آج اور آنے والا تحیّر خیز کَل
16 مارچ 2018 2018-03-16

نصف صدی پہلے زندگی بہت سادہ ہوتی تھی۔ جدید اور خوش حال گھرانوں میں مرفی یا فلپس کا گراموفون ہوا کرتا تھا، جس پر’’ہز ماسٹرز وائس‘‘ (ایچ ایم وی) کے ریکارڈ سنے جاتے تھے، جن پر فونوگراف سنتے ہوئے کتے والا لوگو بنا ہوتا تھا۔ بھاپ کے انجن سے چلنے والی ٹرینیں سفر کا عام ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ بیش تر بستیاں بجلی سے محروم تھیں۔ رات کا کھانا جلد کھا لیا جاتا تھا اور لوگ عشا کی نماز ادا کرتے ہی سو جایا کرتے تھے۔ رات آٹھ بجے ریڈیو پر بی بی سی سے نشر ہونے والی خبریں سننا عموماً آخری سرگرمی ہوا کرتی تھی۔ سڑکوں پر اِکّا دُکّا کاریں اور موٹر سائیکلیں نظر آتی تھیں۔ مکڈونل ڈگلس، ٹرائمف اور بی ایس اے مقبول موٹرسائیکلیں ہوا کرتی تھیں جب کہ شیورلیٹ اور فورڈ جیسی دل کش اور باوقار امریکی کاریں سڑکوں پر راج کرتی تھیں۔ جاپان کی کم قیمت والی کاروں ٹویوٹا اور ہنڈا نے سڑکوں پر تب تک ہجوم نہیں کیا تھا۔
تار تیز ترین ذریعۂ پیغام رسانی ہوا کرتی تھی، جسے عموماً بیماری اور موت کی اطلاع دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔چناں چہ ڈاکیا معاشرے کی مرکزی شخصیت ہوا کرتا تھا، جو محبت، نفرت، موقع، غم اور دکھ کے پیغامات کے علاوہ منی آرڈر بھی لایا کرتا تھا۔ چھوٹے شہروں میں اس وقت تک سوئی گیس میسر نہیں تھی۔ غذا ہنوز اُپلوں، لکڑی یا مٹی کے تیل کے چولہوں پر پکائی جاتی تھی۔ زیادہ خوش حال گھرانے گیس سلنڈر استعمال کیا کرتے تھے۔
تحصیل دار، مجسٹریٹ اور مقامی پولیس افسر کو بہت اونچے افسر سمجھا جاتا تھا۔ نجی ہسپتال اور کلینک کھمبیوں کی طرح نہیں اُگے تھے ۔ ایکس رے اور خون کے ٹیسٹ جیسی بیش تر سہولیات صرف سرکاری ضلعی ہسپتال ہی میں میسرہوا کرتی تھیں۔ایم آر آئی اور سی ٹی سکین اس وقت تک ایجاد ہی نہیں ہوئے تھے۔ پینے کا پانی مقامی کنویں سے بھر کر لایا جاتا اور مٹی کے گھڑوں یا صراحی میں بھر کر رکھا جاتا تھا۔ ائیرکنڈیشنر یا واٹر ڈسپنیسر مفقود تھے۔
اکیسویں صدی شروع ہوتے ہی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی دیکھنے میں آئی۔ کمپیوٹروں نے دنیا بھر میں دھومیں مچا دیں اور تیزی سے بہت زیادہ مؤثر ہو گئے اورطوفان کی طرح انسانی زندگی کے ہر شعبے پر چھا گئے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک اپنے اپنے مصنوعی سیارے خلا میں بھیج چکے ہیں۔ راتوں رات مواصلات کی دنیا کی ماہیئت بدل گئی ہے۔ لینڈلائن فون قصۂ پارینہ بن چکا ہے کیوں کہ اب ہر کسی کے پاس دستی موبائل فون ہے۔ بُلٹ ٹرین کی کارکردگی اور آرام نے بھاپ کے انجن کے رومان کی جگہ لے لی ہے۔ رُودبارِ انگلستان عبور کر کے پیرس سے لندن جانے والی یورو ریل نے سفر کئی میل گھٹا دیا ہے۔ متروک کر دیے جانے والے کنکارڈ ہوائی جہاز پانچ گھنٹوں سے بھی کم وقت میں پیرس سے نیویارک تک پرواز کر سکتے تھے۔
دنیا اس حد تک سکڑ گئی ہے کہ سوچنا محال ہے۔ ٹیلی ویژن ٹیکنالوجی مسلسل تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اب ایک بٹن دبانے سے مصنوعی سیاروں کے ذریعے ہزاروں چینل دستیاب ہیں۔ اب جو کوئی بھی مواصلات پر کنٹرول رکھتا ہے، وہی اعلیٰ ترین قوت کا حامل ہے۔ صرف دولت مند گھرانوں کے پاس کوڈک کیمرا ہوا کرتا تھا لیکن اب ہر موبائل فون میں ہائی ڈیفی نیشن کیمرا ہوتا ہے۔ ہر چیز اور واقعے میں سازش دیکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ دستی آلات ہماری ہر حرکت جاننے کے لیے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
زراعت، مرغ بانی اور ماہی گیری میں بھی انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ ہارمون میں تبدیلی کرنے کے سائنسی عمل
