نالہ نیم شب
16 جون 2019 2019-06-16

شاید وہ شدید غصہ تھا۔ اپوزیشن کے قومی اسمبلی میں احتجاج کا ردعمل تھا۔ جھنجھلاہٹ تھی۔بے بسی تھی یا کچھ اور۔ جو بھی تھا۔ بس وہ نالہ نیم شب تھا۔ لیکن حاکم وقت کے ردعمل اور ایک عام آدمی کے ری ایکشن میں فرق ہوتا ہے۔ فرق ہونا چاہئے۔جناب وزیر اعظم اپوزیشن کے ہاتھوں شدید درگت بنوانے کے بعد قومی اسمبلی ہال سے نکلے تو غصے میں تھے۔ معاون خصوصی کو مخاطب کیا اور بولے کہ اب اپوزیشن کو بھر پور جواب دوں گا۔ بنی گالہ پہنچے تو خطاب کی تیاریاں شروع ہوگئی۔ کچھ فہمیدہ افراد نے مشورہ دیا کہ خطاب کی ضرورت نہیں۔ لیکن جلتی پر تیل پھینکنے والے غالب آئے۔ اس طائفہ کی قیادت جلسوں کی کیمپئیرنگ سے ایوان بالا تک پہنچنے والے ایک لاڈلے مشیر تھے۔ خطاب کی کہانی میں اب کچھ بھی نیا نہیں۔ جلد بازی میں غلطیاں ہوتی ہیں۔ جس کا نتیجہ جگ ہنسائی ، سبکی اور رسوائی ہوا کرتی ہے۔ سو اس معاملہ میں بھی یہی ہوا۔ خطرہ اگرچہ ٹل گیا لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ خطاب میں سر زد ہوئی تکنینکی غلطیاں کسی بکرے کو قربان کر جائیں۔ بہرطور فوری نتیجہ تو یہ نکلا کہ اگلے ہی روز کئی ماہ سے سرکاری ٹی وی کے خالی عہدوں پر تعیناتیاں کر دی گئیں۔ سرکاری ٹی وی کے چیئر مین پر جناب ارشد خان تعینات ہوگئے۔ یہ وہی ارشد خان ہیں جن کے ساتھ محاز آرائی کی نتیجہ میں فواد چوہدری کو وزارت اطلاعات سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ارشد خان پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہو کر واپس آئے۔ جبکہ فواد چودہری اب گھریلو تقریبات میں لوگوں سے الجھتے پھرتے ہیں۔ زبان قابو میں ہے نہ ہاتھ پر کنٹرول۔ لگتا ہے صحافی کو تھپڑ مارنے کے نتیجہ میں سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ اور ہم بیچارے عوام کو آئندہ چاند اپنے زور بصارت پر ہی دیکھنا پڑے گا۔ یا پھر مفتی منیب الرحمن سے رجوع کرنا ہوگا۔ لیکن اس بات کا بھی امکان ہے کہ فی الحال فواد چوہدری کی بچت ہوجائے۔ ویسے جس طرح وہ راہ میں پڑے ہر بم کو لات مارنے کے عادی ہیں۔ زیادہ عرصہ بچ نہیں پائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت حکومت کو بجٹ منظوری کیلئے ایک ایک ووٹ درکار ہے۔بجٹ منظوری کا معاملہ اختر مینگل کے اشارہ آبرو کی جنبش سے بندھا ہوا ہے۔ ذرا بل پڑا تو بجٹ کی دیدہ زیب کتابوں کے اوراق ہواؤں میں اْڑتے نظر آئیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے وفود باری باری اختر مینگل کے در دولت پر اترتے ہیں۔ فی الحال اختر مینگل نے سب کو آسرا دیا ہوا ہے۔ لیکن اگر وہ اپوزیشن کے پلڑے میں بیٹھ گیے تو بجٹ پاس کرانا مشکل ہوجائے گا۔ اپوزیشن اور حکومت کی تعداد برابر ہو جائے گی۔ پھر یا تو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے پڑیں گے۔ یا ایسا انتظام کرنا ہوگا کہ گنتی کے وقت اپوزیشن کے کم سے کم ارکان موجود ہوں۔ اپوزیشن کے ساتھ اچھے تعلقات کار حکومت کی ترجیح میں نہیں۔ ورنہ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔لیکن حکومت تو مفاہمت کی بجائے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے موڈ میں ہے۔ لہٰذا گرفتاریوں کی مون سون پہلے سے شروع ہے۔دارالحکومت کے کوچہ و بازار میں ایسے ارکان اپوزیشن کی لسٹ گردش میں ہے جن کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔اس لسٹ میں کتنا ہی مبالغہ کیوں نہ ہو۔ یہ بحرحال حقیقت ہے کہ اب تک سینہ گزٹ کے تحت چلنے والی خبریں درست ہی ثابت ہوئی ہیں۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ حکومتی پالیسی سازوں نے پیشگی حملہ کی پالیسی کے تحٹ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد سے پہلے ہی جارحانہ سٹروک کھیلنے کا فیصلہ کرلیا۔ اب تک یہ پالیسی کامیاب نظر آتی ہے۔ البتہ ہوسکتا ہے کہ بلاول بھٹو اور مریم نواز کی ملاقات میں اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہو۔ سوموار کی صبح تک حتمی خبر آپ تک پہنچ چکی ہو۔ نئی بات کے قارئین کی یاد دہانی کیلئے عرض ہے کہ کئی ہفتے پہلے عرض کی تھی کہ بجٹ کی منظوری حکومت کا پہلا امتحان ہوگی۔ اور اس کے بعد امتحانات کی لمبی سیریز ہے۔۔بجٹ پاس ہو بھی گیا تو اس کے بعد اس پر عمل در آمد کیسے ہوگا۔ جو حکومت دو دفعہ ضمنی بجٹ منظور کرانے کے بعد متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب ، چین اور آئی ایم ایف سے ملے پیکج کے بعد بھی ڈالر کو قابو نہ کر سکے۔ اپنا ہی مقرر کردہ چار ہزارارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف پورا نہ کرسکے۔ وہ ساڑھے پانچ ہزار ارب روپیہ کہاں سے اکٹھا کر سکے گی ؟ کیا ڈائریکٹ اور ان ڈائیرکٹ محصولات کے بوجھ تلے سسکیاں لیتی قوم ان مزید ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا لے گی۔ جواب نہیں میں ہے۔ بین الاقومی محاذ پر خبریں گرم ہیں کہ امریکی مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ وہ ایف اے ٹی ایف ، پر بھی پریشر ڈالیں گے۔ اور آئی ایم ایف کے پیکج پر بھی تاخیری حربے استعمال کرینگے۔ وہ شکیل آفریدی کے معاملے پر بھی بازو مروڑیں گے۔ ان کے در پردہ مطالبات کیا ہیں۔ یہ تو معلوم نہیں کیا ہیں۔ لیکن ان کو پتہ ہے قوم میں اتحاد ہے نہ یکجہتی۔ سیاسی استحکام ہے نہ اتفاق رائے۔ حکومت محاذ پر محاذ کھو ل رہی ہے اور اپوزیشن و عوام دیوار سے لگی ہوئی ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جو تحمل برد باری کا مشورہ دے سکے۔ ہلا شیری دینے والے بہت ہیں۔ سیاسی پیش گوئیوں کے بازار گرم ہیں۔ اور مارکیٹ میں پھیلی خبریں اتنی بے بنیاد بھی نہیں۔


ای پیپر