ٹیکس نہ لگائیں، نظام درست کریں
16 جون 2019 2019-06-16

خان صاحب نے فرمایا ہے کہ پاکستانی عوام ٹیکس کم اور خیرات زیادہ دیتے ہیں۔ یہ بیان آدھا غلط ہے۔صحیح بیان یہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی عوام براہ راست ٹیکس کم دیتے ہیں، بالواسطہ ٹیکس بہت زیادہ دیتے ہیں اور خیرات اس سے بھی زیادہ دیتے ہیں۔؎اگر تحقیق کی جائے تو ہمیں یہ جاننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا کہ یہ حکومتی موقف اتنا جاندار نہیں ہے۔ مسئلہ عوام کا ٹیکس دینے یا نہ دینے کا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ ود ہولڈنگ ایجنٹس سے ٹیکس اکٹھا کر کے ایف بی آر کو منتقل کرنے کے مراحل میں ہے۔ عام آدمی ماچس کی تیلی سے لے کر جہاز کے پروں تک جو بھی چیز خریدتا ہے اس پر ٹیکس ادا کرتا ہے۔ عام آدمی سے یہ ٹیکس یا تو سرکار براہ راست وصول کرتی ہے یا ود ہولڈنگ ایجنٹس کے ذریعے اکٹھا کرتی ہے۔ جو ٹیکس براہ راست وصول کیا جاتا ہے وہ حکومتی خزانوں میں جمع ہو جاتا ہے لیکن جو ٹیکس ود ہولڈنگ ایجنٹس اکٹھا کرتے ہیں وہ پوری طرح سرکاری خزانے کی زینت نہیں بن پاتا بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ جتنا ٹیکس عوام سے اکٹھا کیا جاتا ہے اس کا عشر اشیر بھی سرکاری خزانے مین جمع نہیں ہوتا تو غلط نہیں ہو گا۔

عوام ٹیکس دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں لیکن ٹیکس اکٹھا کرنے والے دکاندار کمپنیاں اور سٹورز وغیرہ اپنی آمدنی چھپاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک ماہ کی دس کروڑ روپے کی سیل ہے تو ود ہولڈنگ ایجنٹ صرف پچاس لاکھ کی آمدنی دکھائے گا اور اس پچاس لاکھ پر لوگوں سے جمع کیا ہوا ٹیکس حکومت کے پاس جمع کروا دے گا جبکہ باقی نو کروڑ پچاس لاکھ کی آمدن پر جو ٹیکس عوام سے اکٹھا کیا ہے اسے اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس نوکروڑ پچاس لاکھ روپے کی آمدنی پر جو اِنکم ٹیکس ود ہولڈنگ ایجنٹ نے اپنے منافع میں سے ادا کرنا ہوتا ہے وہ بھی ادا نہیں کرتا۔ اگر ایف بی آر کو شک ہو جائے کہ کوئی کمپنی یا شخص ٹیکس چوری میں ملوث ہے تو ایف بی آر اس کے آڈٹ کا فیصلہ کرتی ہے۔ آڈٹ کے دوران ایف بی آر کی ٹیم دن رات لگا کر اصل آمدن تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب اصل آمدن سامنے آجاتی ہے تو کچھ لے اور کچھ دے کر درمیان کا راستہ نکالا جاتا ہے جس کا نقصان پاکستان کو ہوتا ہے۔ میری وزیراعظم صاحب سے گزارش ہے کہ اگر آپ ٹیکس آمدنی میں اضافہ چاہتے ہیں تو ایف بی آر کو مضبوط کریں ۔ ان کے اوپر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو موثر بنائیں۔ جو اہلکار رشوت لیتا پکڑا جائے اس کے لیے عمر قید کی سزا تجویز کریں ۔ جو ود ہولڈنگ ایجنٹ عوام سے ٹیکس وصول کر کے حکومت کو جمع نہ کرائے اس کے کاروبار کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے اور ان کے لیے بھی عمر قید کی سزا تجویز کی جائے کیونکہ وہ امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ صرف چند لوگوں کے کڑے احتساب سے آپ ٹیکس اکٹھا کرنے کے نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

جو حقائق میں نے اوپر بیان کیے ہیں وہ بالواسطہ ٹیکس ہے جو کہ عوا م سے زبردستی لیا جاتا ہے۔ خان صاحب آئیں اب ایک نظر اس پہلو پر بھی ڈالیں کہ لوگ براہ راست اپنی مرضی سے ٹیکس کیوں نہیں دیتے ۔

