یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا
16 مارچ 2018

گزشتہ کچھ سالوں سے اردو کے نام پر سجائے جانے والے ادبی میلو ں اورفیسٹیولز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اضافہ قابلِ تحسین ہے ۔جہاں ایک طرف ان ادبی میلوں اور فیسٹیولز کے حق میں بہت کچھ لکھا جاتا رہا وہاں دوسری طرف اس کے خلاف بھی ہمیشہ لکھا گیا۔خلاف لکھنے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہوتے جن کو یا تو ان میلوں میں بلایا نہیں جاتا تھا یا پھر جن کی مرضی کے مطابق سیشنز نہیں رکھے جاتے تھے۔لیکن جیسے بھی ہو یہ بات تو سو فیصد درست ہے کہ ان میلوں اور کانفرنسوں سے اردو زبان کو زیادہ فروغ نہیں ملا تو اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ لوگ اردو کے نام سے واقف ہو گئے۔ہمارے ہاں انگریزی کا غلبہ اس حد تک زیادہ ہو چکا ہے کہ اردو یا مادری زبان بولنے والوں کو تضحیک بھری نگاہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مغرب زدہ اداروں نے اردو سے نفرت کو زیادہ ہوا دی اور انگریزی زبان و کلچر کی جڑیں مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج انہی اداروں کا نام زیادہ لیا جاتا ہے جہاں عام بول چال میں بھی انگریزی کا سہارا لیا جاتا ہے ۔اس کا سب سے زیادہ نقصان نئی نسل کو یہ ہوا کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیا گیا کہ اردو تو کمزور اور لنگڑی زبان ہے ‘اس کا دامن خوبصورتی سے خالی ہے ۔ اردو بولنے والے لوگ ان پڑھ ہوتے ہیں یا کم از کم وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔مجھے بہت افسوس ہوتا ہے جب میں انگریزی اداروں کے پروگراموں پر جاتا ہوں اور وہاں نظامت سے لے کر ڈائریکٹر و پرنسپل کی گفتگو تک انگریزی میں ہوتی ہے اور والدین (جنہیں انگریزی کی الف ب نہیں آتی ہوتی) تالیاں بھی بجا رہے ہوتے ہیں اور خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہوتے۔ ایسے میں نفاذِ اردو کی تحریک یا اردو کے فروغ کے لیے سجائے جانے والی میلوں کو یقیناًسراہا جانا چاہیے کہ
انہوں نے اپنے حصے کی شمع تو جلائی‘لوگوں کو احساس تو دلا رہے ہیں کہ اردو ہماری قومی زبان ہے اور یہ قطعاکمزور اور چھوٹی زبان نہیں ہے ۔ہمیشہ زبانیں تب کمزور اور یتیم ہو جاتی ہیں جب انہیں بولنے والے ختم ہو جاتے ہیں‘جب تک کسی قوم کی زبان بولی جاتی رہے گی‘اس کی تہذیب اور کلچر زندہ رہے گا ورنہ زبان کے ساتھ ساتھ کلچر تک مردہ ہو جاتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہی نکلتا ہے کہ مشرقی اداروں میں محض مغربی تہذیب اور مغربی رسومات رہ جاتی ہیں۔جب بھی پاکستان یا پاکستان سے باہر کوئی اردو کا میلہ سجایا جائے یا کانفرنس منعقد ہو‘مجھے انتہائی خوشی ہوتی ہے اور میں اس کے حق میں لکھتا ہوں۔قارئین یہ ساری تمہید حالیہ تین روزہ قومی اردو کانفرنس منڈی بہاؤالدین کے لیے باندھی کیوں کہ یہ میرا آبائی شہر ہے ۔
