واٹر پالیسی پر سندھ کے تحفظات
16 مارچ 2018 2018-03-16

سندھی میڈیا میں وائس چانسلرز کے تقرر کے اختیارات گورنر سندھ کے بجائے وزیراعلیٰ کو دینے سے متعلق ایک بل اور کرشنا کولہی کے بطور سینیٹر منتخب ہونے کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ کرشنا کولہی اگرچہ مجموعی طور پر کوئی اہم رول ادا نہ کرسکیں۔ لیکن اس اقدام کو شیڈیولڈ کاسٹ کی سیاست اور اقتدار میں داخلہ کے طور پر اہمیت دی جارہی ہے۔
اخبارات میں سندھ کے مختلف اضلاع میں پانی کی شدت کی خبریں شایع ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ ذخائر میں پانی کی قلت بتائی جاتی ہے۔ سندھ کو یہ شکایت ہے کہ مجموعی پانی کی قلت سندھ کے حصے میں ڈالی جارہی ہے۔ خاص طور پر پنجاب یہ قلت شیئر کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس اثناء میں وفاقی حکومت کی جانب سے نیشنل واٹر پالیسی مرتب کی جارہی ہے۔ جس پر سندھ کے اخبارات نے اداریے اور مضامین لکھے ہیں۔
روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک کے لئے واٹر پالیسی کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ حتمی منظوری کے لئے یہ مسودہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل واٹر پالیسی میں پانی سے متعلق معاملات خاص طور پر مستقبل کی مشکلات سے نمٹنے کے لئے سفارشات مرتب کر لی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے بحران کو حل کرنے کے لئے نہ صرف بڑے ڈیم بنانا ضروری ہیں اس کے ساتھ ساتھ پانی کے استعمال کو بھی بہتر بنانا پڑے گا۔ اس پالیسی میں پانی سے متعلق وفاقی اور صوبائی سطح کے اداروں کی صلاحیت بڑھانے اور ان کو مزید رقومات کی فراہمی کی سفارش کی گئی ہے۔ اور وفاقی خواہ صوبائی سطح پر نئے ادارے قائم کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ واضح رہے کہ واٹر پالیسی سے متعلق سندھ کی تجاویز کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ اس کا خدشہ میڈیا میں شروع سے ظاہر کیا جارہا تھا۔ اگر سندھ کی تجاویز کو سنا نہیں جاتا، ایسے میں اس کو کس طرح قومی پالیسی کہا جاسکے گا؟ سندھ نے جو تجاویز دی تھیں ان میں کالاباغ ڈیم نہ بنانے کا اہم نکتہ پالیسی کے جز کے طور پر رکھنا شامل تھا۔ لیکن سندھ کی اس اہم تجویز کو سفارشات کا حصہ نہیں بنایاگیا۔ جبکہ مسودے میں نام لئے بغیر بڑے ڈیموں کی تعمیر کا ذکر موجود ہے۔ وفاقی حکومت واٹر پالیسی کو قومی قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر اس پالیسی میں سندھ کے تحفظات اور خدشات کو ایڈریس نہیں کیا جاتا تب تک اس پالیسی کو قومی نہیں کہا جاسکتا۔ پالیسی میں اس امر کی واضاحت کی جانی چاہئے کہ بڑے ڈیموں سے مراد کیا ہے؟ پانی وفاق کی یکجہتی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ واٹر پالیسی مرتب کرتے وقت اگر چھوٹے صوبوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا گیا، آگے چل کر بڑے مسئلے کھڑے ہوں گے۔ لہٰذا ایسے منصوبوں کو پالیسی کا حصہ نہیں بنانا چاہئے جو متنازع ہوں اور جن پر اتفاق رائے نہ ہو۔
روزنامہ ’’کاوش‘‘ نے سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویات کی فراہمی کی نشاندہی کی ہے ۔ اخبار کے مطابق ایک تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال 2015-16ء میں خرید کی گئی ادویات کا ڈرگ لیبارٹری سے معائنہ نہیں کرایا گیا۔ ملیریا کنٹرول پروگرام میں خریدی گئی ادویات کا بھی لیبارٹری ٹیسٹ نہیں کرایا گیا۔ مختلف ہسپتالوں کے لئے خریدی گئی میڈیکل گیسز کی خریداری میں بھی بے قاعدگی ہے۔اس کے علاوہ اخبار نے بنیادی سہولیات کی فراہمی والے منصوبوں میں بھی کرپشن کی نشاندہی کی ہے۔ جس کے مطابق واٹر سپلائی، ڈرینیج اور سولر منصوبوں میں کرپشن ہوئی ہے، اکثر منصوبے صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔ 152 میں سے 117 منصوبے مکمل بتائے گئے جن کے لئے روزنامہ ’’عوامی آواز‘‘ لکھتا ہے کہ صوبے کے بڑے شہروں میں قبضے کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں نے ممبر سازی مہم شروع کردی ہے۔
روزنامہ ’’عبرت‘‘ نے صوبے کے مختلف علاقوں میں بچوں میں خسرہ پھیلنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ انتظامیہ اور خود والدین کی لاپروائی کی وجہ سے بچوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ اس سطح پر خسرہ پھیلنے کی وجہ سے حفاظتی ٹیکے کے معیار پر سوالات کئے جارہے ہیں۔ ہر سال صحت کی مد میں ارب ہا روپے مختص کئے جاتے ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سندھ میں صرف خسرے جیسے مرض پر بھی قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ تو باقی امراض سے چھٹکارا دور کی بات ہے۔ ایک طرف یہ صورت حال ہے کہ والدین میں امراض سے متعلق آگاہی نہیں، دوسری جاب محکمہ صحت کی انتظامیہ کی کارکردگی بہتر نہیں، تیسرے یہ کہ حفاظتی ٹیکوں کا معیار بھی درست نہیں۔ ان سب نے مل کر عام لوگوں کے لئے ایک تکلیف دہ صورت حال پیدا کردی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خسرے کی بیماری کی وجہ سے اموات واقع نہیں ہوتیں، بلکہ بچوں کی کمزوری اور غذائیت کی قلت کی وجہ سے بیماری کے حملے میں شدت آجاتی ہے۔ جن بچوں میں بعض اہم وٹامن کی کمی ہوتی ہے ان پر خسرے کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اور وہ کمزوری اور خسرے کے بعد کسی دوسری بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ محکمہ صحت کے ذمہ داران اور عوامی نمائندگی کے لوگ یہ بات سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے صورت حال خراب ہو رہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر صوبے میں بچوں کی صحت پر توجہ دے اور بچوں میں غذائیت کی کمی اور خسرے کے بعد پیدا ہونے والے امراض سے متعلق آگاہی اور علاج کا بندوبست کرے۔ حکومت کو بطور مجموعی خسرے کے بارے میں بھی آگاہی مہم چلانی چاہئے۔ یہ اقدامات کر کے حکومت خاص طور پر دیہی علاقوں میں اپنے وجود کا احساس دلائے۔ حکومت کی جانب سے موثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف لوگ تکلیف بھگتتے ہیں بلکہ حکومت کے بارے میں بھی کوئی اچھا تاثر نہیں رکھتے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض توہمات کا بھی دروازہ کھل جاتا ہے۔


ای پیپر