لیے اُمید وار کی نامزدگی میں گو مگو اور ’’ٹل مل‘‘ کی پالیسی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے لیے سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کے لیے بلوچستان سے اپنی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو جو اس وقت وفاقی کابینہ میں شامل ہیں ایک مناسب چوائس(انتخاب)ہو سکتے تھے یا عثمان کاکڑ کو جنہیں مسلم لیگ ن نے اپنی اور اتحادی جماعتوں کی طرف سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے اُمیدوار نامزد کیا چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے اُمیدوار نامزد کیا جاسکتا تھا۔ اگر ایسا نہیں کرنا تھا اور چیئرمین کے عہدے کے لیے مسلم لیگ ن نے اپنے کسی سینیٹر کو اُمیدوار بنانا اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کیلئے بلوچستان سے ہی کسی سینیٹر کو اُمیدوار نامزد کرناتھا تو پھر چیئرمین کے عہدے کے لیے مسلم لیگ ن کو چاہیے تھا کہ وہ راجہ ظفر الحق جیسی بزرگ شخصیت جو سینیٹ میں پہلے ہی قائد ایوان کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں کی بجائے اپنے کسی دوسرے سینیٹر کو بطورِ اُمیدوار نامزد کرتی۔ اس ضمن میں سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر مشاہد اللہ خان اور نومنتخب سینیٹر جناب مشاہد حسین سید جن کے نام لیے جا رہے تھے میں سے کسی ایک کو بطورِ اُمیدوار نامزد کیا جاسکتا تھا۔ مسلم لیگ ن اگر راجہ ظفر الحق کو اُمیدوار نامزد کر کے مقابلے میں لے ہی آئی تھی تو پھر اُن کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن ضروری اقدامات اور بھاگ دوڑ کی جانی چاہیے تھی ۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ مسلم لیگ ن کا اگر کوئی اور اُمیدوار ہوتا تو یہ بھاگ دوڑ نہیں کرنی چاہیے تھی ، نہ ہی میرا مطلب یہ ہے کہ ضروری بھاگ دوڑ میں کوئی کمی چھوڑی گئی ہے لیکن یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ جس طرح کی ایک واضح کمٹمنٹ ، لگن اور جیت کا جذبہ مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے کیمپ میں نظر آنا چاہیے تھا اس حد تک شاید موجود نہیں تھا۔ پھر آخر وقت تک مسلم لیگ ن کی طرف سے جناب رضا ربانی کے بطورِ چیئرمین سینیٹ انتخاب کی باتیں ہوتی رہیں۔ مان لیا کہ جناب رضا ربانی کی جمہوریت کے لیے خدمات ہیں ۔ پارلیمان کی بالا دستی کے حوالے سے بھی اُن کے خیالات اور جذبات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن اُن کا تعلق بہر کیف مخالف جماعت پیپلز پارٹی سے ہے جس کے اہم رہنما یا حقیقی معنوں میں سیاہ و سفید کے مالک جناب آصف علی زرداری پچھلے چند ماہ سے مسلم لیگ ن اور اُس کی اعلیٰ قیادت بالخصوص تا حیات قائد میاں محمد نواز شریف کو ناکوں چنے چبوانے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ۔ اس صورتحال میں پیپلز پارٹی سے مسلم لیگ ن کو کسی خیر کی توقع نہیں ہونی چاہیے تھی۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کو یہ بھی بھولنا نہیں چاہیے کہ کچھ ہی عرصہ قبل جناب آصف علی زرداری بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے کو اپنی کرشمہ سازی قرار دے چکے ہیں اور اس کے ساتھ سینیٹ کے انتخاب میں بلوچستان سے آزاد اُمیدواروں کی جیت کا کریڈٹ بھی وہ کھل اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو جناب آصف علی زرداری کے آستانے اور اُن کے چرنوں میں بیٹھنے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں اور سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کے انتخاب میں جناب آصف علی زرداری کی ہدایات پر حرف بہ حرف عمل ہوتا رہا ہے تو پھر مسلم لیگ ن کے قائدین کی طرف سے آخری وقت تک یہ کہنا کہ سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کے لیے سابقہ چیئرمین جناب رضا ربانی ہماری پہلی ترجیح ہیں تو گویا اپنی صفوں کو عدمِ یکسوئی اور کمزوری سے دوچارکرنے کے مترادف تھا ۔
خیر پارلیمان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے اعلیٰ ترین مناصب یعنی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں پر علی الترتیب جناب صادق سنجرانی اور جناب سلیم مانڈی والا کی کامیابی پر جہاں انہیں مبارکباد پیش کی جانی چاہیے وہاں اس بات کا جائزہ لینے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے کہ مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے اُمیدواروں جناب راجہ ظفر الحق اور جناب عثمان کاکڑ کو توقع سے 7 یا 8 ووٹ کم ملے تو یہ ’’ کارنامہ‘‘ کیسے سرانجام پایا۔ ایک قومی معاصر کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد کے اُمید واروں کو ووٹ نہ دینے والوں میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے تین سینیٹرز ،
اے این پی کی ایک سینیٹر، جمعیت علما اسلام کے دو سینیٹر زاور فاٹا سے تعلق رکھنے والے دو سینیٹرز کل آٹھ سینیٹرز کے نام لیے جا رہے ہیں۔مسلم لیگ ن اور جمعیت علما اسلام کے ووٹ نہ دینے والے سینیٹرز کا تعلق بلوچستان سے بتایا جا تا ہے۔ فاٹا کے سینیٹرز نے اس لیے ووٹ نہ دئیے کہ وہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ فاٹا کیلئے مانگ رہے تھے۔ قومی معاصر کی رپورٹ غلط بھی ہو سکتی ہے تاہم یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ مسلم لیگ ن کے قائدین جنہیں ایم کیو ایم کے سینیٹرز اور فاٹا کے سینیٹر یا جمعیت علما اسلام کے سینیٹرز کو اپنا ہمنوا بنانے کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں وہ اپنے مشن میں کامیاب نہ رہے جبکہ ’’ جناب آصف علی زرداری سب پر بھاری ‘‘اپنی منصوبہ بندی میں کامیاب رہے اور اُن کے معتمد خصوصی سینیٹر ڈاکٹر قیوم سومرو نے بلوچستان میں ہی مسلم لیگ ن کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے اور فاٹا کے سینیٹرز کو ہر صورت میں اپنا ہمنوا بنانے میں اہم کردار ادا نہیں کیا بلکہ کامیاب سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کیلئے اپنے نامزد اُمیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔


ای پیپر