اللہ جانے یہ ضِد کیا رنگ لائے گی!
16 جون 2020 2020-06-16

ضِدی شخص کا بہت بڑا المیہ ہوتا ہے وہ کسی بھی معاملے میں نقصان کی آخری حدتک چلے جاناہے اپنی ضد سے پیچھے نہیں ہٹتا، کبھی کبھی یوں محسوس ہوتاہے ہم نے اپنے محترم وزیراعظم خان صاحب کو ”یوٹرن“ لینے کے اتنے طعنے دیئے ہیں اب کوئی یوٹرن لیتے ہوئے انہیں سخت شرم آتی ہے، لہٰذا کورونا کے حوالے سے لاک ڈاﺅن نہ کرنے کی جو ضد غیر ضروری طورپر اُنہوں نے اپنا رکھی ہے اُس پر یوٹرن لیتے ہوئے اُنہیں بڑی دقت محسوس ہورہی ہے، اور اسے وہ ”غریبوں کے نقصان کی آڑمیں چھپانے کی کوشش کررہے ہیں، ....کوئی ان سے پوچھے گزشتہ ڈیڑھ دوبرسوں میں وہ اپنی یا اپنی حکومت کی کوئی ایک ایسی پالیسی بتادیں جس کا غریبوں کو کوئی مستقل یا براہ راست فائدہ ہو؟ اور اس کی بنیاد پر ہم اُن کے غریبوں کے سچے ہمدرد ہونے کے دعوﺅں یا نعروں کو درست تسلیم کرلیں، اور غریبوں کے وہ اتنے ہی ہمدرد تھے تو جب کورونا کے ابتدائی دن تھے اور اس کے بدترین جانی و مالی نقصان کی ابھی ابتداءنہیں ہوئی تھی، تب پورے ملک میں لاک ڈاﺅن کا فیصلہ انہوں نے کیوں کیا تھا ؟یا تب یہ فیصلہ ان پر ان کے آقاﺅں نے مسلط کیا تو اُسے انہوں نے بخوشی قبول کیوں کرلیا تھا؟ ۔ تب ان کے دل ودماغ میں ہروقت غریبوں کی جو فکررہتی ہے وہ کہاں سو یا کھوگئی تھی؟ تب ان کے غریب پرور ہونے کے جذبے کہاں چلے گئے تھے، اب جبکہ کورونا کے مریضوں کی تعداد پاکستان خصوصاً لاہور میں روزبروز بلکہ پل پل بڑھتی جارہی ہے وہ خوامخواہ غریبوں کے ہمدرد ہونے کی ضد لگاکر بیٹھ گئے ہیں، افسوس اس بات پر ہے وہ اس ضمن میں وہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سفارشات کو بھی خاطر میں نہیں لارہے ۔ جو کورونا کے حوالے سے ملک کی تازہ ترین صورت حال کے پیش نظر بار بار پندرہ یوم کے سخت لاک ڈاﺅن پر اصرار کررہی ہے، میں سوچ رہا ہوں کاش خاتون اول تک ہماری رسائی ہوتی ہم ملک وقوم کے مفاد میں ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان سے گزارش کرلیتے وہی خان صاحب کو سمجھائیں اپنی ضد چھوڑ دیں، یہ بھی ممکن ہے خاتون اول کی وجہ سے ہی اس ضد پر وہ اڑے ہوں، جو حالات اس وقت بن چکے ہیں ملک میں لاک ڈاﺅن کی نہیں سخت کرفیو کی ضرورت ہے، ایسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جو صرف عقلمند حکمران ہی اپنا سکتے ہیں، ان کے پاس وہ دماغ ہی نہیں جو بیٹھ کرسوچیں ایسی کون سی حکمت عملی اپنائی جائے لاک ڈاﺅن کے باوجود غریبوں کا کم سے کم نقصان ہو، ملک پر اس وقت نااہل ترین لوگوں کی حکمرانی ہے، خصوصاً شعبہ صحت میں جن لوگوں کے پاس فیصلہ سازی کے اختیارات ہیں ان کی نااہلی پر کسی کوکوئی شبہ ہی نہیں ہے، ایک ”تھکی ہاری خاتون “ کو پنجاب کی وزیر صحت بنادیا گیا ، وہ بے چاری خود دوقدم نہیں چل سکتی محکمہ اس سے کیا چلنا ہے؟ اب تو اپنی اس واحد ”صلاحیت“ سے بھی وہ محروم ہوچکی ہیں کہ لوگوں کوجھوٹے سچے اعدادوشمار بتاکر مطمئن کرلیں، .... عملی طورپر سوائے باتوں کے ان سے کچھ نہیں ہورہا، اور باتوں کا بھی جہاں تک تعلق ہے ایک شعر یادآتا ہے” یہ درست ہے کام چلایا باتوں سے ہم نے .... اگرچہ بات بھی آئی ہمیں بنائی کہاں.... ان کے وزیر مشیر اتنی بے وزن باتیں کر رہے ہوتے ہیں جتنے عقل کے لحاظ سے وہ خود بے وزن ہیں۔....