تمام جانداروں پر فضل کا سوال ہے
16 جون 2020 (15:13) 2020-06-16

آہ! میرے وطن ، میرے اجداد بھی ہوئے قربان اور نسلیں بھی ہیں تیار۔ بدلی نہ تیری تصویر نہ تیرے باشندوں کی تقدیر ۔ جس ملک کے بے باک تجزیہ نگار ، قلمکاروں کے سپہ سالار جناب حسن نثار بھائی بھی جب اپنے کالم میں یہ لکھ دیں کہ ’’جے بولاں تے مار دین گے ناں بولاں تے مر جاواں گا‘‘ ۔ یعنی بولوں تو مار دیا جاؤں گا، نہ بولوں تو گھٹن سے مر جاؤں گا۔ انگریز کے دور جس کو ہم غلامی کا دور کہتے ہیں۔ گورے کے 100 سالہ سیدھے سیدھے بلا شرکت غیرے دور میں کبھی سنا نہ پڑھا کہ کوئی عدالتی فیصلہ دباؤ یا چمک کے نتیجے میں تھا ۔ کسی بھی عہدہ دار کا ذاتی مزاج قانون نہ تھا۔ گورے کے دور میں برصغیر کی دھرتی کے وسائل کو خوب سمیٹا گیا اور یہ وہی 100 سال ہے جس میں گورے نے سائنسی ترقی کی اور امریکہ اور یورپ میں انسانوں کی جگہ مشینوں نے لے لی۔آج اگر سچ کہنے پر مرتے ہیں تو پھر کس غلامی سے نجات پائی ہے۔ غلامی سی غلامی ہے کہ ریلویز، عدالتی عملہ، پی آئی اے، ڈی سی آفس ، کسٹم، جیل، پولیس حتیٰ کہ عسکری اداروں میں بھی چھوٹے ملازمین کی اکثریت انہی محکموں کے ملازمین کی اولادیں ہیں جو متعلقہ محکمہ میں تھے کہ وہ اداب غلامی سے واقف کی اولاد ہیں۔

مارشل لاؤں کے 33 سال کی اور بات ہے آج تو جمہوری حکومت ہے پھر سچ بولنا موت کو آواز دینا کیوں؟ پھر سوچتا ہوں حاکمیت کا مزاج شاید اپنا انوکھا مزاج ہوتا ہے۔ جو کم ظرف کے اقتدار میں آنے سے عوام رعایا میں بدل جاتے ہیں اور تنقید ذاتی دشمنی تصور ہوتی ہے۔ جس ملک کا دانشور بھی دل کی بات نہ کہہ سکے اس کے عوام کی غیر جانبدار پکار کو کون بلند کرے گا۔ دراصل میں سمجھتا ہوں کہ ہماری قوم کو شعوری طور پر غلام بنا دیا گیا ٹی وی اخبار سبھی وہ زبان بولتے ہیں جو حکمرانوں کی زبان ہے البتہ حکمرانوں کا تعین کرنا وطن عزیز میں کافی جرأت کا کام ہے ورنہ سچ بولاں گا تے مر جاواں گا۔

چلیں! حاکم جو بھی ہے عوام کی تو داد رسی کرے۔ابھی ون لائنر پالیسی جو عملی طور بنی گالہ سے جاری ہوئی ہے کہ کرونا وائرس سے مرنے والے کرونا وائرس پر پڑیں گے اور بھوک، غربت، افلاس، بیروزگاری سے مرنے والے حکومت پر پڑیں گے لہٰذا کھلا چھوڑ دیں جس کو تیرنا آتا ہے یا نہیں آتا گہرے بپھرے ہوئے وائرس کے پانیوں میں اتار دیا جائے۔ جس کا علاج مع موت 20 لاکھ روپے سے کم نہیں۔ دراصل حکومت کورونا کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ جس طرح وردی مشرف کی کھال تھی موجودہ حکومت کی کرونا ڈھال ہے جس کی طوالت میں حکمرانی کی طوالت مضمر ہے اور کچھ نہیں تو آئین اور قانون کی عمل داری ہی نظر آ جائے، اس میں ہی جان ڈال دیں کوئی نظام تو نظر آئے۔ یہ نظام کی کمزوری ہے کہ آپ کو جا بجا نجومی، عاملوں، بابوں کے بورڈ اور مفت بھریاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

چند سالوں میں ایکڑوں میں جگہ لے کر پیر خانہ بناتے ہیں اگر اس ملک میں کوئی نظام طاقت رکھتا ہو تو کوئی کسی بابے کے پاس عدالت میں زیر سماعت مقدمہ کے لیے قسمت کا حال پوچھنے نہ جائے۔ نظام موجود ہو تو وراثتی جائیداد کے حصول کے لیے کسی عامل نجومی کے پاس تعویذ لینے نہ چلا جائے۔ یہ نجومی، بابے، عامل، جعلی پیروں جنہوں نے اپنے رتبے خود ہی مرتب کررکھے ہیں، اپنے نام کے ساتھ کوئی سخی لکھ رہا ہے کوئی سلطان العاشقین اور کوئی کچھ کوئی کچھ جبکہ اس ملک میں کوئی ان لوگوں سے ذریعہ آمدن پوچھنے کی جرأت نہیں کر سکتا ، کرے گا بھی کون پوچھنے والے تو خود ان کے مرید ہیں جس دن قانون کی حاکمیت ہو گی یہ بابے قانون برد ہو جائیںگے ‘‘ ۔

