مطالعے اور کتابوں کی دُنیا… !
16 جون 2020 (15:10) 2020-06-16

ذکر مختلف اوقات میں زیرِ مطالعہ رہنے والی کُتب ، رسائل و جرائد اور اخبارات کا چل رہا تھا۔ اس سلسلے کے پچھلے کالم میں ، میں نے لاہور سے چھپنے والے معروف جرائد ماہنامہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘، ماہنامہ ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘، ماہنامہ ’’حکایت‘‘ اور ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ کا کچھ تفصیل سے ذکر کیا تھا۔ ماہنامہ ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ کے حوالے سے ایک اہم بات لکھنی رہ گئی تھی وہ یہ کہ اس نے مختلف اوقات میں کئی اہم موضوعات پر ضخیم خصوصی نمبر شائع کر کے علم و ادب اور تاریخ و تہذیب کے سرمائے کو وسیع کرنے کی اہم خدمات سرانجام دیں۔ ان خصوصی نمبروں میں ’’قرآن نمبر ‘‘ اور ’’رسولؐ نمبر ‘‘ وغیرہ آج بھی علم و ادب اور دین کی تعلیمات کے متلاشیوں کے لئے گراں قدر تحریروں اور قابلِ قدر معلومات کے وسیع منبع اور ذخیرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماہنامہ ’’سیادہ ڈائجسٹ‘‘ کے حوالے سے اس پہلو کا ذکر کرنا میرے خیال میں ضروری تھا۔ اب ذرا آگے بڑھتے ہیں۔ میں نے پچھلے کالم میں نامور ادیب ، افسانہ نگار اور مشہور بیوروکریٹ اور پچھلی صدی کی پچاس اورساٹھ کی دہائیوں (تقریباً 1953 تا 1968 سالوں) کے د وران اقتدار و اختیار کی راہداریوں میں رسائی رکھنے اور مختلف اوقات میں صاحبان اختیار و حکومت گورنر جنرل غلام محمد مرحوم، گورنر جنرل و صدرِ مملکت سکندر مرزا مرحوم اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم کے ساتھ بطور پرنسپل سیکریٹری فرائض سرانجام دینے والی خُدا ترسی، راست گوئی اور عجز و انکساری کی خوبیوں سے متصف شخصیت مرحوم قدرت اللہ شہاب مرحوم کی آپ بیتی نما ضخیم تصنیف ’’شہاب نامہ‘‘ جس نے ایک زمانے میں کسی حد تک تہلکہ مچا دیا تھا کا ذکر کیا تھا۔ اس کے ساتھ میں نے ایک اور مشہور بیوروکریٹ اور اُردو، انگلش ہر دو زبانوں میں خوبصورت تحریریں اور کالم لکھنے والی شخصیت مرحوم الطاف گوہر جو صدر ایوب خان کے اقتدار کے آخری برسوں میں حکومت پاکستان کے سیکریٹری اطلاعات کے عہدے پر ہی فائز نہیں تھے بلکہ ان کو صدر ایوب خان کے بااعتماد خصوصی مشیر کا درجہ بھی حاصل تھا کی قابل قدر اور اہم تصنیف’’ ایوب خان… فوجی راج کے دس سال‘‘ کا تذکرہ بھی کیا تھا کہ آئندہ کالم (یا کالموں) میں ان کے بارے میں خیالات کااظہار ہو گا۔

’’شہاب نامہ‘‘ کو پڑھتے ہوئے مجھے عرصہ بیت چکا ہے۔ اسی طرح ’’ایوب خان … فوجی راج کے دس سال‘‘ جو ایک مخصوص دور کے اہم حالات و واقعات مصنف کی ذاتی یاداشتوں اور منصبی فرائض کی سرانجام دہی کے دوران پیش آنے والے تجربات و مشاہدات کی عکاسی کے ساتھ بعض اہم حکومتی اور ریاستی فیصلوں جنہوں نے وطن عزیر پاکستان کی اس وقت کی معروضی صورتِ حال اور مستقبل کے حالات پر وسیع اثرات مرتب کیے کے بارے میں انتہائی معلومات افزاء اور گراں قدر تصنیف سے کو پڑھتے ہوئے بھی کم و بیش نصف صدری ضرور گزر چکی ہے۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد ان کُتب کے مندرجات اور ان میں بیان کردہ حالات و

