بجٹ پر نظر
16 جون 2020 (20:23) 2020-06-16

ملک تنقیدی تحریروںکے دور سے گزر رہا ہے حالانکہ قلم چلاتے ہوئے کبھی کبھار تعریف کی فراخدلی دکھانے میں کوئی قباحت نہیں ممکن ہے لکھاری بھی حکومت کے بے لچک رویے سے متاثرہو رہے ہوں اگر ایسی بات ہے تو ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ ہر دور میں اپوزیشن سے سختی روا رکھنا انوکھی بات نہیں اب بھی تنقید کے جواب میں اِداروں کے ذریعے لگامیں کھینچی جارہی ہیں ویسے وزیرِ دفاع پرویز خٹک اگر پی ٹی ایم جیسی جماعت کو مذاکرات کی دعوت دے سکتے ہیں تو اپوزیشن کا تعاون حاصل کرنے میں کیا قباحت ہے؟ تعاون حاصل کرنے سے ملکی مسائل حل کرنے سے حکومت کو ہی فائدہ ہونا تھا اِس طرح نہ صرف مدتِ اقتدار آرام سے پوری ہونے کا مکان بڑھ جاتا بلکہ تنقیدی دور میں میں بھی ٹھہرائو آجاتا سیاسی استحکام سے حکومت بیرونی چیلنجز کا زیادہ یکسوئی سے جواب دینے کی پوزیشن میں آجاتی مگر جو اقتدار میں آتا ہے اُسے اپنی بازی گری دکھانے سے دلچسپی ہوتی ہے کسی کی سُننے کا حوصلہ نہیں کیا جاتا اسی بنا پرسیاسی قیادت کا ایک دوسرے سے مسائل دیکھنے اورسمجھنے کا بھی الگ و متضاد نکتہ نظر ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت کئی سیاسی رہنمائوں نے اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی خیریت دریافت کی مگر حکومت اِتنا ظرف پیدانہیں کرسکی بلکہ سلیمان شہباز کو اِنٹر پول کے زریعے ملک میں لانے کا عندیہ دیا جارہا ہے حالانکہ خیریت دریافت کرنے سے بجٹ منظوری کی رسم پوری کرنا بھی سہل ہوجاتا مگرلگتا ہے حزبِ اقتدار کا بہتان تراشنا ہی اولیں ترجیح ہے تبھی تو تحریروں میں بھی تنقید کا عنصر حاوی ہے اورکم ہی لوگ تحریر میں تعریف کی فراخدلی پر آمادہ ہوتے ہیں یہ سوچ قابلِ رشک یا قابلِ تقلید نہیں ۔

ٍٍ7137ارب پر مشتمل حالیہ بجٹ کو ٹیکس فری کہہ سکتے ہیں اگر منی بجٹ نہ لائے گئے توپیش کردہ بجٹ مناسب اور متوازن ہے حالانکہ دبائو کا شکار معیشت کی بحالی کے لیے محاصل کی وصولی اشد ضروری ہے مگر نرمی کی گئی ہے قبل ازیں محاصل کی مد میں 4700کے ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر صرف 3900ارب وصول کر سکی برآمدات، ترسیلات، تجارت اور پیداوار کے حوالے سے بھی کوئی ہدف حاصل نہ ہو سکا اِس لیے عام اندازہ یہ تھا کہ خراب ملکی معیشت اورکروناکی بنا پر ہونے والے نقصانات کے تناظر میںحکومت کچھ سخت فیصلے کر سکتی ہے لیکن بجٹ تفصیلات سے سختی نہیں نرمی اور دلجوئی کا تاثر ملتا ہے حکومت نے کوشش کی ہے کہ عام آدمی کومسائل کے بوجھ سے آزاد کیا جائے خطے کے تمام ممالک سے

پاکستان میں پیٹرول کے نرخ کم ہیں اگر حکومت اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کی طرف توجہ دے تو صحیح معنوں میںمہنگائی کم کی جا سکتی ہے مگر نرخ کم ہونے سے پیٹرول کی قلت ہوگئی ہے جس سے مہنگائی کم ہونے کی بجائے اُلٹا نئے مسائل نے جنم لیا ہے ۔