ملک آزاد ہو سکتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ ملک کے آزاد ہونے سے عوام کو بھی آزادی مل سکے۔ عوام کی آزادی کی ضمانت صرف قانون کی حاکمیت دے سکتی ہے جو وطن عزیز کو کبھی نصیب نہیں ہوئی جبکہ ہندوستان میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بے بسی تو ساری دنیا کے سامنے ہے۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ2014ء میں عمران خان کے دھرنا کے بعد نواز شریف کا عملی اقتدار ختم ہو چکا تھا لہٰذا وطن عزیز کی ترقی کو اس وقت سے اپوزیشن نے روکے رکھا اور حکومت بنائی گئی تو تیسرا سال آنے کو ہے سابقہ حکومتوں پر الزامات ہی ختم نہیں ہو پا رہے۔ کہنے کو یہ دوسرا بجٹ ہے مگر موجودہ حکومت نے عملی طور پر درجنوں بار بجٹ دیا ، لہٰذا اب بھی دے گی۔ اُن نوجوانوں کا کیا بنے گا جن کے والدین لاکھوں کی فیسیں دے کر ہزاروں کی نوکریوں کے لیے ترس رہے ہیں۔ جبکہ نوجوان بیروزگاری سے بوڑھے ہونے لگے۔ خدارا! احتساب ، انتقام اور سیاست چھوڑیں لوگوں کے دکھوں کا ازالہ کریں۔ اب تو ملک میں کروڑوں کی تعداد میں وہ لوگ ہیں جن کے معاشی حالات کا بیڑہ غرق موجودہ حکومت کر گئی۔ کبھی میں سوچتا ہوں کہ شاید ہم صرف انسانوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جو ہمارے معاشرے پر پوری نہیں ہو پا رہی۔ انسان کو معاشرتی حیوان بھی کہا جاتا ہے۔ اگر کسی معاشرت میں انسانی معاشرے کی خوبیاں نہ رہیں تو پیچھے حیوان ہی بچتا ہے۔ لہٰذا ہمیں انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کے لیے بھی خشوع و خصوع سے دعا کرنا چاہیے تا کہ قدرت کی مہربانی تمام عالیمین پر ہو۔ جس میں انسان نما لوگ بھی شمار ہوں گے۔ دودھ میں کیمکلز، دوامیں ملاوٹ ، انسانی لاشوں کا گوشت کھانے والے، مردہ خواتین سے زیادتی کرنے والے، کتے اور گدھے کو دنبہ بنا کر ، مینڈک اور کچھوے کا ٹکاٹک بیچنے والے اور زندوں کو ہلاک کرنے اور مردوں کو پوجنے والے، اجرتی قاتل، اجرتی لکھاری، اجرتی شاعر، اجرتی حکمران، جعلی ڈاکٹر، جعلی علماء، جعلی عامل، جعلی لیبارٹریاں، شراب سے کباب تک میں ملاوٹ، باہر بھجوانے، نوکری دلوانے، رشتہ کرانے، دیسی علاج کرنے کا جھانسہ دے کر لوٹنے والوں، قتل کر کے لاشوں پر بھنگڑے ڈالنے والے، ہر دوسرے بندے کی کسی نہ کسی پاس رقم پھنسی پڑی ہو۔ بس ایک میگا تھیٹر ہے جس میں کوئی حاکم ، کوئی سپہ سالار کوئی جج کوئی ملزم کوئی گواہ کوئی قاضی کوئی تفتیشی بنا ہوا ہو اس کو انسانی معاشرہ کہا جائے گا؟یا اللہ انسانوں کے ساتھ حیوان اور تمام جانداروں پر بھی فضل کر شاید ہم بھی تیرے فضل میں شامل ہو جائیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ آج جناب عمران خان کی حکومت ختم ہو ، آج ہی حالات معمول پر آجائیں گے اور معاشی صورت حال غیر معمولی طور پر درست ہو جائے گی جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کو ہٹا کر کس کو لائیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ان کے ہٹتے ہی کام بن جائے گا جہاں تک لانے کا تعلق ہے تو بلاول بھٹو، مریم نواز ، شہباز شریف بہت دور کی بات ہے ان سے تو سعید غنی اور مرتضیٰ وہاب بہت بہتر ہیں۔ اب تک کرونا بچا گیا ورنہ یہ گھروں کو جا چکے ہوتے۔


ای پیپر