سیاسی گفتگو منع ہے
16 مارچ 2018



کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وقت تاریخ اور مقام سے قطع نظر کہانی کچھ یوں ہے کہ شہریوں پر تاوان کا بوجھ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا جسے ریاستی ٹھیکیدار لگان یا ٹیکس کہتے تھے مگر رعیت خاموش تھی۔ بادشاہ نے وزیر سے پوچھا کہ کیا بات ہے میرے دربار میں کبھی کوئی فریادی کیوں نہیں آتا، جواب ملا جہاں پناہ رعیت آپ سے خوش ہی اتنی ہے تو شکوہ شکایت کیسی۔ بادشاہ کو غصہ آگیا، اس نے حکم جاری کیا کہ شہر کی ہر شاہراہ پر ناکہ لگا دیا جائے اور ہرگزرنے والے کو دس جوتے لگائے بغیر نہ گزرنے دیا جائے۔ قانون پر عمل در آمد شروع ہو گیا۔ اگلے دن پورے ملک کے عوام دربار شاہی کے باہر جمع ہوئی اور فریاد پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ بادشاہ کو بھی احساس ہو گیا کہ غصے میں بنایا ہوا احمقانہ فرمان منسوخ کر دیا جائے۔ اس نے حکم بھی جاری کر دیا کہ جو تا زنی والی آئینی ترمیم واپس لی جاتی ہے البتہ فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے فریادیوں کو اندر بلایا۔ بادشاہ سلامت ان کا مطالبہ سن کر حیران وششدر تھا۔ رعایا یہ کہنے آئی تھی کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد کم ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے کاموں پر جانے میں تاخیر ہوتی ہے کیونکہ ہر ناکے پر لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں لہٰذا ہماری استدعا ہے کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ قبل اس کے کہ بادشاہ سلامت اس پر زور دار قہقہ لگاتے وزیر خاص نے تاج شاہی کے کان میں کہا کہ اگر یہ رعایا اتنی احمق اور بے وقوف نہ ہوتی تو آپ کی نسل در نسل بادشاہت کیسے قائم رکھتی لہٰذا ظل سبحانی کے اقتدارکے دوام کی خاطر یہ ناگزیر ہے کہ جوتا زنی قانون کو منسوخ کرنے کی بجائے عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے عوام جو مطالبہ کر رہے ہیں ان کی رائے کو عزت بخشیں۔
یہ نئی پرانی ایک کہانی پتا نہیں ہمارے دماغ میں کہاں سے وارد ہو گئی۔ قصہ یہ ہے کہ ملکی و قومی حالات حاضرہ پر لکھتے لکھتے اس سفر میں ہماری جوتیاں گھس گئی ہیں۔ اس لیے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ سیاست کے علاوہ بھی کچھ لکھا جائے مگر Milton کی شہر ہ آفاق تصنیف The Paradise Lost کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں مصنف ہر بار حضرت آدم کو ہیرو یا فاتح بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ہر بار شیطان جیت جاتا ہے اور ہیرو بن کر ابھرتا ہے ۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم کسی اور موضوع پر بھی لکھنے کی کوشش کریں تو ملٹن کے اس فاتح کیریکٹر کی طرح ہمارے اوپر سیاست غالب آجاتی ہے ۔ مگر آج ہم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ہم نے اس بس ڈرائیور کی بات ماننی ہے جس نے اپنی موٹر کے اندر لکھاہوتا ہے کہ سیاسی گفتگو منع ہے ۔
