کورونا اور ڈارلنگ
16 جون 2020 (15:14) 2020-06-16

گفتار ہے حضوروالا،صرف گفتار،جبکہ ضرورت کردار کی ہے۔

بدانتظامی ہے جنا ب، بدترین بدانتظامی۔

بے حسی ہے حضرت، بے حسی ،بلکہ یوں کہہ لیں کے بے حسی کی ا نتہا ہے۔

اچھی طرز حکمرانی کا فقدان ہی نہیں بلکہ اچھی طرز حکمرانی تو چلی گئی تیل لینے۔

فرائض سے غفلت ہی نہیں ،بلکہ یہ ایک فیشن بن گیا ہے۔

گزگز لمبی زبانین ہیں،الزامات اور جوابی الزامات ہے۔

وزیروں اور مشیروں کا ٹیلی ویژن پر طلوع اور للکارنے کا موسم ہے۔

کارکردگی کو جھوٹ ،منافقت اور خوشامد سے چھپانے کا مقابلہ ہے۔

آپ نے وفاقی بجٹ پیش کردیا ۔آٹھ مہینوں کی ناکامیوں کا تمام ملبہ ،نزلہ اور بدنامی آپ کے وزیر وں اور مشیروں نے چار مہینوں کی وبا کورونا پر ڈال دی۔آپ بھی خوش ۔آپ کے وفاقی وزیر اور مشیر بھی خوشی سے جھوم رہے ہیں کہ بچت ہو گئی آگے بھی اللہ خیر کریگا۔حقیقت یہ نہیں ہے اس لئے کہ ’’ ڈارلنگ کورونا بدنام ہوئی ہے تیرے لئے ‘‘۔پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو ریکارڈ ہوا۔فروری تک ملک میں حالات معمول کے مطابق تھے۔ایف بی آر کام کررہا تھا۔وزارت خزانہ کے بابو دفتر آرہے تھے۔وزارت تجارت اور صنعت کے وزیر ،مشیر اور دیگر عملہ بھی مکمل طور پر فعال تھا۔مارچ کے وسط میں لاک ڈائون کیا گیا۔مارچ سے ہی تمام محکمے جاری کھاتوں کو مکمل کرنے کی شروعات کرتی ہے۔اپریل سے بجٹ کی تیاری شروع کی جاتی ہے۔مئی میں سب محکموں کو کہا جاتا ہے کہ جلدی کریں جو کچھ بھی ہے وہ بتا دیں ،جو باقی ہے اس کا اندازہ لگا لیں ۔جو بچ جائے اس کا حساب کتاب اگلے سال۔سب محکمے مئی میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا حساب کتاب اور جو باقی ہے اس کا اندازہ لگا کر بھیج دیتے ہیں۔ما نا کہ تین مہینے مارچ ،اپریل اور مئی میں پوری دنیا میں کاروبار ٹھپ رہا۔آپ جون کو بھی اس میں شامل کردیںتو کل چار مہینے بن جاتے ہیں۔مگر جو باقی آٹھ مہینے ہیں جس میں کورونا کی وبا نہیں تھی اس میں ایف بی آر اور آپ کے منتخب اور غیرمنتخب وفاقی وزیر اور مشیر کیا کرتے رہے؟جناب وزیر اعظم، ان سب سے آٹھ مہینوں کا حساب ضرور لیں اور ان سے پوچھ لیں کہ کورونا کے چار مہینے آپ کے آٹھ مہینوں پر اتنے بھاری کیسے ہو گئے؟

ملک میں ابھی گندم کی کٹائی کا سیزن مکمل ہوا ہے،لیکن پھر بھی آٹے کا بحران کیوں ہے؟وافر مقدار میں گندم ہونے کے باوجود آٹے کا بحران اور قیمتوں میں اضافہ کورونا کی وجہ سے نہیں بلکہ بے حسی ،بدانتظامی اور فرائض میں غفلت کا نتیجہ ہے۔اس پر صرف تحقیقاتی کمیشن یا تقریر کرکے آپ بری الذامہ نہیں ہوسکتے، بلکہ اس مافیا کو قانون کے مطابق سزا دینا آپ کی ذمہ داری ہے۔یکم جون سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا گیا۔ایک ہفتے تک پورے ملک میں عوام پیٹرول کے لئے ذلیل و خوار ہوتے رہے۔ کسی نے توجہ نہ دی۔دس دن بعد جناب وزیر اعظم ، آپ کو خبر ہوئی۔ ملک میں پیٹرول کی کمی نہیں،تو پھر یہ بحرا ن کیوں پیدا ہوا؟متعلقہ وزیر اور محکمے سے باز پرس کریں کہ آخر کیوں دس دنوں تک عوام کو ذلیل و خوار کیا گیا؟اگر وہ بہت طاقت ور ہے اور آپ ان کو نکال نہیں سکتے تو کم از کم سرعام ان کو متنبہ تو کریں کہ اگر آئندہ اس طرح کی بدانتظامی ،بے حسی اور فرائض سے غفلت کا مظاہرہ کیا تو انجام کچھ اور ہوگا۔

