تخیلاتی بجٹ، نئے شکنجے
16 جون 2019 2019-06-16

الف لیلیٰ کا تخیلاتی بجٹ، مسائل کا حل یا مسائل کا پلندہ، پرانے اقدامات نئے شکنجے ، 31 ہزار ارب کے قرضے، اپنے 7 ہزار ارب نکال کر 24 ہزار ارب ڈالر کے قرضوں کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کمیشن کا اعلان، 7 ہزار ارب ڈالر روپے کے قرضوں کی تحقیقات بعد میں آنے والے کریں گے۔’’ بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے‘‘۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 20 ارب ڈالر، تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر، ملکی کرنسی شدید دبائو کا شکار، ڈالر کی اڑان روپیہ ہلکان، دیکھتے ہی دیکھتے 157 روپے 50 پیسے کا ہوگیا۔ تاریخ میں اس سے قبل روپے کی اتنی بے عزتی بلکہ بے حرمتی نہیں ہوئی۔ ایک آدھ مہینے میں ہی 45 روپے اضافہ،’’ بے یقینی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک ،ہم کہیں گے حال دل اورآپ فرمائیں گے کیا؟‘‘ غالب کے دور میں بھی یہی حالات رہے ہوں گے، اسٹاک ایکسچینج میں بیٹھے سرمایہ کار اور بروکر تخیلات میں گم، سر پکڑے بے یقینی کا شکار، آئی ایم ایف کے کارندے مہر بلب، اپنے ہوتے تو ڈالر کے پر کاٹتے، افواہوں نے بے یقینی میں اضافہ کردیا کہ ڈالر 200 روپے پر جا کر رکے گا۔ کمال ہے سرکاری کار پردازوں اور آئی ایم ایف کے معماروں کو بظاہر کوئی پریشانی نہیں،’’ اب تو آرام سے گزرتی ہے عاقبت کی خبر خدا جانے‘‘ خدا ہی جانتا ہے۔ ان کی عاقبت کیسی ہوگی۔ پانچ سال کیسے گزریں گے۔ اقتصادی سروے میں قوم کو سخت پیغام، سخت دنوں کی وعید اور اس کے بعد روشن مستقبل کی نوید، روشن مستقبل کس نے دیکھا ایک دن بعد ہی آئی ایم ایف کے مشیر کی چھتر چھائو ں تلے وزیر مملکت کی جانب سے وفاقی بجٹ کا اعلان، تخیلاتی بجٹ، خواب زیادہ حقائق کم، الف لیلیٰ کی کہانیاں، وہاں بھی روز ایک نئی داستان گھڑی جاتی تھی، وفاقی بجٹ میں کس کی ترجمانی کی گئی کس کا بھرم رکھا گیا؟ 7036 ارب کا وفاقی بجٹ، 3151 ارب کا خسارہ، خسارہ پورا کرنے کے لیے چینی، گھی، خوردنی تیل، گوشت، خشک دودھ، پنیر، کریم، منرل واٹر، مشروبات، سی این جی، سیمنٹ، سگریٹ، زیورات مہنگے، کیا یہ تمام اشیا امیروں کے استعمال کی ہیں کیا غریب یا متوسط طبقے کا فرد یا اس کے بچے سال بھر چینی، گھی، گوشت، دودھ، مشروبات، سگریٹ استعمال نہیں کریں گے، سچ پوچھیے تو گھٹیا سگریٹ غریب ہی پیتے ہیں وہ بھی مہنگے کردیے غریب کی ایک ہی عیاشی وہ بھی ختم، مہنگا سگریٹ خرید کر بیمار ہوگا اور مہنگی دوائیں خریدنے کی سکت نہ رکھتے ہوئے موت کے منہ میں چلا جائے گا۔ اینٹیں، بیکری کا سامان، کھاد اور موبائل سستے، غریب اینٹیں کھائے، بیکری سے بسکٹ خریدے، آٹا روٹی مہنگی اس کی جگہ کھاد کھائے،۔ 17 ہزار میں کیا کیا کھائے گا؟ مرغی، مٹن، بیف، مچھلی، پکی ہوئی اشیا سب مہنگی، چالیس پینتالیس ہزار کمانے والا بھی ان چیزوں کو صرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھے گا اور حکومت کو دعائیں دیتا گھر چلا جائے گا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے 12 لاکھ سالانہ تنخواہ پر استثنیٰ دیا تھا غریبوں کے ہمدردوں نے استثنیٰ ختم کر کے 4 لاکھ کردیا۔ 4 لاکھ والا بھی ٹیکس دے گا کہنے لگے ٹیکس امیروں پر لگائے ہیں امیر اپنی مصنوعات پر بھاری ڈیوٹی دیں گے تو کیا قیمتیں نہیں بڑھائیں گے؟ کیا یہ معمولی سی بات آئی ایم ایف کے کاریگروں کی سمجھ میں نہیں آتی کہ مصنوعات غریب خریدیں گے تو بھاری ڈیوٹی کا خمیازہ بھی غریب ہی کو بھگتنا پڑے گا۔ ایک سینئر ماہر معاشیات نے سچ ہی تو کہا کہ ہر گھر کو دو تنخواہوں کی قربانی دینی ہوگی۔ دو تنخواہیں اکٹھی ہوئیں تو ٹیکس لگے گا ٹیکس کس کس پر لگے گا؟’’ آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ‘‘ اس پر بھی ٹیکس لگانے کی تیاریاں ہیں۔ غریب آدمی کیسے جئے گا۔’’ یہاں جینے کی پابندی وہاں مرنے کی پابندی‘‘ خود کشی کرے گا تو ایف آئی آر کٹے گی۔ لواحقین بھگتیں گے۔ 70 فیصد ٹیکسوں کا بوجھ غریب اور مڈل کلاس پر ڈال دیا گیا، 600 ارب غریبوں کی جیبوں سے نکالے جائیں گے۔ چینی ہر گھر کی ضرورت، تین روپے مہنگی ہوگئی کس کی خدمت کی گئی؟ بیشتر ارکان اسمبلی، الیکٹیبلز، حکومتی وزیر مشیر شوگر ملوں کے مالک، زمیندار، زراعت پیشہ، شوگر ملوں کے مالکان کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ چینی کے دام بڑھائے جائیں، انہوں نے کرشنگ سیزن شروع کرنے میں تاخیر کردی، گندم، آٹا مہنگا کس کا لائف اسٹائل تبدیل ہوگا۔ زرعی طبقے اور زمینداروں کی سالانہ آمدنی 1500 ارب کے لگ بھگ ہے ان پر بوجھ کیوں نہیں ڈالا گیا۔ وفاداریاں تبدیل کرنے کا خوف، حکومت جانے کا خدشہ، مہنگائی سے افراط زر بڑھے گا۔ 9 فیصد ہے یہی شب و روز رہے تو 13 فیصد سے بھی بڑھ جائے گا۔ ٹیکسوں کا جال پھیلانے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ غریب امیر سب کو زندگی کی سہولتیں اور مراعات فراہم کی جائیں تو مغربی ممالک کی طرح سبھی ہنسی خوشی ٹیکس دیں گے ایک مذہبی عالم کے مطابق ریاست مدینہ میں مسلمانوں پر زکوٰۃ اور زمین کی ملکیت و پیداوار پر عشر لازمی تھا ٹیکس غیر مسلم دیتے تھے جسے جذیہ کہا جاتا تھا۔ پاکستان میں ہر مسلمان پر زکوٰۃ و عشر فرض (یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کا حکم ہے جس سے سرتابی ممکن نہیں) ٹیکس حکومت نے لازم کردیا،جو ریاست مدینہ میں غیر مسلموں پر لگتا تھا، بینک میں رکھے 5 لاکھ پر یکم رمضان کو زکوٰۃ کاٹی گئی، یکم جولائی کو ٹیکس کاٹا جائے گا) یہ جملہ ہائے معترضہ تھے، عرض کر رہے تھے زراعت سے وابستہ زمینداروں، وڈیروں، سرداروں اور ارکان اسمبلی کی آمدنی 1800 ارب، زرعی شعبہ سے ملنے والا ٹیکس صرف ڈھائی ارب، سابق وزیر خزانہ نے بجٹ پر عملدرآمد کو’’ مشن امپوسیبل‘‘ قرار دے دیا، انہوں نے برملا کہا کہ اہداف کا حصول قطعی نا ممکن، جی ڈی پی کا ہدف 4.2فیصد حاصل کرنا ممکن ہی نہیں ماضی میں کبھی بھی 40 فیصد آمدنی کا ہدف نہیں رکھا گیا۔ اس کا مقصد ہر گھر پر سالانہ 65 ہزار روپے کا بوجھ ڈالنا ہوگا۔ ٹیکس کا 60 فیصد قرضوں میں چلا جائے گا۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا۔ ایکسپورٹ سیکٹر پر 17 فیصد ٹیکس لگانے سے برآمدات کیسے بڑھیں گی۔ یقین رکھیے منرل واٹر اور پیکڈ اشیاء نوش جاں فرمانے والے درآمدات کم نہیں کریں گے۔ یہ نہیں ہوگا وہ نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ ’’پلائو کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا‘‘ غریب کا مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ اس کا کہنا بجا ہے کہ

