غوطہ کا المیہ اور امت مسلمہ کی مجرمانہ خاموشی
16 مارچ 2018 2018-03-16



اس وقت شا م کے علاقے غوطہ کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ہوکیا رہا ہے۔غیر مسلموں کو تو چھوڑیں، مسلمان کی ایک بہت بڑی تعداد جو کہنے کو تو مسلمان ہیں لیکن درحقیقت اللہ کے باغی ہیں ، ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوجائے لیکن بچوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہمارے ایمان کی بنیادوں کو ہلائے دیتی ہیں۔کیا کوئی بڑی قوت اوپر نہیں جو اس ظلم و بربریت کو روک سکے ۔ان بچوں کا کیا قصور ہے؟اس پر ظلم یہ کہ ان کو مارنے والے بھی مسلمان ہیں۔اگر ہم واقعی اللہ کی امت ہیں جسے اس نے قیامت تک کے لئے ownکیا ہے تو ہمارے ساتھ یہ ہوکیوں رہا ہے؟اسی قسم کے سوالات کے جوابات اپنی دو نظموں شکوہ اور جواب شکوہ علامیں علامہ اقبال نے اٹھایا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
وہ جو محبوب رب العالمینؐ کی امت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ان کی جانب سے اہانت و توہین کا معاملہ ہورہا ہے ۔ لیکن اللہ کے یہ باغی زمین پر پھل پھول رہے ہیں۔زمین پھٹ کیوں نہیں جاتی ۔دوسری جانب تباہی و بربادی مسلمانوں کی قسمت بن چکی ہے۔اس حوالے سے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ کیا ہے؟مسلمانوں کے عروج و زوال اور عزت و ذلت کے اسباب کیا ہیں؟اس ضمن میں ہمیں رہنمائی کی شدید ضرورت ہے اورقرآن مجید نے واضح ہدایت فراہم کی ہے۔اگر یہ ہدایت ہمارے سامنے ہو تو پھر کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔اس وقت روئے ارضی پر مسلمانوں کی تعداد دو ارب بتائی جاتی ہے۔ان کے پاس وسائل کی بھی کمی نہیں۔عربوں کے پاس تیل کی دولت آئی۔یہ الگ بات ہے کہ ان کی نااہلی کی وجہ سے اس سے فائدہ وہی اٹھارہے ہیں جو مسلمانوں کے دشمن ہیں۔مسلمانوں کی ساری دولت ان کے بینکوں میں جمع ہیں۔عالمی سیاست میں ہمارا مقام نہ تین میں ہے اور نہ تیرا میں۔ہماری دنیا میں کوئی حیثیت نہیں۔ ہمارے پاس ایٹم بم ہے جس کی بنیادپر ہم کبھی کبھی امریکہ کے سامنے اکڑ جاتے ہیں۔یہ ایٹم بم بھی ہمارے کسی کام نہیں آسکتا ۔نبی اکرمؐ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ اقوام عالم تم پر ایک دوسرے کو اس طرح کو دعوت دیں گی کہ آئیے! یہ لقمۂ تر ہے ،تناول فرمائیے جس طرح دسترخوان پر کھانا چننے کے بعد مہمانوں کو کھانے کی دعوت دی جاتی ہے۔صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا کہ اے رسولؐ اللہ !ایسا وقت آئے گا جب مسلمان اتنے بے بس اور لاچارہو جائیں گے۔ کیا وہ تعداد میں کم ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا کہ تمہاری تعداد تو بہت ہوگی ۔صحابہ کرامؓ نے سوچا ہوگا کہ اس وقت ہماری تعداد میں سینکڑوں ہیں تو اس وقت لاکھوں میں ہوں گے۔ہم پونے دو ارب ہوں گے ، یہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔آگے فرمایا کہ تمہاری حیثیت ایسی ہوگی جیسے پہاڑی علاقوں میں جب بارش ہوتی ہے اور پانی اکٹھا ہوکر سیلاب کی شکل اختیار کرتا ہے جس پر جھاڑ جھنکار اورجھاگ ہوتی ہے۔اس سے زیادہ خوبصورت مثال نہیں مل سکتی ۔جھاگ بلبلے ہوتے ہیں جن میں وہ مزاحمت ہوتی ہی نہیں کہ خود اپنے بل پر کھڑے ہوسکیں۔صحابہ کرامؓکو پریشانی یہ ہوئی کہ اتنی کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود ایسا کیوں ہوگا ۔سبب پوچھا گیا تو فرمایا کہ تم میں وھن کی بیماری پیدا ہوجائے گی یعنی حب الدنیا اور کراہیت الموت۔دنیا ہی منتہائے مقصود بن گیا ہے ۔ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس تک نہیں کہ ہم مسلمان اللہ کی زمین پر اس کے نمائندے ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں پر دنیا کے مختلف مقامات پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ روہینگیا ، کشمیر اور چیچینیامیں مظالم ہورہے ہیں اور اب ایک طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ بارود کا ڈھیر بناہوا ہے۔وہاں مسلمانوں ہی کو استعمال کیا جارہا ہے جن کی پشت پر بڑی قوتیں ہیں۔روس بشار الاسد کی پشت پر ہے تو امریکہ اسرائیل کی پشت پر ۔ادلب میں جو کچھ ہوا اور اب غوطہ کے مسلمانوں پر بے رحمانہ فوج کشی کی گئی ہے ۔اس میں کسی مرد و زن، بچے اور بوڑھے کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا ۔گویا اس وقت سب سے بے سہارا اور مظلوم مسلمان ہے۔ہوگیا مانند آب ارزاں مسلماں کا لہو۔ہزارو ں کیا لاکھوں مسلمان قتل کردئیے جائیں ، دنیا کو کوئی پرواہ نہیں۔امریکہ، زمین پردنیا کی واحد سپر پاور، دنیا کی تہذیب کا خود کو امام سمجھتا ہے۔ایک شبہ کی بنیاد پر عراق کے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کردیا گیا او ر بعد میں ہاتھ جھاڑ کر واپس آگیا اوراعتراف کرلیا کہ عراق میں تباہی کے کوئی ہتھیار ہمیں نہیں ملے۔
ہر مسلمان یہ سوچتا ہے کہ اگر ہم اللہ کی نمائندہ امت ہیں تو اصولاً تو دنیا میں سب سے زیادہ سربلند اور طاقتور ہمیں ہی ہونا چاہئے ۔عملاً ہم دنیا میں اللہ کی نمائندہ امت ہیں اور ہم ہی اللہ کے آخر ی اور کامل رسولؐ کے پیروکار ہیں اور آپؐ کی ناموس پر جان دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔اللہ تعالیٰ مسلمان دشمن قوتوں کو تہس نہس کرے ۔ دنیا میں تو اقتدار و اختیار مسلمانوں کے پاس ہونا چاہئے۔ علامہ اقبال نے بھی قوم میں دوبارہ زندگی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اورجس کے بل پر انگریز اور ہندو کے مقابلے میں تحریک پاکستان چلائی گئی تھی ۔یہ علامہ اقبال کا یہ بہت بڑا کارنامہ تھا ۔انہوں نے اپنے کلام میں واضح کیا کہ اللہ تو آج بھی تمہارے ساتھ ہے لیکن تم نے اس سے بیوفائی کی ہے۔آج اسی کے نتائج تمہیں بھگتنا پڑرہا ہے۔
غوطہ شام کے دارالحکومت دمشق کا ایک نواحی علاقہ ہے جس کی آبادی چار لاکھ ہے۔ایک طویل عرصے سے بشارالاسد نے اس پوری آبادی کو محصور کررکھا ہے۔ان پر مہلک کیمیائی گیسوں کا استعمال بھی کیا گیا۔اب اس بے بس ، مجبور اور محصور آبادی پر بشارالاسد اور رو س کی افواج بمباری کررہی ہیں۔لاشیں بکھری پڑی ہیں۔اس مصیبت کے وقت وہاں کے لوگ امت مسلمہ سے اپیل کررہے ہیں مگر کوئی مسلم ملک ایسا نہیں جو ان کی مدد کے لئے آمادہ ہو۔اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
پاکستان وہ ملک ہے جس سے دنیا کے ہر خطے کے مسلمانوں کی امیدیں وابستہ ہیں۔افسوس کہ سرکاری سطح پر ہم بھی اس سانحے سے بالکل لاتعلق ہیں۔اندرون ملک حکومتی ادارے آپس میں متصادم ہیں۔میڈیاکو لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے اور بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دینے سے فرصت نہیں۔علماء بھی سیاست کی اس دوڑ میں اس طرح شریک ہیں لہٰذا انہیں امت مسلمہ کا درد اجاگر کرنے کی فرصت نہیں۔الا ماشاء اللہ۔عوام کا ایک حصہ پی ایس ایل کے چوکوں اور چھکوں پر لڈیاں ڈال کرمحو رقص ہے۔ مزدوروں پر مشتمل عوام کا دوسرا حصہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار کرنے کی جدوجہد میں سرگرداں ہے اور اسے کسی اور جانب دیکھنے کی فرصت نہیں۔کیا مسلم ممالک کے حکمراں یہ سمجھتے ہیں کہ ظلم و بربریت کا یہ سلسلہ صرف شام تک محدود رہے گا؟
اللہ تعالیٰ ہمیں خواب غفلت سے بیدار ہونے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین


ای پیپر