بجٹ میں آئی ایم ایف کی سفارشات اور ہدایات کی بنا پربھی توقع تھی کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن کی جائے گی کیونکہ قرض دینے والوں کی نظر وصولی پر ہوتی ہے اگر رحمدلی کا مظاہرہ کرنے لگیں تو رقوم ڈوب سکتی ہیں اسی لیے وصولی میں سفاکی اور سنگدلی سے بھی دریغ نہیںکیا جاتا بجٹ سے قبل کچھ ماہرین ایسے اِشارے دے رہے تھے کہ ممکن ہے تنخواہوں اور پینشنوں میں کمی کردی جائے مگر تفصیلات سامنے آنے سے ایسے خدشات ختم ہوگئے حکومت نے اگر سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ طبقے کوا دائیگی میں اضافہ نہیں کیا تو کمی بھی نہیں کی کرونا کی وجہ سے کسادبازاری میں یہ بھی ریلیف سے کم نہیں موجودہ حالات میں کوئی بھی جماعت برسرِ اقتدار ہوتی تو ایسا ہی فیصلہ کر تی کچھ سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر بے چین ہیں اورحکومتی فیصلے کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں مگر اُنھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران وہ بے کار بیٹھ کر پوری تنخواہ ، ہائوس رینٹ اورٹی اے ڈی اے سمیت تمام سہولتیں حاصل کر رہے ہیں اگر ملک آزمائش کا شکار ہے تو قربانی سے راہ ِ فرار اختیار نہیں کرنی چاہیے کرونا سے ہمارا ہی ملک متاثر نہیں ہوا پوری دنیا میں مندی کی لہر ہے اچھے دنوں کے لیے وقتی تکلیف پر بلبلانا مناسب نہیں۔

بجٹ کا اطمنان بخش پہلو یہ ہے کہ تعلیم اور صحت کے لیے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے صحت و تعلیم کی نہ گفتہ بہ حالت بہتر بنانے کے لیے مختص رقوم میں اضافہ اشد ضروری تھاملکی تاریخ میں پہلی بار بجٹ سے مدارس کو بھی حصہ ملا ہے نیز امدادی رقوم میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے سماجی تحفظ کا حصہ 208 کردیا گیا ہے مدارس کو انتہا پسندی سے بچانے کے لیے مختص رقم نہ صرف اہم کردار ادا کرے گی بلکہ مدارس کو حکومتی دائرہ اثر میں بھی لایا جا سکے گا اور دینی کے ساتھ طلبا جدید علوم سے بھی روشناس ہو سکیں گے اگر حکومت نے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد میں غیر ضروری لچک نہ دکھائی تو اصلاحات سے مدارس کے فارغ التحصیل کوبھی مختلف شعبوں میں اپنی صلاحتیں دکھانے کے بہتر مواقع ملیں گے۔

حکومت نے بجٹ میں درآمدی اشیا سگریٹ، سگار، انرجی ڈرنکس اورگاڑیوں پر ٹیکس بڑھا کردرآمدات کی حوصلہ شکنی کی ہے جبکہ ملکی پیدوار سیمنٹ،رکشہ،موٹر سائیکل ،مقامی موبائل ٹیلی فون،جوتے اور کپڑوں پر عائد ٹیکس میں کمی کی گئی ہے جس سے ملک میں تیار ہونے والی اشیا کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ ملکی مصنوعات سستی بھی ہوں گی اگر حکومت نے اپنے اِن فیصلوں پر من و عن عمل کیا تو میڈاِن پاکستان اشیا استعمال کرنے کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے ۔

بھارت جیسے ازلی دشمن کی جارحیت کا خطرہ کبھی کم نہیں ہوتا اورنریندرمودی جیسے انتہا پسند کے برسرِ اقتدار آنے سے خطرے میں اضافہ ہوگیاہے جس سے نمبردآزما ہونے کے لیے پاکستان کو ہر وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے دفاع کے لیے 1289ارب بھی کم ہیں حالانکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں پینسٹھ ارب زائد ہیں مگر درپیش دفاعی چیلنجز کے مقابلے بہت کم ہیں جو قومیں اپنے دفاع سے غفلت کی مرتکب ہوتی ہیں اُن کا انجام عراق، افغانستان اور لیبیا جیسا ہی ہوتا ہے اِس لیے سیاسی قوتیں اپنے مفاد کا تحفظ ضرور کریں مگر دفاع کے حوالے سے تنقید سے پرہیز کریں حکومت کے کرنے والا اب یہ کام ہے کہ اسی بجٹ پر اکتفا کرے اگر حسبِ روایت ہر تین ماہ بعد بجٹ پیش کرکے دی جانے والی سہولتیں چھین لی گئیں تو حاصل نیک نامی بھی بدنامی میں ڈھل جائے گی۔


ای پیپر