میں تجربوں کی طرح جی رہا ہوں برسوں سے

جسے بھی دیکھو مجھے آزمانے لگتا ہے

آئی ایم ایف کی لیبارٹری میں صرف غریبوں کا خون ٹیسٹ کیا جائے گا۔ اسی سے نیا پاکستان بنے گا۔ وفاقی بجٹ کا شام کو اعلان ہوا رات 12 بجے قوم سے خطاب، ریاست مدینہ کے برگزیدہ انسانوں پر جن کے بارے میں ارشاد ربانی ہوا رضی اللہ عنہم و رضواعنہ (اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی) جن کی مدد کے لیے روح الامین فرشتوں کا لشکر لے کر آئے ان پر (نعوذ باللہ) بزدلی اور لوٹ مار کے الزامات، اس کے ساتھ ہی پکڑ دھکڑ کی دھمکیاں ان دھمکیوں پر فوری عملدرآمد، آصف زرداری، فریال تالپور، حمزہ شہباز، تینوں گرفتار، شاہد خاقان عباسی کو گرفتاری کا سندیسہ، پتا نہیں حکومتی وزیروں مشیروں کو ہونے والی گرفتاریوں کی کیسے خبر مل جاتی ہے۔ کوئی بتاتا ہے اسے چھوڑیے، سب کو پتا ہے حبیب جالب زندہ ہوتے تو اپنے ہی شعر میں تبدیلی کے موجودہ دور میں ہلکی سی تبدیلی کرلیتے کہ

ہر بلاول ہے نیب کو مطلوب

دن پھرے ہیں فقط وکیلوں کے

اچھا ہوا، اچھے وقتوں میں چلے گئے ورنہ مشکل میں وقت گزرتا۔


ای پیپر