پاکستان کا تشخص۔۔۔ اسلام کی حکمرانی
16 مارچ 2018

قیام پاکستان ایک معجزہ اور انسانی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے۔ مسلمانان برصغیر نے انگریز سامراج کی سازشوں اور ہندو بنئے کی چالبازیوں کے باوجود اپنی بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کے قیام کو ممکن کردکھایا۔ ایک الگ مملکت کا خواب علامہ اقبال ؒ نے دیکھاتھا لیکن اسکی تعبیر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قسمت میں لکھی تھی جنھوں نے مسلمانان برصغیر کو ایک منظم قوم میں بدلا اوراپنے اخلاص، بلند کردار، جرأت و استقامت، اصول پسندی اور دو قومی نظریے پر یقین کے نتیجے میں پاکستان بنانے میں کامیابی حاصل کی ۔
بیسویں صدی میں جابجامسلم ممالک دنیا کے نقشے پر ابھرے ہیں،جغرافیہ اور تاریخ بدلی ہے۔اور ظاہر ہے کہ کسی نے طشت میں رکھ کر مسلمانوں کو آزادی پیش نہیں کی ہے بلکہ کشمکش ، آگ اور خون کے دریا پار کرکے آزادی حاصل کی گئی ہے۔ ہر ایک جو اپنا پاکستان بنا رہاتھایا اپنے ہی ملک کے اندر استعمار کو بھگا رہاتھا،توہر جگہ کے لحاظ سے نعرہ یہی تھا’’ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ‘‘،اور یہ اسلام کا مضبوط حوالہ تھاجس نے لوگوں کے اندر کردار،جدوجہداور کوشش و کاوش کا ایک عنوان اور بڑے پیمانے پر قربانیاں دے کر کشمکش مول لینے کا کلچر پیداکیا۔لہٰذا اس اعتبار سے یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ آج اگر ستاون ملک دنیا کے نقشے پر آزاد مسلمان ملک کہلاتے ہیں تو حقیقتاً ان کی بڑی تعداد اسلام اور کلمے کے نام پرآزاد ہوئی ہے۔ خود برصغیر پاک و ہند میں لاکھوں انسان آگ اور خون کے دریا سے گزرے۔ بہنوں بیٹیوں کے دامن عصمت تار تار ہوئے اور لوگ لٹے پٹے قافلوں کی صورت میں پاکستان پہنچے۔ظاہر ہے کہ یہ قربانی اور جدوجہدکسی مادی مفاد کیلئے نہ تھی بلکہ اس اسلامی نظریے کیلئے تھی جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہونے جارہا تھا۔ دینی و مذہبی احساس، پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا خواب اور اس کی خاطر ہر قربانی کو
انگیز کرنے کا جذبہ، یہ وہ عناصر ترکیبی ہیں جو قیامِ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کی اصل بنیاد ہیں۔
بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے جب بھی حصول پاکستان کے مقاصد کا ذکر کیا توان مقاصد میں ایک ایسی اسلامی ریاست کا قیام سرفہرست تھا جہاں قرآن و سنت کی فرمانروائی ہو۔ 21 نومبر 1945ء کو فرنٹیئر مسلم لیگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ :’’مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ خود اپنے ضابطۂ حیات، اپنے تہذیبی ارتقاء، اپنی روایات اور اسلامی قانون کے مطابق حکمرانی کرسکیں۔ہمارا دین، ہماری تہذیب اور ہمارے اسلامی تصورات وہ اصل طاقت ہیں جو ہمیں آزادی حاصل کرنے کیلئے متحرک کرتے ہیں‘‘۔
اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ :’’مسلم لیگ ہندوستان کے اْن حصوں میں آزاد ریاستوں کے قیام کی عَلم بردار ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاکہ وہاں اسلامی قانون کے مطابق حکومت کرسکیں‘‘۔
