انتظا رتھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
16 جون 2020 (15:11) 2020-06-16

ایک دن ملا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اتر ہی نہیں رہا تھا۔

بہت کوشش کی مگر گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا آخر کار ملا تھک کر خود نیچے آ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ گدھا خود کسی طرح سے نیچے آجاؤ۔

کچھ دیر گزرنے کے بعد ملا نے محسوس کیا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ملا پریشان ہو گئے کہ چھت تو بہت نازک ہے اتنی مضبوط نہیں کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے دوبارہ اوپر بھاگ کر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اٹکا ہوا تھا اور چھت کو توڑنے میں لگا ہوا تھا ملا آخری کوشش کرتے ہوئے اسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے ملا کو لات ماری اور ملا نیچے گر گئے اور پھر چھت کو توڑنے لگا بالآخر چھت ٹوٹ گئی اور گدھا چھت سمیت زمین پر آ گرا۔

ملا کافی دیر تک اس واقعہ پر غور کرتے رہے اور پھر خود سے کہا کہ کبھی بھی گدھے کو مقام بالا پر نہیں لے جانا چاہیے ایک تو وہ خود کا نقصان کرتا ہے دوسرا خود اس مقام کو بھی خراب کرتا ہے اور تیسرا اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے…

عید کے چاند کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ ہر چھوٹا بڑا، بچہ بوڑھا ، مردو زن اس چاند کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے حتیٰ کہ بدلیوں کی اوٹ میں اپنی آنکھیوں گاڑھنے کو تیار ہوتا ہے۔ تبدیلی کا نعرہ سن کر بھوک و افلاس ، تنگدستی، ذہنی امراض سے ماری قوم میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی

تھی۔ قوم کے چہروں پر طمانیت سی چھا گئی تھی۔ برسوں کا جمود ٹوٹنے والا تھا۔ نئی پوہ پھوٹنے والی تھی۔ بیروزگاروں کی سنی جانے والی تھی۔ بے گھروں کو چھت کی امید نظر آنے لگی تھی۔ اس لیے تبدیلی کے اس سفر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ملک کے ہر فرد نے ہر لحاظ سے اپنا حصہ ڈالا۔ صحافیوں نے ٹاک شوز میں اپنی ہمدردی ظاہر کی۔ گلوکاروں نے گیت اور ترانے گا کر اپنی ہمدردی جتائی۔ ملک کی سیاسی فضا میں ایک تہلکہ مچا ہوا تھا۔ ہر روز کھلنے والا سیاسی سورج نئی نوید لے کر آتا تھا۔ حتیٰ کہ ہر شخص اپنے اندر امید کی کرنیں اتارتا اور پر امید ہو کر سو جاتا۔ حتیٰ کہ وہ دن آ گیا جس کی سب کو خوشی تھی۔ اور وہ رات چلی گئی جس کی تبرہ شیی سے سب نا امید تھے۔ جہاز اڑے اور بہت اڑے، جوڑ توڑ ہوئے۔ امیدواران سے سمجھوتا ہوا۔ قومی اور تین صوبوں میں صوبائی حکومت بنانے میں کامیابی ہوئی۔ وہ لوگ جن کو بھاری مینڈیٹ کا زعم ہوا کرتا تھا۔ اور وہ جو بھٹو کی آڑ میں جیتا کرتے تھے۔ چھتیس سال کی حکومتیں کرنے کے بعد سیاسی میدان سے آؤٹ ہو گئے اور عمران خان کی حکومت بن گئی۔ تقریب حلف برداری ہوئی، ملک کے نئے وزیر اعظم نے حلف کے لیے ویسٹ کورٹ کسی سے پکڑی اور لوگوں میں اپنی سادگی کا ڈھنڈورا پیٹ دیا۔ دوسری دفعہ سوراخ شدہ شلوار قمیص پہن کر لوگوں سے مزید ہمدردیاں سمیٹ لیں۔ مگر عوام پر امید تھی کہ کل اچھا آئے گا۔ پھر کیا ہوا؟ پہلا بجٹ آیا۔ بے بہا ٹیکسز لگے۔ مہنگائی آسمانوں سے باتیں کرنے لگی۔ ادویات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا۔ چینی چور پیدا ہو گئے۔ ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہوئی۔ آٹے کی قلت پیدا ہو گئی۔ ڈیم کا شوشا چھوڑ کر چیف جسٹس چلتے بنے… بے سہاروں کو سہارا نہ ملا۔ کسی کو نئی چھت کیا ملنی تھی۔ چھت کے نیچے رہنے والے تنگ پڑنے لگے۔ روزگار کیا ملنا تھا؟ پہلے ملازموں کو بجٹ میں کچھ نہ ملا۔ عوام صبر کر گئے کہ چلو پہلا سال ہے۔ حالات کشیدہ اور مسائل زیادہ ہیں۔ دوسرا سال گزر گیا۔ حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوئے۔ مہنگائی زور پکڑ گئی۔ کرونا جیسی بیماری آ گئی۔ ٹڈی دَل نے حملہ کر دیا۔ ہم نے اپنی ساری معیشت کی تباہی ان دو وباؤں پر ڈال کر خود کو سرخرو کر لیا۔ بجٹ آیا… تمام سرکاری ملازمین اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ ان کی تنخواہوں میں ایک فیصد بھی اضافہ نہ ہوا اور بددلی اور مایوسی کی لہر سب ملازمین کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔ وہ احباب جو پنشن لے کر اپنی زندگی کی گاڑی کو دھکیل رہے تھے، اس پیسوں سے کوئی ادویات اور گھر کا راشن لے رہے تھے، اور اس امید پر تھے کہ چلو اضافہ ہو گا تو کچھ حالات میں بہتری آجائے گے، مگر … مگر وہ پنشنرز بھی جیتے جی گئی… وہ باتیں،وہی وعدے ، وہی قول و قرار ، وہی تسلیاں اور وہ چہرے اس قوم کا مقدر ہیں یہ حکومت بھی سابق حکومت کی پیروکار ہے لہٰذا عوام نے اپنے ہاتھوں سے یہ کیا ہے؟ اپنی کوششوں سے وزیراعظم کو سیاسی چھت پر چڑھایا ہے… اب یہ عوام خود ہی سوچے گی کہ کیا نقصان کیا ہے؟ کتنا وقت ضائع کیا ہے؟ اور تحریک انصاف کو مقام بالا پر پہنچا کر کیا کھویا ہے کیا پایا ہے؟ بقول فیض احمد فیض:

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں


ای پیپر