”مزہ تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی“
16 جون 2020 2020-06-16

جب میں یہ کالم لکھ رہا تھا اس وقت پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد ایک لاکھ 39 ہزار ہو چکے تھے۔جب کورونا وائرس کا پاکستان میں آغاز تھا تو لوگ اسے سنجیدہ نہیں لیتے تھے کہ پاکستان کے لوگوں کی امیونٹی باہر کے ملکوں سے زیادہ ہے اور دوسرا یہ باتیں بھی سننے کو ملتی تھیں کہ گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی کورونا خودبخود مر جائے گا مگر یہ سب باتیں جھوٹ نکلیں۔کورونا جس طرح پاکستان میں تباہی مچا رہا ہے لگتا ہے آنے والے دنوں میں ہر چوتھا بندہ کورونا کا شکار ہو گا۔کورونا کے پاکستان میں پھیلنے کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر پالیسی کا فقدان اور دوسرا عوام کا رویہ۔ہماری عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار تب کیں جب بہت سارا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا۔میری دعا ہے کہ اللہ پاکستان کی عوام اور باقی دنیا کو اس وائرس سے محفوظ رکھے اور جلد ہی اس کی ویکسین تیار ہو جائے اور ہمیں اس وبا سے چھٹکارا ملے۔28 مئی کی بات ہے کہ نیو نیوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نصراللہ ملک آفس میں داخل ہوئے تو بہت نڈھال لگ رہے تھے۔مجھے پتا چلا کہ ملک صاحب کی طبیعت ناساز ہے تو میں پتا کرنے ان کے آفس میں گیا جیسے ہی میں آفس داخل ہوا تو مجھے کہتے ہیں کہ میرے سے دور ہو کے ہی بیٹھنا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے خشک کھانسی اور بخار ہورہاہے اور ساتھ ساتھ سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے ۔میں کوئی دس فٹ کا فاصلہ رکھ کر بیٹھ گیا اور ساتھ ہی مذاق کرنے لگا کے مجھے لگتا ہے آپ کو کورونا نے پکڑ لیا ہے کیونکہ آپ کورونا کامذاق اڑاتے تھے تو شاید وائرس برا منا گیا ہے کہنے لگے نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہے کیونکہ میں نے پچھلے ایک مہینے میں کسی سے ہاتھ نہیں ملایا نا کسی تقریب میں گیا ہوں مجھے کیسے کورونا ہو سکتا ہے ۔میں آدھا گھنٹہ بیٹھنے کے بعد وہاں سے اٹھ آیا۔ملک صاحب کی طبیعت خراب ہوتی جا رہی تھی اوروہ اس دن اپنا پروگرام بھی نہ کر پائے اور گھر چلے گئے۔اگلے دن رات کو پتا چلا کہ ملک صاحب کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے ۔جب یہ بات سنی تو مجھے بہت تشویش ہوئی کیونکہ میرا ملک صاحب کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بہت زیادہ تھا۔رمضان میں افطاری بھی ایک جگہ پہ کرتے تھے ا س کے بعد آفیشل میٹنگز وغیرہ میں بھی ساتھ تھے۔اور باہر گھومنا پھرنا بھی ملک صاحب کے ساتھ لگا رہا۔میرے علاوہ ہمارے ڈائریکٹر نیوز عثمان صاحب ،ڈائریکٹر آپریشن خواجہ وحید،ڈائریکٹرٹیکنیکل محمود خالق،پی ڈی ہیڈ ممتاز وٹو اور ہمارے ایچ آر کے ہیڈ نوید احمد ہم سب ایک ساتھ آفس میں افطاری کرتے تھے مگر ملک صاحب کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے سب مجھے کہہ رہے تھے کہ بھائی تم اپنا ٹیسٹ کراو¿،مجھے بھی فکر لاحق ہوئی کہ گھر میں چھوٹے بچے ہیں ٹیسٹ کروانا ہی بہتر ہے حالانکہ مجھے کوئی علامات نہیں تھیں۔میں نے 29 مئی کو ٹیسٹ کروایا اور 30 مئی کو رات عثمان صاحب کا فون آیا کہ بھائی فورا اپنے آپ کو گھر والوں سے الگ کر لو تمہارا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے ۔یہ خبر تو ایسے بجلی بن کہ گری کہ میرے اوسان خطا ہوگئے۔پھر خود کو سنبھالا اور سوچا وائرس اللہ کی رحمت سے بڑا نہیں 14 دن کی بات ہے گزر جائیں گے۔مجھے لگتا ہے کورونا سے زیادہ مسئلہ نفسیاتی طور پہ کمزور ہونا ہے ۔اگر آپ نفسیاتی طور پر مضبوط ہیں تو آپ بہت جلد کورونا کو ہرا سکتے ہیں۔خیر یہ خبر صبح جب چیئرمین نئی بات نیٹ ورک پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان صاحب کو پتہ چلی تو فوراان کا فون آگیا اور سب سے پہلے محبت بھرے انداز میں تسلی دی اور کہا پریشان نہیں ہونا کورونا تمہارے سامنے کیا ہے اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بس مجھے ایک میسج کر دینا اور ساتھ کچھ احتیاطی تدابیر اور غذا کے حوالے سے بتایا کہ کھانا کیا کھانا ہے ۔