پورے ملک سے اطلاعات مو صول ہو رہی ہے کہ کورونا کے نام پر نجی شفاخانوں اور لیبارٹریوں نے عوام کو لوٹنا شروع کر دیاہے۔اول تو ابھی مکمل تحقیق ہو ئی نہیں ہے کہ صحت مند مریض کے پلازمہ سے کورونا کے مریض کا علاج ممکن بھی ہے کہ نہیں؟اگر ایسا ہے بھی تو پھر فوری طور پر قانون سازی کریں کہ کوئی بھی نجی شفاخانہ یا لیبارٹری کورنا سے صحت مند مریض کے پلازمہ کا کاروبار اور خرید و فروخت نہیں کریگا۔اگر بروقت اس کا تدارک نہ کیا گیا تو مو جودہ بحران میں ایک نیا مافیا جنم لے گاجس کا خاتمہ مستقبل میں مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا۔بدانتظامی ،بے حسی ،فرائض سے غفلت اور اچھی طرز حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے اس مشکل حالات میں بھی ایک نیا مافیا سر اٹھا رہا ہے۔اس ناکامی کا تمام تر ملبہ کورونا پر نہ ڈالیں ،بلکہ اپنے وفاقی اور صوبائی وزیروں اور مشیروں کو خبردار کردیں کہ صبح ،دوپہر اور شام ٹیلی ویژن پر طلوع ہوکر عوام کو اعداد وشمار نہ دیں ۔ یہ کام تو ایک پریس ریلز سے بھی ہوسکتا ہے۔اپنے وزرائے اعلی ،عثمان بزدار، محمود خان ، جام کمال ،وفاقی مشیر صحت اورتینوں صوبوں کے وزرائے صحت کو تاکید کر دیں کہ کورونا کے معاملے پر اب مزید کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ،نہ اس پر سیاست اور نہ ہی کسی اور پر الزامات لگانے کی ضرورت ہے۔

ٓآخر میں جناب وزیر اعظم : ایک گزارش آپ سے بھی ہے کہ ہر وقت اور ہر موضوع پر لب کشائی آپ کے منصب کا شایان شان نہیں۔اپنے ملک پر توجہ دیں ۔ دوسرے ممالک کو مشورے اور مدد دینے سے گریز کریں، اس لئے کہ یہ دنیا کردار والوں کی ہے ۔ یہاں گفتار والوں نے ہمیشہ زوال ہی دیکھا ہے۔موجودہ حالات کی ذمہ دار اگر چہ کورونا بھی ہے ،لیکن سارا ملبہ کورونا پر ڈالنا بھی ظلم ہے اس لئے کہ

گفتار ہے حضوروالا،صرف گفتارجبکہ ضرورت کردار کی ہے۔

بدانتظامی ہے جنا ب بدترین بدانتظامی۔

بے حسی ہے حضرت بے حسی ،بلکہ یوں کہہ لیں کے بے حسی کی ا نتہا ہے۔

اچھی طرز حکمرانی کا فقدان ہی نہیں بلکہ اچھی طرز حکمرانی تو چلی گئی تیل لینے۔

فرائض سے غفلت ہی نہیں بلکہ یہ ایک فیشن بن گیا ہے۔

گزگز لمبی زبانین ہیں،الزامات اور جوابی الزامات ہے۔

وزیروں اور مشیروں کا ٹیلی ویژن پر طلوع اور للکارنے کا موسم ہے۔

کارکردگی کو جھوٹ ،منافقت اور خوشامد سے چھپانے کا مقابلہ ہے۔

بس ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’’ کورونا بدنام ہو ئی ڈارلنگ تیرے لئے ‘‘ ۔


ای پیپر