بات جوتوں سے شروع ہوئی تھی اور اگر جوتوں تک ہی رہے تو اچھا ہے ۔ گاؤں کے میراثی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنے گاؤں۔ میراثیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ گاؤں کے چوہدری سے جوتے کھا لیتے ہیں مگر اپنی بات
کہنے سے باز نہیں آتے لیکن پرانی روایات تبدیل ہو رہی ہیں۔ جب سے دنیا گلوبل ویلج یعنی بہت بڑے گاؤں میں تبدیل ہوئی ہے اب جوتے کھانے پر میراثیوں کی اجارہ داری پہلے والی نہیں۔ نئے دور کا تحفہ یہ ہے کہ اب تو گاؤں کے چوہدری کو بھی کئی دفعہ اس اذیت سے گزرنا پڑتا ہے اور جب چوہدری صاحب پر ایسی نوبت آ جائے توا ن کے لیے یہ باعث اطمینان ہوتا ہے کہ اس راہ پر اک ہم ہی نہیں تنہا بلکہ ان کے مخالف چوہدری بھی تو جوتے کھا رہے ہیں مگر مخالفین کی جانب سے فوراً تردید ہوتی ہے کہ ہمیں جوتا مارا ضرور گیا تھا مگر ہمیں تو وہ لگا ہی نہیں۔ کسی زمانے میں کسی کو بے عزت کرنے کے لیے اتنا کہنا ہی کافی ہوتا تھا کہ بندہ ’ جتی لاہ لئے‘ جسے یہ کہہ دیا جاتا اس کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہوتا تھا۔ مگر اب وہ روایات کہاں کھو گئی ہیں۔
ایک محاورہ ہے کہ 100 پیاز اور 100 جوتے۔ ہمارے وطن عزیز کو اس محاورے کی اتنی اشد ضرورت تھی کہ ملک وجود میں آنے سے پہلے ہی یہ محاورہ وجود میں آ گیا۔ ہم نے اس کے پس منظر پر تحقیق کرنے کی بڑی کوشش کی تو ہمیں پتا چلا کہ پرانے زمانے میں جب پولیس ملزم کو ناکردہ گناہوں کا اعتراف کرانا چاہتی تو سزا کے دو آپشن ملزم کے سامنے رکھے جاتے وہ یا تو 100 جوتے کھانے کی ہامی بھرے یا 100 عدد پیاز کھائے۔ ایک دفعہ ایک ملزم نے جوتے کا انتخاب کیا مگر تھوڑی دیر بعد تکلیف کی وجہ سے اس نے پولیس کو کہا کہ میں نے آپشن بدلنا ہے چنانچہ جوتے مارنے کا عمل روک دیا گیا۔ پیاز کھانے کی کڑواہٹ جب حد سے بڑھی تو اس نے ایک دفعہ پھر جوتے کھانے میں عافیت سمجھی۔ یہ سلسلہ جاری رہا تاآنکہ اس بے حکمت ملزم نے ایک ایک کر کے 100 پیاز بھی کھائے اور100 جوتے بھی۔ ہم بہ حیثیت قوم اس شخص کو احمق سمجھتے ہیں مگر سیاست کی منڈی میں ہم میں سے ہر ایک سینکڑوں پیاز اور سینکڑوں جوتے کھا کر بھی شرمندہ ہونے سے انکاری ہے ۔
پنجاب میں جی ٹی روڈ پر ایک شہر آباد ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کے رہنے والے جوتا چوری کرنے میں مشہور ہیں مگر اہل شہر اس کا انکار کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جوتا ایسی کون سی قیمتی چیز ہے کہ اسے چوری کیا جائے مگر پھر بھی یہ رسم ابھی تک جاری ہے ۔ تبلیغی جماعت والے بیرون ملک تبلیغ کے لیے دور دراز کی ایک مسجد میں گئے تو اپنے جوتے ساتھ اندر لے گئے۔ مقامی لوگوں نے وجہ پوچھی تو انہیں بتایا گیا کہ ہمارے ملک میں جوتے چوری ہو جاتے ہیں، جس پر ان لوگوں نے حیران ہو کر کہا کہ آپ واپس جائیں اور وہاں تبلیغ کریں کیونکہ تبلیغ کی ضرورت وہاں زیادہ ہے ہمیں یہاں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
