دوہری شہریت
16 مارچ 2018 2018-03-16

ہمارے ہاں جہاں دیگر ہاٹ ایشوز ہیں وہاں دوہری شہریت کا معاملہ بھی ایسا ہے جو وقفے وقفے سے سر اٹھاتا ہے اور پھر کچھ عرصے کے لئے یوں دب جاتا ہے جیسے حل ہو گیا ہو۔ اعلیٰ عدالتوں نے دوہری شہریت کا معاملہ ٹیک اَپ کر رکھا ہے کہ وہ کون سی مقتدر شخصیات اور سرکاری افسران ہیں جو دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ یقیناًیہ کسی بھی معاشرے کے لئے لمحۂ فکر ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری افسران اور اعلیٰ حکام دوہری شہریت رکھتے ہوں۔ شومئ قسمت سے ہمارے ملک میں بہت سی ایسی شخصیات ہیں جو وطن سے محبت کا ڈھونگ رچائے رکھتی ہیں لیکن اندر کھاتے انہوں نے دوسرے ملک کی شہریت حاصل کر رکھی ہوتی ہے، تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ بعض لوگ پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہتے ہوئے مال بناتے ہیں۔ جائیدادیں اکٹھی کرتے ہیں اور پھر بھاری رقوم بیرون ملک منتقل کر کے اپنی عافیت اور مستقبل دونوں سنوارنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے لوگوں کے لئے پاکستان ترجیح نہیں رکھتا۔ پاکستان اور اس کے باسیوں پر خدانخواستہ اگر کوئی مشکل وقت آ بھی جائے تو ان کا جینا مرنا اسی دیس اور مٹی کے ساتھ ہے۔ جبکہ دوہری شہریت کے حامل لوگوں کے لئے پاکستان اس لئے بھی اہم نہیں کہ اُن کا کچھ بھی سٹیک پر نہیں ہوتا۔ یہاں ذرا سے حالات خراب ہوں تو وہ فلائیٹ پکڑ کر اپنے محفوظ اور اصلی ملک پہنچ جاتے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں نے اسی لئے یہ کیس ٹیک اپ کیا ہے تاکہ اس امر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے کہ پاکستان میں ذمہ دار پوسٹوں پر بیٹھنے والے صرف اپنے ملک ہی کی شہریت رکھیں تاکہ وہ اور اُن کی فیملی بھی اسی سرزمین میں رہے اور اس کی بہتری کے لئے صدق دل سے کچھ کریں ۔ اگر اُن کے اپنے بچے پاکستان میں قائم تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کریں گے تو یقیناًاعلیٰ عہدوں پر موجود شخصیات ملک کا تعلیمی نظام بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے اور یہاں کے نظامِ صحت، ماحولیات اور معاشی نظام سمیت دیگر امور کی جانب بھی توجہ دیں گے۔ دوسری صورت میں اگر ان کے پاس کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت ہو گی تو ان کے لئے یہاں سے لوٹ کھسوٹ کا مال باہر لے جانے کے ساتھ ساتھ خود بھی باہر منتقل ہونے کی آپشن ہوتی ہے اور یوں وہ پوری عمر دو کشتیوں کے سوار رہتے ہیں تاکہ خدانخواستہ وہ اس کشتی کو متزلزل دیکھیں تو فوراً دوسری کشتی کا آپشن استعمال کر کے اپنی جانیں اور جائیدادیں محفوظ بنا سکیں۔دوسری جانب دوہری شہریت کے حامل افراد کو کوئی ایسا موقع ہاتھ آ رہا ہوتا ہے کہ یہاں ان کی پوزیشن اور وقار میں گونا گوں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو وہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر دوسری شہریت ترک کر کے پاکستان کے مکمل اور محب وطن شہری بن جاتے ہیں۔ دوہری شہریت ترک کرنے کاسرٹیفکیٹ وہ الیکشن لڑنے، پروموشن لینے یا کوئی اور بڑا فائدہ اٹھانے کے موقع پر جمع کروا سکتے ہیں۔ بہت سے شہری ایسے بھی ہیں جو خود تو صرف اس ملک کی شہریت رکھتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو یورپی اور مغربی ممالک کی شہریت دلوا رکھی ہے اور اپنے بزنس باہر منتقل کر رکھے ہیں۔ یہ صرف ریاست پاکستان اور اس کے شہریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
