تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
16 مارچ 2018



حضرت عمرفاروقؓ اپنے دور خلافت میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ آپ لوگوں سے یوں گویا ہوئے کہ اگر میں عوامی معاملات میں ٹیڑھا چلنے کی کوشش کروں تو ۔۔۔ آپ کا اتنا کہنا ہی تھا کہ فوراً ایک صحابی اٹھا اور اس نے اپنے نیام سے تلوار نکال لی۔۔۔ مجھے کیوں نکالا کے جواب میں یہ واقعہ اپنی ایک مستند حیثیت رکھتا ہے ۔ اسی طرح حضرت عمرؓ جمعتہ المبارک کا خطبہ دے رہے تھے تو حالیہ ہی کسی جنگ سے جو مال غنیمت حاصل ہوا تھا اس میں سے آپ کے حصے میں ایک چادر آئی تھی۔ آپ نے جو کپڑے زیب تن فرمائے تھے ان کے لیے ایک چادر کم پڑتی تھی۔ جب کہ پہنے ہوئے لباس میں دو چادروں کا استعمال ہوا تھا دوران خطبہ ہی بھری مجلس میں ایک صحابی نے نکتہ اعتراض بلند کیا کہ اے امیر المومنین آپ کے حصے ایک چادر آئی تھی جبکہ آپ نے دوسری چادر کہاں سے لی؟ تو آپؓ نے فرمایا میں نے دوسری چادر اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمرؓ سے لی ہے تاکہ میں اپنے تن کو ڈھانپنے کے لیے ایک لباس بنوا سکوں۔ اب آپ فیصلہ کیجیے کہ کسی حکمران سے باز پرس کرنا کہ یہ دولت اس نے کہاں سے کمائی۔۔۔ کوئی غلط فعل نہیں ہے ۔مجھے کیوں نکالا کا دوسرا جواب یہ ہے ، اب آئیے ایک اور واقعہ پڑھیے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا بیٹا روزگار کی تلاش میں عراق
تشریف لے گیا۔ ایک سال بعد واپس لوٹا تو ساتھ مال و دولت کے لدے ہوئے اونٹ تھے۔ حضرت عمرؓ جو اس وقت خلیفہ تھے انہوں نے بیٹے سے استفسار کیا۔۔۔ اتنا مال کہاں سے آیا؟ بیٹے نے جواب دیا کہ تجارت کی ہے ۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا تجارت کے لیے تمہارے پاس اس قدر روپیہ پیسہ کہاں سے آیا؟ بیٹے نے فرمایا چچا نے قرض دیا ۔ چچا سے مراد کوفہ کا گورنر تھا۔ حضرت عمرؓ نے فوراً کوفہ کے گورنر کو مدینہ طلب کر لیا۔ واضح رہے کہ کوفہ کے گورنر صحابی رسولؐ بھی تھے۔ حضرت عمرؓ نے گورنر سے پوچھا کہ کیا کوفہ کے بیت المال میں اس قدر دولت کی فراوانی ہو گئی ہے کہ آپؓ ہر شہری کو قرض دے سکتے ہیں ؟ گورنر نے جواب دیا کہ نہیں ایسا تو نہیں ہے ۔ آپ نے پھر پوچھا کہ میرے بیٹے کو قرض کیوں دیا؟ اس لیے کہ وہ میرا ( خلیفہ وقت کا) بیٹا ہے ۔ میں تمہیں کوفہ کی گورنری سے معزول کرتا ہوں کیونکہ تم امانت داری کے اہل نہیں ہو۔ پھر آپؓ نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ سارا مال بیت المال میں جمع کروا دو اس مال پر تمہارا کو ئی حق نہیں ہے ۔
جب کم عملی، اسلام سے دوری، مذہب سے نفرت، ختم نبوت ؐ کی شقوں میں تبدیلی، غیر ملکی آقاؤں کی خوشامد اور خوشنودی کے لیے سیکولرزم اپنا لینا ، دین سے بے خبری، دنیا کی حقیقت پر خاموشی اوڑھ لی جائے تو جوتے حکمرانوں کا مقدر بن جاتے ہیں اور سیاہی منہ کی کالک کا روپ دھار لیتی ہے ۔ کبھی ان حکمرانوں نے اپنی اولاد سے پوچھا کہ اتنی دولت آپ کے پاس کہاں سے آئی۔اتنا بینک بیلنس آپ کے پاس کہاں سے آیا۔ کبھی شہباز شریف نے حمزہ شہباز سے نواز شریف نے مریم نواز ، حسن اور حسین نواز سے، پرویز الٰہی نے مونس الٰہی سے ، جناب آصف علی زرداری نے بلاول زرداری سے اور دیگر وزراء نے اپنے لخت جگر وں سے پوچھا کہ اس قدر مال آپ کے پاس کہاں سے آیا۔ اس قدر قرضے آپ نے کیونکر ملکی خزانوں سے لیے۔آپ کو یاد ہو گا اگر نہیں یاد تو میں یاد کرواتا ہوں۔ ماہر معاشیات شوکت عزیز کبھی ہمارے وزیر اعظم ہواکرتے تھے ۔ آج سے تین ماہ قبل ان کا اکلوتا بیٹا جس کی عمر اڑتیس چالیس سال تھی، لندن کے ہسپتال میں کینسر جیسے مرض سے لڑتا لڑتا زندگی کی بازی ہار گیا۔ پاکستان کے اخباروں میں فقط تین سطری خبر شائع ہوئی تھی اور کسی نیوز چینل نے بریکنگ نیوز نہیں دی۔ شوکت عزیز نے کو ن سی مالی کرپشن کی تھی جو اپنے بچے کے لیے نہیں کی تھی۔ ہم بھول جاتے ہیں مورخ اور تاریخ کبھی نہیں۔۔۔آپ چیف جسٹس کو بابا رحمتے کی بجائے جونسا نام مرضی تجویز کر دیں کوئی بات نہیں۔ مگر کوئی ایک آدھ کرپشن کی طرف بھی توجہ ہے ۔ آپ پوری تاریخ اسلام کامطالعہ فرما لیں۔ آپ کو نبیؐ کی ذات سے لے کر خلفاء راشدین میں سے کوئی ایسا عمل نظر نہیں آئے گا کہ انہوں نے مال دولت اکٹھا کیا ہو۔ انہوں نے وسیع پیمانے پر کاروبار چمکائے ہوں یا وسیع پیمانے پر تجارت کی ہو۔ اگر ہم مسلمان ہیں اور نبی ؐ کے دین پر ایمان رکھتے ہیں تو ذرا اپنے اپنے گریبانوں کے اندر تو جھانکیں کہ ہم نے کس قدر ملک کو نقصان پہنچایا ہے ۔ کس قدر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رکھا ہے ۔ کس قدر قومی خزانے کو لوٹا ہے ؟ ولادی میر لینن، جس کا عرصۂ حیات ( 1870-1924 ) صرف چون سال پر محیط ہے اور آپ ایک عظیم روسی انقلابی لیڈر تھے کہتے ہیں بڑا لیڈر اس وقت ہی بڑا لیڈر بنتا ہے جب اختیارات اور طاقت ملنے کے بعد وہ اپنے ذاتی و خاندانی مفادات کو قربان کر کے عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتا ہے ۔ آج آپ خود فیصلہ کریں کہ اس ملک میں کو ن سا ایسا لیڈر ہے جو اس معیار پر پورا اتر رہا ہے اور کون ملک و قوم کے ساتھ سنجیدہ اور مخلص ہے جس کے دل میں قوم کا درد اور دکھ موجزن ہے ۔ میرے اس ملک میں ہرگز ممکن نہیں ہے اور نہ ہی کسی حکمران یا لیڈ ر کے اندر ایسا دل ہے جو صرف قوم یا عوام کے لیے دھڑکتا ہو۔ بابا رحمتے صاحب! آپ خود ماہر قانون ہیں اور قانون کے داؤ پیچ سے کما حقہٗ واقف ہیں ۔اسمبلیاں صرف قانون سازی کے لیے ہیں نہ کہ کرپشن کرنے یا اپنے لیڈر کی سیاہی اور سفیدی کے حق میں دلائل دینے کے لیے ہوتی ہیں۔ آج کسی سیاسی جماعت کے ممبر نے یہ نہیں کہا کہ اس کی پارٹی کا لیڈر حق پر نہیں ہے ؟ یا وہ غلطی پر ہے ۔ سب اسے فرشتہ ثابت کرنے کے لیے ٹاک شوز اور اخبارات کی طرف دوڑتے ہیں۔ جناب عالیٰ! فقط یہی اصول، ضابطہ ، آئین یا قانون ہونا چاہیے کہ کوئی بھی اسمبلی کا ممبر، وزیر ، مشیر، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیراعظم اور صدر اپنے قومی عہدے کے ساتھ نہ کوئی کاروبار کر سکتا ہے اور نہ کسی کاروبار
میں شرکت کر سکتا ہے ۔ و ہ قومی نمائندہ نہ قومی خزانے سے یا کسی مالی ادارے سے قرضہ لے سکتا ہے اور نہ ہی قومی خزانے کا بے دریغ استعمال کر سکتا ہے ۔ وہ نمائندہ نہ ہی کسی قومی اخبار میں اپنی تشہیر کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی ٹی وی چینل پر اپنے منصوبوں کی رونمائی کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی پروٹوکول لے سکتا ہے اور نہ آتے ہی اس کے گزرتے وقت سڑکوں کو بلاک کیا جا سکتا ہے ۔ وہ قومی خزانے سے صرف اتنا ہی بجٹ لے سکتا ہے جو فقط اسے زندہ رکھنے کے لیے میسر ہو۔ وہ اپنا علاج اسی ہسپتال سے کروائے گا جس ہسپتال میں غریب عوام کا علاج ہوتا ہے ۔ وہ نمائندہ بھی وہی پانی استعمال کرے گا جو عوام استعمال کرتے ہیں۔ اگر عوام کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے تو اسے بھی اسی کرب سے گزرنا پڑے گا۔ اس نمائندے کو بھی وہی سہولتیں میسرہوں جو اس ملک کے عوام کو حاصل ہیں۔ اگر ایسا ممکن ہو تو تب جا کر کوئی بات بن سکتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو بقول فرحت عباس شاہ
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظرشام کے بعد
کتنے چپ چاپ سے لگتے شجر شام کے بعد
تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ
تو کسی روز میرے گھر میں اترشام کے بعد


ای پیپر