گزشتہ ہفتے وزیر اعظم لاہور آئے میرا خیال تھا وہ مکمل احتیاطی تدابیر پنا کر پوری کٹ پینٹ پہن کر لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں جائیں گے ۔ وہاں علامتی طور پر کچھ مریضوں اور ڈاکٹروں کا حوصلہ بڑھائیں گے۔ خصوصاً ان ڈاکٹروں کو کوئی تھپکی کوئی شاباش دیں گے جو موت کے خوف سے بالاتر ہو کر رات دن کورونا کے مریضوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔ مختلف ہسپتالوں میں جا کر بزدار حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ خصوصاً پنجاب کی وزیر صحت جو خود ایک ”ڈاکٹر“ ہیں ان کی اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے ۔ پر وہ لاہور آئے ایک دو اجلاسوں میں شرکت کی۔ ایک دو بیانات دیئے اور چل دیئے۔ اگر وہ واقعی اس ملک کے ہمدرد حکمران ہیں، خصوصاً اگر وہ واقعی بڑے بہادر ہیں۔ موت سے نہیں ڈرتے ،انہیں چاہئے تھا مصیبت کی اس گھڑی میں پورے پاکستان کے دورے کرتے، پانچوں صوبوں میں جا کر کورونا کے حوالے سے لوگوں کی ابتریوں کا ذاتی طور پر جائزہ لینے اور نقائص کے حوالے سے متعلقہ قوتوں کو سخت احکامات جاری کرتے، ان کے لئے کوئی عرصہ مقرر کرتے کہ اس دوران وہ اپنے معاملات درست کر لیں ورنہ انہیں کڑی سزا دی جائے گی۔ افسوس وہ روزانہ دفتر یا گھر میں بیٹھ کر دو چار اجلاسوں کی صدارتیں کر کے دو چار بریفنگ وغیرہ لیکر خانہ پری کر دیتے ہیں ۔ یا پھر ان معاملات سے تھوڑا وقت بچ جائے حسب معمول اپوزیشن کو لعن طعن کر لیتے ہیں جس سے ان کے دل کو تھوڑا سکون مل جاتا ہے۔ ابھی اگلے روز میں برادرم سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں کینیڈا سے جیو کے خصوصی نمائندے اپنے محترم بھائی بدر منیر چوہدری کی گفتگو سن رہا تھا کہ کیسے کینیڈا کی مختلف سیاسی جماعتیں نظریات کے حوالے سے ایک دوسرے کی سخت مخالف ہیں پر کورونا کے حوالے سے سب اکٹھی ہو گئیں۔ کینیڈا میں اپوزیشن کا نام و نشان تک نہیں رہا۔ سب جماعتیں، ”حکومتی جماعتیں“ بن گئیں۔ یہاں حکمرانوں کے بغض ختم ہونے کے نام نہیں لے رہے.... بے چارے وزیر اعظم عمران خان اس پوزیشن میں تو نہیں پر ان کا بس چلتا وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور فضائیہ چیف سے بھی گلہ کرتے، بلکہ بچوں کی طرح ان سے ناراض ہو کر بیٹھ جاتے کہ انہوں نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی کورونا میں مبتلا ہونے پر فون پر خیریت کیوں دریافت کی؟۔ ایک اور بات کی سمجھ نہیں آ رہی ، ہم جیسے بے وقوفوں کو تو چھوڑیں، ان کے اپنے ”عقلمند وزیر“ اور مشیران چلا چلا کر کہہ رہے ہیں آئندہ دنوں میں کورونا خوفناک شکل اختیار کرنے والا ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کا ”ارشاد پاک“ ہے جولائی تک کورونا کے دس لاکھ کیسز ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر فرماتے ہیں آئندہ ماہ کے آخر میں کورونا کیسز کے ملک میں بارہ لاکھ ہونے کا خدشہ ہے.... وزیر اعظم ان تمام حقائق سے بالاتر ہو کر ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہیں ”عوام احتیاط کریں“.... کوئی ان سے پوچھے جو کام آپ کے کرنے والے تھے آپ نے کئے جو ساری امیدیں آپ عوام سے وابستہ کر کے بیٹھے ہیں؟۔.... عوام کے مقدر میں مرنا لکھا ہے.... وہ مر رہے ہیں.... اور بے چارے وہ کیا کریں؟؟؟!!


ای پیپر