بہت سے لوگ پاکستان کی شہریت اس لئے بھی رکھتے ہیں کہ موقع ملنے پر جو لُٹ مچانے اور گل کھلانے کے مواقع پاکستان میں موجود ہیں وہ پوری دنیا میں نہیں ہیں۔ ہم کہنے کو تو ایک اسلامی جمہوری ملک کے باسی ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہاں لوگوں کو مساوات اور برابری کے حقوق حاصل نہیں۔ انصاف کا حصول بھی آسان نہیں کہ انصاف بہت مہنگا ہے۔ عام لوگ وکیلوں کی بھاری فیسیں ہی ادا نہیں کر پاتے۔ اگر کوئی مقدمہ دائر کر بیٹھے تو پھر وہ زندگی کا کوئی اور کام نہیں کر سکتا۔ تاریخ پر تاریخ اور پھر قانونی پیچیدگیاں اتنی زیادہ کہ بسااوقات درخواست گزار کی کئی نسلیں وہ مقدمہ لڑتی ہیں تب جا کر اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ایسے مقدمات تو بہت کم ہیں جن کا اعلیٰ عدالتیں ازخودنوٹس لے لیں اور اُن کا سپیڈی ٹرائل کر کے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ بہرطور چند ایک مثالوں کو چھوڑ کر عموماً یہی دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ہاں تمام تر مواقع اور سہولیات امراء اور دولت مندوں کے لئے ہی ہیں۔ وہ انصاف بھی خرید سکتے ہیں اور مواقع بھی۔ اور سسٹم میں اتنے جھول ہیں کہ کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، کینیڈااور برطانیہ سمیت دیگر یورپی اور مغربی ممالک کی شہریت کے حامل ’’پاکستانی‘‘ بوجوہ اپنے پاس پاکستان کی شہریت بھی رکھتے ہیں کہ شاید اچانک وہ بھی کبھی ’’معین قریشی‘‘ کی طرح نامزد ہو کر پاکستان کی خدمت پر مامور کر دیئے جائیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان جس نے اس معاملے کو ٹیک اپ کیا ہے کا اس قوم پر بہت بڑا احسان ہو گا کہ وہ ایسے تمام لوگوں کا سراغ لگائے جو اہم عہدوں پر براجمان ہیں اور ساتھ کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ یا وہ خود تو پاکستان کی شہریت رکھتے ہیں لیکن اُن کے بچے فارن سٹیزن ہیں۔ ایسے لوگ کیونکر پاکستان کے ساتھ کلی طور پر مخلص ہو سکتے ہیں۔ جن کے پاس کسی دوسرے ملک میں جا کر رہنے کی ’’سہولت‘‘ بھی موجود ہے۔ پاکستان کی بہتری اور فلاح و بہبود کے لئے وہی بہتر انداز میں کام کر سکتے ہیں جن کے لئے پاکستان ہی پہلا اور آخری آپشن ہے۔ جن کا جینا مرنا اس دھرتی کے ساتھ ہے۔ اُنہیں پتہ ہو کہ اگر خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہوتا ہے تو وہ بھی مارے جائیں گے۔ جب پاکستان کی بقاء اور سلامتی ہی میں ان کی کامیابی کا راز پنہاں ہو گا تو وہ پاکستان کو اپنے گھر کی طرح سجائیں گے، سنواریں گے اور محفوظ بنانے کے لئے نہ صرف خود فیئر ہوں گے بلکہ اس ملک کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے آئین اور قانون کی سربلندی چاہیں گے اور ملک میں ایسا کلچر پیدا کرنے میں کردار ادا کریں گے جہاں ہر کوئی اپنے ملک اور اپنی سرزمین کے لئے کام کرنا اپنے لئے باعث عزت اور باعث تسکین گردانے گا۔ بلاشبہ پاکستان کو عظیم بنانے کے لئے ایسے بھرپور جذبوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں بطور فرد ہم جہاں جہاں بھی ہیں اپنی حیثیت اور پوزیشن کے مطابق پاکستان نام کی اس خوبصورت کیاری کو پھولوں سے سجانا ہے اور اس دیس کی فضاؤں کو معطر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔


ای پیپر