حکومت آگے بڑھ کر عوام کو حوصلہ دے!
16 جون 2020 (15:12) 2020-06-16

ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی انتظامی گرفت کمزور پڑ چکی ہے ۔ پہلے بھی ڈھیلی ہی تھی مگر اب تو وہ کمزوری کے آخری درجے پر دکھائی دیتی ہے؟

اس وقت جب ملک عزیز پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے، ہر طرح کے مافیاز اپنی من مرضی کر رہے ہیں ۔ اشیائے خورو نوش سے لے کر دواؤں تک کی قیمتیں اپنے طریقے سے بڑھا رہے ہیں۔ بالخصوص دواؤں کو فروخت کرنے والا مافیا بے لگام ہو چکا ہے۔ اسے منافع حاصل کرنا مقصود ہے لہٰذا وہ معمولی سے معمولی دوا جو موجودہ بیماری کے لیے استعمال میں لائی جا سکتی ہے کو بلیک میں بیچ رہا ہے۔ یہ تو آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہو چکا ہو گا کہ ایک ٹیکہ جو دوتین میں ہزار روپے میں مل جاتا تھا، اب قریباً تین لاکھ میں بڑی کوشش کے بعد دستیاب ہوتا ہے۔

حکومت نے شاید یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اٹھانوے فیصد کو نظر انداز کرنا ہے اور دو فیصد کو راضی رکھنا ہے کیونکہ وہ تمام شعبوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا عوام کی نہیں سنی جا رہی اگر ان کی سنی جاتی تو اہل اختیار و اقتدار آہنی ہاتھ کو حرکت میں لاتے اور ناجائز منافع خوری کے رجحان کو روک دیتے۔ ان دواؤں کا ذخیرہ دَر ذخیرہ نہ کرتے جو جان بچانے کے لیے آخر میں استعمال میںلائی جاتی ہیں مگر مجال ہے سرکاری سطح پر ایسا کوئی انتظام کیا گیا ہو۔ بس یہی بتایا جا رہا ہے کہ اتنے متاثرین ہیں ، اتنے ہونے والے ہیں۔ اگلے دو ماہ میں ان کی تعداد کا گراف بلند یوں کو چھو رہا ہو گا۔ میڈیا پوری گھن گرج کے ساتھ رات دن ان لوگوں کو جو خوف زدہ ہیں اور اپنے اعصاب کھونے کے قریب تر پہنچ چکا ہے مزید ان کی جان نکال رہا ہے۔ ادھر سوشل میڈیا پر اموات بارے بتایا جا رہا ہے جبکہ لوگوںکو حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔

معمول کی اموات کو بھی اس خوفناک فضا میں دکھایا جا رہا ہے۔ جس سے قوت مدافعت میں اور بھی کمی ہو رہی ہے لہٰذا دست بستہ عرض ہے کہ اس حوالے سے نظرثانی کی جائے۔

حکومت نے تو عوام کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا ہے وہ اختیار کریں یا نہ کریں اُن کی مرضی اس کا کہنا ہے کہ وہ بار بار ہدایات جاری کرنے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے لہٰذا اب جو ہو گا دیکھا جائے گا مگر حکومت نے اُنہیں یہ احساس کب دلایا تھا کہ وہ عوام دوست ہے اس نے یہ تاثر انتظامی امور بہتر طور سے نمٹانے سے دینا تھا مگر وہ اس میں ناکام رہی مہنگائی مافیا نے جی بھر کے لوٹا ذخیرہ اندوزوں نے دھڑلے سے ذخیرہ کیا۔ آٹا، چینی والوں نے بھی قلت پیدا کر کے خوب دولت سمیٹی اب بھی وہ سلسلہ جاری ہے۔ لینڈ مافیا نے بھی اندھیر مچائے رکھا ہے۔ کس کس با ت کا رونا رویا جائے۔ پھل سبزیاں آج کچھ سستی ہیں تو کل دوگنی قیمت پر فروخت ہوتی ہیں۔

دراصل یہ موجودہ نظام زر اب عوام کو حقوق دینے سے قاصر ہے پوری دنیا اس سے نفرت کر رہی ہے مغرب و یورپ کے لوگ سڑکوں پر ہیں ۔ وجوہات اور بھی ہیں جن کا تعلق بالواسطہ اسی نظام سے ہے۔ تعلیم، صحت اور روزگار حکمرانوں کے فرائض میں شامل نہیں رہا وہ اقتدار میں آ کر کاروبار کرتے ہیں اپنی تجوریاں بھرتے ہیں دوسرے ملکوں میں لوٹ کا مال لے جا کر محل کھڑے کرتے ہیں جن میں وہ خود اور اُن کی اولادیں پر آسائش زندگی بسر کرتی ہیں۔ غریب عوام تعلیم میں پیچھے اور علاج معالجے سے بھی محروم رہتے ہیں۔

یہ نظام زر اب باقی رہتا دکھائی نہیں دے رہا مگر چند دولت والوں کی سر توڑ کوشش ہے کہ یہ بچ جائے اب جب یہ وبا یا بیماری عام ہوئی ہے تو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے مگر بات بن نہیں پا رہی ایک طرف عوام روزگار کے مسئلے سے دو چار ہیں تو دوسری طرف انہیں دواؤں کی عدم دستیابی و گرانی کا سامنا ہے حکومتیں ہاتھ کھڑے کر چکی ہیں اور اپنی بے بسی کا اظہارکر رہی ہیں تو پھر وہ نظام کیوں نہ لایا جائے جس میں ہر شہری کو بلا تفریق تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار مہیا کیے جاتے ہیں۔ معمولی دوا سے لے کر مہنگی تک سب حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کوئی بلیک اور مہنگائی کا تصور تک نہیں ہوتا۔ لہٰذا باشعور عوام نے دیکھ لیا ہے کہ ابتک انہیں دھوکا دیا گیا وہ محنت کر کے بھی کچھ نہ پا سکے اور چند فیصد بغیر محنت کے کھربوں ڈالرز کے مالک بن گئے۔ اس نظام کو ختم ہونا چاہیے کہ جس میں حکومتیں مافیاز کے ہاتھوں یرغمال بن جائیں اور عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ یہ حکمرانی نہیں یہ حکومت کا فرض منصبی بھی نہیں کہ عوام اپنی فلاح و بہبود کے لیے اس سے امید باندھیں اور وہ اُن کی والی وارث نہ بنے ۔ بہرحال زندگی ایک نئے موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے خوف و ہراس میں گھر چکی ہے مگر اس کو اس سے باہر نکالنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ دانشور ہوں یا نفسیات کے ماہرین انہیں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ڈرے سہمے لوگوں کو اندیشوں اور وسوسوں سے نجات دلانا ہو گی۔ انہیں یہ بتانا ہو گا کہ خوف جسموں کو نڈھال و بے حال کر دیتا ہے لہٰذا اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا ہو گا حکمران اُنہیں دلاسا بھی نہیں دے سکتے نہ ان کو مافیاز کے ستموں سے بچا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ حکمران کس لیے ہیں اور طاقتور حلقے بھی کیوں خاموش ہیں۔ مفلوک الحالوں پر ہونے والے مظالم پر حکومت اقدامات کرے بصورت دیگر عین ممکن ہے یہ لوگ جو ابھی تک ڈرے ہوئے ہیں خوف کو اپنے ذہن سے جھٹک کر انقلاب کے راستے پر گامزن ہو جائیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے لہٰذاان کی امید کے دیے کو بجھنے نہ دیاجائے حالات سنگین سہی مگر حوصلے بلندہوں تو تاریکی ، روشنی میں بدل جاتی ہے!


ای پیپر