چوہدری صاحب نے فون بند کرنے سے پہلے ایک بات کی کہ دیکھو رضوان اب یہ جتنے بھی دن ہیں ان کو مثبت انداز میں گزارنا ،اپنا رویہ مثبت رکھنا انشااللہ تم بہت جلد ٹھیک ہو جاو¿ گے۔باس کے ان الفاظ نے تریاق کا کام کیا اور میں جو عجیب عجیب وسوسوں میں پڑا تھا میں نے ان خیالوں کو جھٹک کر صرف مثبت چیزوں پر توجہ دینی شروع کردی۔صبح اٹھ کر نماز کے بعد ورزش،کتاب بینی اور یوٹیوب پر مختلف تحقیقاتی پروگرام دیکھنا شروع کر دئے۔یقین کریں ان سب مصروفیات کے بعد میں کورونا کو بالکل بھول گیا۔میں تو کورونا بھول گیا تھا مگر میرے کولیگز جو میرے ساتھ بیٹھتے تھے ان کو بھی اپنی فکر لاحق ہو گئی اور اگلے ہی دن سب نے اپنے ٹیسٹ کروائے جن میں سے تین کے مثبت آگئے۔جس کے بعد ان سب نے اپنے اپنے گھروں میں خود کو قرنطینہ کر لیا۔نیو نیوز کے چار ڈیپارٹمنٹ ہیڈ کورونا وائرس سے متاثر ہو کر قرنطینہ میں تھے اس دوران دفتر میں تشویش کی لہر چل رہی تھی ڈریہ تھا کہ لوگ خوف کے مارے شاید آفس نہ آئیں مگر اگلے ہی دن چیئرمین صاحب آفس گئے اور سب کو حوصلہ دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں ادارہ ہر مشکل وقت میں ملازمین کے ساتھ کھڑا ہو گا۔آج مجھے قرنطینہ میں تقریبا پندرہ روز ہو گئے ہیں اور میرے ساتھ باقی کولیگز کو بھی دس سے بارہ دن ہونے والے ہیں ان سب دنوں میں مجھے دو لوگوں کا فون ضرور آتا ہے ایک چیئرمین نئی بات میڈیا نیٹ ورک چوہدری عبدالرحمان اور دوسرے ہیں اسی گروپ کے ایم ڈی چوہدری عبدالخالق صاحب ،یہ فون مجھے ہی نہیں ادارے کے باقی وہ لوگ جو کورونا وائرس میں مبتلا ہیں ان سب کو روز فون کر کے انھیں حوصلہ اور ہمت دیتے ہیں اور اس دوران چیئرمین صاحب نے ہمارے اتنے ناز نخرے اٹھائے کہ ہم سب جیسے کورونا بھول ہی گئے،کبھی چیئرمین صاحب ڈرائی فروٹ بجھوا رہے ہیں اور کبھی امیونٹی بڑھانے والے فریش فروٹس کبھی دوائی ملا پانی جو کورونا سے لڑنے کیلئے جسم میں قوت مدافعت پیداکرتا ہے ۔آج کے زمانے میں وقت سے زیادہ قیمتی چیز کوئی نہیں اور اگر کوئی اپنا وقت آپ کو دے رہا ہے تو سمجھیں وہ اقعی آپ کا خیال کرتا ہے ۔اور یہ کام چیئرمین صاحب اور ایم ڈی صاحب روزانہ کرتے تھے۔دن میں دو بار کال کر کے خیریت معلوم کرنا اور پھر کبھی میسج کر کے حالات دریافت کرنا پچھلے پندرہ دن سے یہی معمول ہے ۔میں سوچتا ہوں کہ بڑے انسان ایسے ہی بڑے نہیں ہوتے ان کے کام بھی بڑوں والے ہوتے ہیں۔بحران میں اپنی ٹیم کے اوپر سایہ بن جانا مشکل وقت میں ان کا ہاتھ تھام کر گرنے سے بچا لینا یہ واقعی ایک لیڈر اور ایک مخلص انسان ہی کر سکتا ہے ۔مجھے آج بھی یاد ہے جب نیو نیوز کو بند کرنے کیلئے پیمرا کا آرڈر آیا تھا تو رات کے گیارہ بجے چیئرمین صاحب کا فون آیا کہ میں آفس آرہا ہوں آپ سے ملنا ہے ۔رات گیارہ بجے نیونیوز کے تقریباً سارے ڈیپارٹمنٹ ہیڈ زمیٹنگ میں موجود تھے اور مجھے چوہدری صاحب کے الفاظ آج بھی یاد ہیں کہ دیکھو اس مشکل وقت میں گھبرانا نہیں۔یا ہم جیت جائیں گے یا سیکھ جائیں گے اور تاکید کی کہ اپنے ورکرز کو کہنا کہ اپنا مورال ہائی رکھیں ادارہ اپنے ملازمین کو نہیں چھوڑے گا اور ایسے بحران ہم پر آتے رہے ہیں اور اللہ نے ہمیشہ ہمیں سر خرو کیا ہے اور پھر اللہ نے ہمیں واقعی وہ دن بھی دکھایا جب پیمرا کے احکامات کو عدالت رد کرتے ہوئے نیو نیوز کو بحال کر دیا۔میرایہ کالم لکھنے کا مقصد کوئی خوشامدیا تعریف کرنا نہیں بلکہ میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک باس اور لیڈر کس طرح اپنی ٹیم کی پرواہ کرتا ہے اور کس طرح مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔اللہ کریم نیو نیوز کا حامی وناصر ہو اور میرے دوستوں کو کورونا وائرس سے صحت یاب کرے اور پھر سے نیو فیملی جو کہ چیئرمین صاحب نے بنائی ہے اس میں ہنستے مسکراتے وآپس آئیں۔۔۔آمین


ای پیپر