قائد اعظم نے جب بھی اسلام اور پاکستان کے تشخص اوربرصغیر کے مسلمانوں کے ایک جداگانہ قوم ہونے کی بات کی تو یہ کسی مصلحت یا رسمی اور روایتی طور پرنہیں تھی بلکہ انھوں نے ایک عملی حقیقت کے طور پراسے بیان کیا۔وہ مسلمانوں کے ملّی تشخص کے دل سے قائل اور پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے آرزو مند تھے۔ گاندھی سے خط و کتابت کے دوران ستمبر 1944ء میں انھوں نے گاندھی کو لکھا: ’’ہم اس کے قائل ہیں اور ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ مسلمان اور ہندو دو بڑی قومیں ہیں جو’’قوم ‘‘ کی ہر تعریف اور معیار پر پوری اترتی ہیں۔ ہم دس کروڑ کی ایک قوم ہیں۔ مزید برآں ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ایک مخصوص اور ممتاز تہذیب و تمدن، زبان و ادب، آرٹ اور فنِ تعمیر، احساس اقدار و تناسب، قانونی احکام و اخلاقی ضوابط، رسم و رواج اور تقویم (کیلنڈر)، تاریخ اور روایات، رجحانات اور عزائم کی مالک ہے۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ زندگی اور اسکے متعلقات کے بارے میں ہمارا اپنا ایک امتیازی زاویہ نگاہ ہے۔ اور قانونِ بین الاقوامی کی ہر دفعہ کے لحاظ سے ہم ایک قوم ہیں‘‘۔
11اکتوبر 1947ء کو کراچی میں مسلح افواج کے افسروں سے خطاب میں فرمایا: ’’قیام پاکستان ، جس کیلئے ہم گزشتہ دس برس سے کوشاں تھے، اللہ کے فضل و کرم سے آج ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن اپنی مملکت کا قیام دراصل ایک مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے بذات خود کوئی مقصد نہیں۔ تصور یہ تھا کہ ہماری ایک مملکت ہونی چاہیے جس میں ہم رہ سکیں اور آزاد افراد کی حیثیت سے سانس لے سکیں۔ جسے ہم اپنی صوابدید اور ثقافت کے مطابق ترقی دے سکیں اور جہاں اسلام کے معاشرتی انصاف کے اصول جاری و ساری ہوں‘‘۔
قائداعظم کی یہ دیرینہ خواہش رہی کہ پاکستان کی نشوونما ایک ایسی مضبوط اور مثالی اسلامی ریاست کی حیثیت سے ہو جہاں کے باشندے اپنے عقیدے کے مطابق اپنے مذہب پر عمل کر سکیں اور اسلام کے نظام عدل
و انصاف سے مستفید ہوسکیں۔قائد اعظم کی تقاریر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام کوصرف چند عقیدوں، روایتوں اورروحانی تصورات کا مجموعہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کیلئے ایک ضابطہ سمجھتے تھے جو اسکی زندگی اور کردار کو سیاست و معیشت اور انفرادی و اجتماعی معاملات میں انضباط عطا کرتا ہے۔ قرآن مجیدکے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کر سکتے ہیں۔ قائداعظم کے نزدیک پاکستان کی اساس اسلام اور صرف اسلام تھی وہ محض ایک قطۂ زمین حاصل کرکے سیاسی مفہوم میں ایک ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے بلکہ اُن کا حقیقی مقصد ایک نظریاتی اسلامی مملکت کا قیام تھا۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ ’’مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے ‘‘۔ جس ملک کی بنیاد ہی مسلم قومیت ہو اور مسلم قومیت کی اساس صرف کلمہ طیبہ ہے تو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے ملک کی نظریاتی سرحدیں کیسے تصوراتی اور خیالی ہو سکتی ہیں۔ علامہ اقبال نے فرمایاتھا کہ:
گر تو می خواہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جذبہ قرآن زیستن
تو قائداعظم نے علامہ اقبال کے اس شعر کو اپنے الفاظ میں کچھ اس طرح بیان کیا تھا کہ ’’وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے۔ وہ کون سا لنگر ہے جس سے اُمت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے۔ وہ رشتہ، وہ چٹان اور وہ لنگر خدا کی کتاب قرآن مجید ہے‘‘۔
قائد اعظم کے تصور پاکستان کے یہ وہ خدوخال ہیں جو ان کی مختلف تقریروں میں جابجا بکھرے ہوئے ہیں اور ایک اسلامی ریاست کا وہ تصورپیش کرتے ہیں جس کو عملی جامہ پہنا کرہم نہ صرف موجودہ چیلنجز سے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں بلکہ ایک باوقار اور ترقی یافتہ قوم کی صورت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔


ای پیپر