واقعات کا ذہن میں موجود رہنا یقینا ممکن نہیں ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ کہیں سے یہ کُتب مجھے کچھ وقت کے لئے مل جائیں تو میں ان کے بعض ابواب اور ان میں بیان کردہ حالات و اقعات کو ایک بار پھر سے دیکھ لیتا اور اس کے بعد ان کے بارے میں خیال آرائی کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن کورونا وائرس کے پھیلائو کے اس دور میں میرے لئے یہ ممکن نہیں ہوا۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ میں مختلف کتب و رسائل کے مندرجات اور ان کے مصنفین ،مرتبین ، اور مئولفین کے بارے میں بطور ایک نقاد قلم آرائی نہیں کر رہا اور نہ ہی معروف تبصرہ نگاری کے نقدو نظر کے ترازو میں ان کے حسن و قبح کو پرکھ رہا ہوں۔ میں ایک دور میں پڑھی جانے والی کُتب و تصانیف اور رسائل و جرائد اور ان کے مصنفین ،مرتبین، مئولفین، قلمی معاونین اور مدیران گرامی کا تذکرہ اس نقطہ نظر سے کر رہا ہوں کہ میں نے ان کُتب و تصانیف اور رسائل و جرائد سے کس حد تک استفادہ کیا اور ان کے مصنفین ، مئولفین اور مدیران کی فکر و نظر اور نظریات و افکار سے کس حد تک آگاہی ہوئی اور میں نے ان نظریات و افکار اور فکر و نظر سے کس حد تک اثرات قبول کئے اور ان کی وجہ سے میری سوچ اور فکر میں کیا تبدیلی ، ترتیب اور تدوین مرتب ہوئی۔ اس طرح یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ محض یاداشت پر انحصار کرتے ہوئے جو آدھی ادھوری نامکمل باتیں ، یادیں اور تاثرات جو ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہیںوہ بظاہر تشنہ اور نامکمل نظر آنے کا باوجود کچھ پہلوئوں کے حوالے سے بڑی حد تک کافی و شافی ہیں۔

جناب الطاف گوہر کی تصنیف ’’ایوب خان ۔۔۔۔ فوجی راج کے دس سال‘‘ کے مندرجات اور اس میں بیان کردہ حالات و اقعات جو کچھ کچھ میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہیں ان کے تذکرے سے قبل جناب الطاف گوہر مرحوم کا مختصر سا تعارف ہوجائے تو اچھا ہے کہ یہ بذاتِ خود ایک دلچسپ اور معلومات افزا پہلو ہے۔ اوپر ان کی تصنیف کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے بارے میں چند جُملے لکھے جا چکے ہیں۔ جناب الطاف گوہر جو انگریزی زبان و ادب میں ماسٹر کی ڈگری (ایم اے) کے حامل تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد منعقدہ سول سروس کے مقابلے کے پہلے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے سول سروس (سی ایس پی) کے پہلے بیج یا گروپ میں شامل ہوئے تو اس کا ایک اہم رُکن شمار ہونے لگے۔ ان کے بارے میں ان کے ہی ایک بیج میٹ جناب مختار مسعود مرحوم جو ایک نیک نام اور معروف صاحب ِ قلم و تصانیف ، بیوروکریٹ کی شہرت رکھتے تھے اور ان کالموں میں ان کا کئی بار ذکر بھی آ چکا ہے نے اپنی گراں قدر ضخیم تصنیف ’’حرف شوق‘‘ میں ان کا دلچسپ اور خوبصورت انداز میں تذکرہ کیا ہے۔ طوالت سے بچنے کے لئے کم سے کم اقتباسات نقل کیے جا رہے ہیں۔ جناب مختار مسعود کتاب کے صفحہ 460 پر رقم طراز ہیں۔