ان حالات کی پہلی وجہ عدم اعتماد ہے۔ مثال کے طور پر اگر عوام کو یہ علم ہو جائے کہ جو پیسہ وہ حکومت کو ٹیکس کی مد میں دے رہی ہے وہ پیسہ وزرا کی عیاشیوں اور کرپشن کی نظر ہو جائے گا تو عوام کی سب سے پہلی کوشش یہی ہو گی کہ وہ کوئی بھی حربہ استعمال کر کے ٹیکس سے بچ جائیں۔ جب عوام کو علم ہو گا کہ ریاست ان کی بنیادی ضرورتیں بھی پوری نہیں کر سکتی تو ان کے پاس ٹیکس دینے کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی۔جبکہ دوسری طرف صدقہ اور خیرات لینے کے لیے کوئی عوام کے پاس آئے یا نہ آئے، عوام خود ضرورت مندوں کو تلاش کر کے انھیں صدقہ اور خیرات کی رقم ادا کرتی ہے کیونکہ انھیں یقین ہے کہ ان کا پیسہ صحیح جگہ خرچ ہو رہا ہے اور آپ یہ بات بہتر جانتے ہیں کہ صدقہ خیرات کی رقم ٹیکس کے پیسوں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔

دوسری وجہ آپ کی پالیسیاں ہیں۔آپ عوام کی منتیں کرنے کی بجائے ایک نظر اپنی پالیسیوں پر ڈالیں آپ یقینا خود بھی شرما جائیں گے۔ مثال کے طور پر ایک طرف آپ نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر دیا ہے۔ اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ان کے اشتہارات باقاعدگی سے چلا رہے ہیں اور عوام کو یقین دلا رہے ہیں کہ آپ اپنی جائدادیں ظاہر کریں آپ کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ جبکہ دوسری طرف حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جس شخص کے اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ روپے کی رقم ہو گی، جس کے پاس بائیس سو سی سی گاڑی ہو گی اور جس کے پاس ایک کنال کا گھر ہو گا ان کی تفصیلات چیک کی جائیں گی اور انھیں نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔ خان صاحب اب آپ خود بتائیں کہ یہ خبر پڑھنے کے بعد عوام اپنی جائدادیں اور اکاونٹ چھپائیں گے یا ظاہر کریں گے؟ یقینا عوام اپنی جائیدادیں چھپانا شروع کر دیں گے۔ یہ آپ کی غلط پالیسیوں اور نا تجربہ کاری کی چھوٹی سی مثال ہے۔میں اس طرح کی سینکڑوں مثالیں آپ کے سامنے رکھ سکتا ہوں جن سے شرمندگی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

تیسری وجہ ڈر ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کار کسی آمر کے دور میں اتنا نہیں ڈرے جتنا آج سہمے ہوئے ہیں۔ ان کے ڈر کی وجہ صرف آپ ہیں۔ کاروباری حضرات کا خیال ہے کہ خان صاحب نہ جانے کس وقت کیا فیصلہ کر دیں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ کوئی معاشی ماہر اپنے نمبر بنانے کے لیے ان کے کان میں آ کر پھونک مار دے کہ فلاں پالیسی بہتر ہے تو وہ اس کا سیاق و سباق دیکھے بغیر اس کی منظوری دے دیں گے اور جب عوامی رد عمل سامنے آئے گا تو اس فیصلے کو واپس لے لیں گے لیکن جب تک وہ فیصلہ واپس لیں گے تب تک ہزاروں لوگ اس فیصلے کے منفی اثرات کا شکار ہو چکے ہو ں گے۔ اس کی عملی مثالیں موجود ہیں۔ تحریک انصاف نے حکومت میں آنے کے دو ماہ بعد ہی نوٹیفیکیشن جاری کر دیا کہ جن لوگوں نے پچھلے تین سال کی ٹیکس ریٹرنز دیر سے جمع کروائی تھیں ان سب کا آڈٹ ہو گا۔ جن کو بھی نوٹس موصول ہوا ان میں سے اکثریت کی رائے یہ تھی کہ ہم نے ساری عمر ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروائی۔ پہلی مرتبہ پچھلے کئی سالوں کی ٹیکس ریٹرنز اکٹھی جمع کروا دیں تاکہ ملک کی باگ دوڑ میں ہم شریک ہو جائیں لیکن اب احساس ہو رہا ہے کہ ہم نے ٹیکس ریٹرن جمع کروا کر بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ ہمیں ٹیکس ریٹرن جمع کروانی ہی نہیں چاہیے تھی تا کہ ہم حکومت کی نظروں سے بچے رہتے۔ عوامی ردعمل پر حماد اظہر نے آگے بڑھ کر اس معاملے کو سنبھالا اور نوٹیفیکیشن واپس لیا لیکن تب تک حکومت کے خلاف محاذ کھڑا ہو چکا تھا اور عوام میں عدم اعتماد کی جو فضا قائم ہونی تھی وہ ہو چکی تھی۔


ای پیپر