سابق صدر پرویز مشرف نے وطن واپسی کا اعلان کر دیا
16 مارچ 2018 (17:28) 2018-03-16

اسلام آباد:

ملک کا بدلتا سیاسی منظر نامہ جہاں ہر طرف ہلچل مچی ہوئی ہے وہیں تمام سیاسی جماعتیں زور و شور سے اپنے جلسے کرنے میں مصروف ہیں ۔الیکشن کی آمد آمد پر ملکی سیاسی جماعتوں نے عوامی رابطے شروع کر دئیے ہیں ۔ایسے میں سابق صدر پرویز مشرف نے پاکستان واپسی کا اعلان کر دیا ۔پر ویز مشرف مختلف مقدمات عدالتوں کو مطلو ب ہیں ۔

 ذرائع کے مطابق مشرف کی جانب سے وزارتِ داخلہ اور دفاع کو 13 مارچ کو بذریعہ کوریئر درخواست موصول ہو چکی ہے۔ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے وطن واپسی کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی سیکیورٹی کیلئے حکومت کو درخواست دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں وزارتِ داخلہ اور دفاع کو 13 مارچ کو بذریعہ کوریئر درخواست موصول ہوئی۔

پرویزمشرف کی درخواست موصول ہونے پر وزارتِ داخلہ میں مشاورت کا عمل جاری ہے جبکہ ان کی سیکیورٹی کیلئے درخواست متعلقہ وزارتوں کو بھجوائی جا چکی ہے۔ادھر پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا ہے کہ سابق صدر پاکستان آ کر عدالتوں میں پیش ہونا چاہتے ہیں تاہم ان کی وطن واپسی پر سیکیورٹی خدشات ہیں۔دوسری جانب خصوصی عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ پرویز مشرف کی واپسی کیلئے حکومت کے اب تک کے اقدامات مایوس کن ہیں۔ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف 7 روز میں وطن واپسی کے حوالے سے وزارت داخلہ کو تحریری جواب دیں، تاہم اگر وہ جواب نہ دیں تو حکومت انھیں گرفتار کر کے واپس لائے اور وزارتِ داخلہ ان کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے بھی رابطہ کرے جبکہ وزارتِ داخلہ پرویز مشرف کا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بھی معطل کر سکتی ہے۔

خصوصی عدالت کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف عدالتی مفرور اور اس وقت دبئی میں رہائش پذیر ہیں۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے۔ معاہدے کے تحت پرویز مشرف کی گرفتاری اور دبئی کی جائیداد ضبط ہو سکتی ہے۔


ای پیپر