آج سے تین سال قبل جب منڈی بہاؤالدین میں اردو کانفرنس کروانے کا سوچا تھا تو جہاں ہت سارے دیگر مسائل کا سامنا کرناپڑا وہاں جو سوال سب سے زیادہ پوچھا جاتا وہ یہ کہ ’’اتنے پس ماندہ ضلع ‘‘میں بھی یہ کام ممکن ہے مگر تین سال قبل اس پس ماندہ ضلع میں اس احقر نے اس عظیم کام کی بنیاد رکھ کر ثابت کیا کہ ضلع پسماندہ کوئی بھی نہیں ہوتا۔صرف سرکاری کرسیوں پر بیٹھے فرعونوں کی نظر وہاں تک نہیں جاتی اور وہ لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہو جاتے ہیں۔مجھے خوب یاد ہے کہ گزشتہ کانفرنس میں کتنے مسائل کا سامنا رہا۔اس دفعہ پھر یہ کام کرنے کا سوچا تو مسائل پہلے سے بالکل مختلف نہیں تھے۔مخالف لابیوں کی تشہیری مہم سے لے کر بجٹ کے مسائل تک‘بہت ساری چیزوں نے پریشان کیا مگر خدا کا شکر کہ یہ کام بھی بہت اچھے طریقے سے مکمل ہونے جا رہا ہے ۔پورے پاکستان سے مندوبین کو مدعو کیا گیا اور تین دن میں تقریبا دس سیشنز رکھے گئے جن میں شعروادب سے لے کر تعلیم اور صحافت تک کو زیر بحث لایا جائے گا۔24مارچ کو شروع ہونے والی کانفرنس 26مارچ تک جاری رہے گی جس میں ’’ڈیجیٹل عہد میں کتاب: مسائل اور امکانات ‘‘ سے لے کرمعاصر اردو شاعری ،معاصر اردو فکشن،کتابوں پر گفتگو،پاکستان کی ادبی صورتحال کا جائزہ،ہمارا نظامِ تعلیم اور عصری تقاضے اورپاکستا ن میں اردو صحافت جیسے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوگی۔ان مذاکروں میں اصغر ندیم سید‘ڈاکٹر ناصر عباس نیر‘ڈاکٹر تحسین فراقی‘ڈاکٹر زاہد منیر عامر‘ڈاکٹر قاسم بگھیو‘ڈاکٹر خضر نوشاہی‘گل نوخیز اختر‘ڈاکٹر صغریٰ صدف،‘ڈاکٹر رؤوف پاریکھ ‘ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ‘ ڈاکٹر سعادت سعید ‘ڈاکٹر عامر سہیل‘ڈاکٹر ضیاالحسن‘ڈاکٹر طارق ہاشمی ‘ ڈاکٹر عطااللہ عطا‘ ڈاکٹر عابد سیال ‘ حمید شاہد‘ ڈاکٹر خالد سنجرانی‘ ڈاکٹر سفیر حیدر ‘ ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی ‘ اختر رضا سلیمی‘ سلیم شہزاد‘ زاہد حسن‘ مبشر احمد میر ‘ ڈاکٹر صائمہ ارم‘ ڈاکٹر اصغر علی بلوچ‘
ڈاکٹر تہمینہ عباس‘ڈاکٹر اسحاق وردگ‘مولانا عبد الماجد یوسف خالد‘شعیب مرزا ‘ادریس قریشی اور سید حسنین محسن شریکِ گفتگو ہوں گے۔ دوسرے دن انتہائی مختصر شعری نشست کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جس کی صدارت معروف شاعر کیف عرفانی کریں گے جبکہ شاہین عباس‘شہزاد نیر‘مرتضی حسن‘افضل گوہر‘ارشد شاہین‘یونس تحسین و دیگر کئی اہم شعرا بھی اپنا کلام سنائیں گے۔آخری سیشن میں نامور ناول’’اینکر ‘‘کی تعارفی تقریب بھی رکھی گئی۔ یہ تینوں دن اردو ادب سے متعلق ہر موضوع پر کسی نہ کسی طرح گفتگو ہوتی رہے گی اور اس عظیم کام پر جی سی منڈی بہاؤالدین بار بار داد کا مستحق ہے ۔کانفرنس میں اتنے خوبصورت اور نامور اسپیکرز کو سننے کے لیے یقیناًایک بڑی تعداد موجود ہوگی۔انشااللہ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ کانفرنس گزشتہ کانفرنس کی طرح یادگار ثابت ہوگی کیونکہ برادر عرفان شہزادتارڑ‘مظہر دانش‘رضوان رضی‘امجد صدیقی ‘ظہیر ہنجرا کی محنتیں اور محمد عارف کی پریس مارکیٹنگ پر کی گئی کوششیں مثبت رنگ لائیں گے۔کیوں کہ یہ تمام لوگ اس زبان کو بچانے میں لگے ہیں جو تقریبا دم توڑتی نظر آ رہی ہے ۔ یہ لوگ سمجھ گئے کہ زبان زندہ رہے گی تو ہماری شناخت بنی رہے گی ورنہ زبان کے ساتھ ساتھ ہم اپنی شناخت بھی کھو دیں گے۔دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو کے لیے کام ہو رہا ہے یا ہوگا وہ سراہا جانا چاہیے کیوں کہ آج جس وقت حکومت اپنی دنیا میں مست ہے ‘زبان پہ محنت کرنا یا اسے بچانا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔زبان کوئی بھی ہو اس کی حفاظت ہونی چاہیے۔مادری زبانوں سے اس لیے محبت لازمی ہے کہ ہم لسانیاتی تقسیم سے آزاد ہو کر ایک قوم بن کر سوچیں اور اردو کی حفاظت اس لیے ضروری ہے کہ ہم انگریزی کلچر سے پیچھا چھڑائیں۔


ای پیپر