’’الطا ف گوہر ہمارے گروپ کے سب سے زیادہ نمایاں فرد تھے مالیاتی سروس سے اِدھر آئے تھے۔ عمر اور تجربہ زیادہ ، ہمہ جہت شخصیت، صلاحتیں اور خواہشات دونوں Irrepressible اُردو لغت میں اس انگریزی لفظ کی شرح ملتی ہے۔ ترجمہ نہیں ملتا۔ بہترین لفظی ترجمہ سرکش ہو گا۔ سربلندی کے لیے بے تاب، صاحب صلاحیت ساتھی نے اپنے رہوار قلم کا رُخ شعر و ادب سے موڑ کر دوسری راہوں پر ڈال دیا۔ الطاف گوہر کی وہ غزل جو اکادمی میں ہم نے بارہا سُنی تھی اس میں ابر بہار کا جو حال ہوا وہی حال ابھرتے ہوئے ادیب اور غزل گو شاعر کا ہوا …‘‘

’’…فیلڈ مارشل ایوب خان کی خاطر وہ جناتی مصنفین Ghost Writers کی صف میں شامل ہو گئے (ایوب خان کی آپ بیتی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی Friends not Masters کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مرحوم الطاف گوہر کی ہی لکھی ہوئی تھی ۔ کالم نگار) ملازمت سے قبل از وقت فراغت ملی تو’’ڈان اخبار‘‘ کے مدیر ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو وزیرِ اعظم بنے ۔ کبھی دونوں میں دوستی ہوا کرتی پھر ایوب خان کی قربت کی وجہ سے الطاف گوہر ان سے دور ہوتے چلے گئے۔ وزیرِ اعظم اور مدیر ڈان میں یہ بحث چل نکلی کہ سیاسی صورتِ حال کے ایسا ویسا ہونے پر سلسلہ کوہِ ہمالیہ کے آنسو بہہ نکلیں گے یا اس کی آنکھیں خشک رہیں گی۔ وزیرِ اعظم کے دلائل ختم ہو گئے۔ پھر انہوں نے اختیارات کا سہارا لیا۔ مدیر کو جیل ہو گئی ۔ رہائی ملی ، باہر آئے ہاتھ میں تفہیم القرآن( مولانا مودودیؒ مرحوم کی شہرہ آفاق تفسیر قرآن پاک) کے مقدمہ کا ترجمہ تھا۔ پھریکا یک ان کے قلم نے تیسری دنیا کی معاشی بد حالی اور استحصال کو اپنا موضوع بنا لیا۔ لندن میں اس کام کے لئے ایک بڑا صحافتی ادارہ وجود میں آگیا۔ گوہر نے اس موقع سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا اور خوب رنگ باندھا۔ جس طرح اچانک یہ کام شروع کیا تھا اسی طرح آغا حسن عابدی کے بینک کریڈٹ اینڈ کامرس انٹر نیشنل کے اچانک بند ہونے کے ساتھ اس کے دن بھی پور ہو گئے۔ الطاف گوہر واپس وطن آ گئے۔ مقامی صحافت میں پہلے مدیر روزنامہ ’’مسلم ‘‘ اور پھر کالم نویس کے طور پر کام شروع کر دیا…‘‘ ۔ ’’…صاحبِ اقتدار تک رسائی ، مزاج شناسی اور پھر مزاج میں دخیل ہونے کا جو کام جو وزیر علی شیخ، واحد بخش قادری ، آئی۔ اے خان، قمر الاسلام، ایس ایس جعفری، ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی اور میاں ریاض الدین جیسے نامور آئی سی ایس افسر نہ کر سکے وہ الطاف گوہر نے کر دکھایا۔ مگر یہ کمال کافی ثابت نہ ہوا…‘‘

محترم مختار مسعود مرحوم کے الفاظ میں جناب الطاف گوہر مرحوم کی شخصیت کا یہ تعارف بڑی حد تک ان کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں اور صاحبان اقتدار و اختیار تک رسائل حاصل کرنے کی ان کی خوبی یا خامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ذکر ان کی تصنیف ’’ایوب خان ۔۔۔۔ فوجی راج کے دس سال‘‘ کا ہونا تھا وہ بیچ میں ہی رہ گیا۔ انشاء آئندہ اسی کے مندرجات اور’’شہاب نامہ‘‘ کے بارے میں خیال آرائی ہوگی۔


ای پیپر