اور جینیات نے پیداوار بہت زیادہ بڑھا دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی سائنس دانوں نے مصنوعی گوشت بنا لیا ہے اور یہ امر یقینی ہے کہ اگلے دس سال بعد کسی جانور کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
ہتھیار اور جنگی آلات بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب ٹیکنالوجی نیا ہتھیار ہے۔ اب کوئی شخص کیلی فورنیا میں بیٹھے بیٹھے بآسانی مصنوعی سیاروں کے ذریعے افغانستان یا پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کسی دہشت گرد کی شناخت کر کے اسے ہلاک کر سکتا ہے۔ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پیٹریاٹ میزائل کا پیش خیمہ بنے ہیں، جنھوں نے انھیں بے اثر بنا دیا ہے۔
یہ اختتام نہیں آغاز ہے۔ ماہرینِ عمرانیات و ٹیکنا لوجی مرعوب کن پیش گوئیاں کر رہے ہیں جو یکساں طور پر ہیجان خیز بھی ہیں۔ جلد ہی 20پرزوں پر مشتمل برقی انجن20,000 پرزوں پر مشتمل پٹرول سے چلنے والے انجنوں کی جگہ لے لیں گے، جنھیں تاحیات گارنٹی کے ساتھ فروخت کیا جائے گا اور کسی خرابی کی صورت میں 10 منٹ کے اندر اندر تبدیل کر دیا جایا کرے گا۔ بجلی بھرنے والے چارجنگ سٹیشن پٹرول پمپوں کی جگہ لے لیں گے۔ یہ جلد ہی فوسل فیولزصنعتوں کی جگہ لے کر انھیں ابدی نیند سلا دیں گی۔ مزیدبرآں ذاتی کاریں متروک ہو جائیں گی کیوں کہ 2020ء میں خود چلنے والی کاریں بازار میں دستیاب ہو جائیں گی۔ امید ہے کہ ہر ساٹھ ہزار میل پر
ایک حادثے کی شرح بڑھ کر ساٹھ لاکھ میل پر ایک حادثے کی شرح ہو جائے گی جس سے بیمے کے کاروبار پر بھی بہت زیادہ اثر پڑے گا۔
شاید سب سے زیادہ حیران کن ترقی طب کے شعبے میں رونما ہو گی۔ جراحی میں روبوٹوں کا استعمال پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور انتہائی ترقی یافتہ ہسپتال نازک جراحی کے لیے کمپیوٹر سے چلنے والے روبوٹ استعمال کر رہے ہیں۔ حیاتی انجنئیرنگ اور جینیات ایک اور سحر خیز شعبہ ہے اور سائنس داں ذیابطیس، گردوں کا کام چھوڑ دینا اور دل کے امراض جیسی بیماریاں ختم کرنے کی غرض سے انسانی بافتوں کو جانوروں میں پیدا کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
زراعت میں انقلاب برپا ہونے والا ہے۔ ایروپونکس زیادہ سے زیادہ کارگر ہوتی جا رہی ہے اور پیٹری ڈِش گوشت پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہے جس سے یقینی طور پر مال مویشیوں کے زیرِ استعمال زمین خالی ہو جائے گی اور خودکار زراعت کے لیے زیادہ اراضی اور سستی مشینیں دستیاب ہوں گی۔
مختصر یہ کہ ’’ایکسپونینشل ایج‘‘ اور چوتھا صنعتی انقلاب برپا ہونے کو ہے۔ بہت سی پرانی صنعتیں فنا ہونے کو ہیں جب کہ نئی اختراعی قسم کی صنعتیں انھیں چیلنج کرنے کے لیے تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔ اختراع اور بہتر بنانے کے عمل کا نتیجہ ہے کہ اوبر دنیا کی سب سے بڑی کیب کمپنی ہے جس کے پاس کوئی کار نہیں اور ائیر بی این بی ایک ہوٹل کمپنی ہے جس کے پاس کوئی جائیداد نہیں۔ ہم مسلسل تبدیلی کی صورتِ حال میں جی رہے ہیں۔ اعلیٰ کارکردگی کے آفاق اور حدود کا تعین ہر لمحہ ازسرِنو ہو رہا ہے۔ میں امید پرست ہوں اور ہمیشہ ہر چیلنج میں مواقع دیکھتا ہوں۔ پاکستان کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمارے پاس افرادی قوت اور ہنرمند مزدور وں کے علاوہ فروغ پذیر منڈی بھی ہے۔ اشد ضروری ہے کہ ہم ان ترقیوں کے دوش بدوش رہتے ہوئے اپنا امتیازی مقام حاصل کرنے اور انفرادی و اجتماعی طور پر مستفید ہونے کے لیے اپنی صلاحیتیں انتہائی اثر آفریں اور مؤثر انداز سے استعمال کریں۔
(نوٹ:مضمون نگار جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)


ای پیپر