ایک سردار جی اپنی بیگم کو خوش کرنے کے لیے ایک بہت قیمتی جوتوں کا جوڑا لے آئے۔ اگلے دن ان کی بیوی اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی۔ سردار جی کی بیوی کی بازیابی کے لیے گاؤں میں پنچایت بیٹھ گئی۔ سردار جی بہت غصے میں تھے، ان کا موقف یہ تھا کہ پہلے جوتے بازیاب کیے جائیں، یہ سارا ترجیحات کا کھیل ہے ۔
کوے کی چالاکی ضرب المثل ہے کو ا اپنے چھوٹے بچوں کو سمجھا رہا تھا کہ انسان تمہارے دشمن ہیں یہ جیسے ہی نیچے جھک کر جوتا اتارنے لگیں تو تم فوراً اڑ جایا کرو۔ کوے کے بچے نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے مگر اگر اس نے پہلے ہی جوتا اتار کر پیچھے چھپا یا ہوا ہو تو کیا کیا جائے۔ کوا اپنے بچے کی اس چالاکی پر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ تم میرے صحیح جانشین ہو تمہیں سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس میں غور کرنے والوں کے لیے سبق ہے کہ ہم میں سے کس طبقۂ فکر کو چھپا ہوا جوتا دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے ادب میں جوتوں کا کوئی مقام نہیں لیکن مغربی لٹریچر میں جوتا بڑی اہمیت رکھتا ہے سنڈریلا اور شہزادے کی کہانی ایک جوتے کے گرد گھومتی ہے ۔ سنڈریلا جنگل میں لکڑیاں کاٹنے والی ایک لڑکی جو شہزادے کو دیکھ کر بھاگ جاتی ہے مگر اس کا ایک جوتا وہاں گر جاتا ہے ۔ شہزادے کا تخیل ہے کہ جس کا جوتا اتنا خوبصورت ہے وہ خود کیسی ہو گی۔بالآخر شہزادہ اس جوتے کی مدد سے سنڈریلا کو ڈھونڈ نکالتا ہے اور اس سے شادی کرتا ہے ۔ اکبر الہ آبادی کا شعر ہے کہ
نئے جوتوں کی شیخ نے کھولی ہے اب دکان
روزی کمائیں گے اب جوتوں کے زور سے
جوتوں میں دال بٹنے کا ذکر تو ہم نے سنا ہوا ہے مگر اسے ہم یہاں جملے میں استعمال کرنے سے اس لیے قاصر ہیں کہ ہم نے سیاست پر بات نہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ البتہ جوتے پالش کرنا آج کے دور میں سب سے منافع بخش پیشہ ہے لیکن یہ فن کسی کسی کو آتا ہے ۔ جو یہ گر جانتے ہیں ان کے پانچوں انگلیاں قومی خزانے کے اندر رہتی ہیں۔ جس کا مطلب ہے ستے ای خیراں
کچھ جوتے بڑے رومانوی ہوتے ہیں۔ ہمیں ایسے میاں صاحبان پر بڑا ترس آتا ہے جو دن بھر بیگم کے شاپنگ مشن پر رہنے کے بعد آدھی رات کو تھکے ہارے جب گھر واپس آ رہے ہوتے ہیں تو نئے جوتوں کے سارے تھیلے انہوں نے خوشی خوشی اٹھائے ہوتے ہیں۔ جوتے کی دکان پر وہ سیلز مین کے کان میں پہلے ہی کہہ چکے ہوتے ہیں کہ نوکیلی ایڑیوں والے جوڑے نہ دکھانا یہ سیفٹی رسک ہے ۔ ان خطرات کے پیش نظر جوتوں کے مہنگے برانڈ کے لیے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ لیڈیز جوتوں کے ڈبے پر Husband Friendly کے الفاظ پر نٹ کروائے جائیں۔
سنا ہے کہ انڈیا میں جب نریندر مودی پر جوتا پھینکا گیا تو نا معلوم ملزم کی تلاش میں جب پولیس کو ناکامی ہوئی تو انہوں نے جوتا بنانے والی کمپنیوں کو شامل تفتیش کر لیا۔ جب سے پاکستان میں یہ خبر پہنچی ہے باٹا اور سروس میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے حفاظتی ضمانتوں پر غور شروع کر دیا ہے
پاپوش کی کیا فکر ہے دستار سنبھالو
پایاب ہے جو موج گزرجائے گی سر سے


ای پیپر