عمر ا ن حکو مت کا پہلا وفا قی بجٹ
16 جون 2019 2019-06-16

یہ وہ ایا م ہیں، جب کا لم لکھنے کے لیئے بہت سا موا د جمع ہو چکا ہے۔ مثا ل کے طور پر میا ں شہبا ز شر یف کی وطن وا پسی، ان کے بیٹے حمز ہ شہبا ز کی گر فتا ری، ا ٓ صف زر داری اور ان کی ہمشیر ہ کی گر فتاری۔ تا ہم دیکھنے میں ا ٓ ر ہا ہے کہ عا م ا ٓ دمی کے لیئے یہ خبریں کچھ بھی دلچسپی نہیں ر کھتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے و طنِ عز یز کے معا شی حا لا ت اس درجہ حد تک دگر گو ں ہو چکے ہیں کہ عام ا ٓدمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو چکا ہے کہ رات کو اس کے گھر کا چولہا جلے گا یا ٹھنڈا رہے گا۔ اس کے بچے رات پیٹ بھر کچھ کھاسکیں گے یا انہیں بھوکا سونا پڑے گا۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ اس کے بچوں کی تعلیم اور خوراک کا کیا بنے گا، گھر کا کرایہ، بجلی گیس کے بل، ٹرانسپورٹ کا خرچہ، علاج معالجے پر ا ُٹھنے والے اخرجاات کیونکر پورے ہوں گے؟ باقی روزمرہ کے اخراجات کو فی الحال ایک طرف رکھیں۔ ا ٓدمی کو محض زندہ رہنے کے لیے اور بھی بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔اس سال وفاقی بجٹ کے موقع پر عوام میں جو تشویش اور پریشانی پائی جاتی ہے، ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا حالانکہ ماضی میں بھی مسائل رہے ہیں۔ بہرحال بجٹ ا ٓگیا ہے۔ گو کہ بجٹ کا منظو ری کے بعد اطلاق یکم جو لا ئی سے ہو گا، مگر صو رتِ حال یہ ہے کہ ابھی سے مہنگا ئی میں ہوشربا اضا فے کا ا ٓ غا ز یو ں ہو چکا ہے کہ روزا نہ خو ر و نو ش کی اشیاء ، مثلا ًسبز یا ں، دا لیں، اور پھل وغیر ہ چا لیس فیصد تک مہنگے ہو چکے ہیں۔تفاصیل سمجھنے میں ہمیشہ کچھ وقت لگتا ہے۔ معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ یہ خبر اگلے روز مشیر خزانہ نے بنفس نفیس دی تھی۔ شاید یہ بھول گئے کہ وہ پہلے بھی کافی عرصہ، وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وطن عزیز کو اس مقام تک لانے میں ان کا بھی حصہ ہے۔ اگر کبھی ہماری معاشی بدحالی کے ذمہ داران کی فہرست مرتب کی گئی تو ان کا نام بھی شامل ہوگا۔ کتنا سرفہرست ہوگا یا کتنا نیچے، اس نکتے پر بحث ہوسکتی ہے۔ اس فہرست میں ایک نمایاں نام جناب اسحق ڈار کا ہوگا جو ملکی معیشت کی کمر کامیابی سے توڑنے کے بعد اب اپنے علا ج کے لیئے لند ن میں برا ہ جما ن ہیں۔ یہ درست ہے کہ زندگی قومیں اپنے محسنوں کو نہیں بھولتیں، لیکن زندہ قومیں اپنے مجرموں کو بھی نہیں بھولتیں۔ یہ بھی اتنا ہی درست ہے۔ محسنوں اور مجرموں کا درست تعین ہی دنیا کو بتاتا ہے کہ یہ قوم کیسی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم زندہ قوم ہیں؟ وزیراعظم نے جس کمیشن کا اعلان کیا ہے اس کی ذمے داریوں کا حدود اربعہ ابھی سامنے نہیں ا ٓیا، لہٰذا کہا نہیں جاسکتا کہ کس قسم کے جرائم کا سراغ لگانا اور کیسے مجرموں تک پہنچنا مقصود ہوگا۔ اس وقت یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ جرائم کی نشاندہی کے لیے صرف دس سال کا دورانیہ کیوں مقرر کیا جارہا ہے۔ کیا موجودہ اقتصادی بحران صرف گزشتہ دس سالوں کا شاخسانہ ہے؟ کیا اس سے پہلے سب کچھ ٹھیک ہوتا رہا ہے؟ کیا تب سارے معاملات درست سمت میں ا ٓگے بڑھتے رہے تھے؟

یہ ساری تمہید باندھنے کی ضرورت اس لیے پیش ا ٓئی کہ ملک کے داخلی معاملات کا معمولی سا شعور رکھنے والا عام پاکستانی بھی گزشتہ روز پیش کیے گئے بجٹ کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہے۔ ا ُسے صاف نظر ا ٓرہا ہے کہ نئے بجٹ سے اس کی مشکلات مزید ناقابل برداشت ہوجائیں گی۔ پاکستان کا تازہ ترین اقتصادی سروے بجٹ سے ایک روز پہلے جاری ہوچکا ہے۔ ایک ایسا ملک جو، خود اس کے مشیر خزانہ کے مطابق، دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے، کا اقتصادی سروے کیا ہوگا؟ کیا ہوسکتا ہے؟ بس وہی ہے۔ اس میں درج اعداد و شمار توقعات کے عین مطابق، قوم کے لیے شرمندگی اور تشویش کا باعث ہیں۔ حکومت کی طرف دیکھیں تو ہر معاملے میں اپنے نئے ہونے کی دلیل دے دیتی ہے۔ ہر خرابی ماضی کی حکومتوں کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے، ہر خرابی کا علاج احتساب تشخیص کردیتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ عام ا ٓدمی بڑی شخصیات اور جانے پہچانے چہروں کو احتساب کی پکڑ میں دیکھتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین سے پوچھیں تو وہ اس کی بڑی تفصیلی وضاحت دیں گے۔ لیکن جتنے بھی وسیع پیمانے پر احتساب کرلیں اور یہ جتنا بھی بامعنی ہو، عام ا ٓدمی کی زندگی چوروں، ڈاکوئوں اور لٹیروں کو پکڑنے سے ا ٓسان نہیں ہوسکتی۔ اس کی مشکلات میں کمی ہرگز واقع نہیں ہوگی۔ وہ بہت جلد ا ِس پکڑ دھکڑ سے محظوظ ہونا چھوڑ دے گا۔ اشیائے صرف کی قیمتیں، تعلیم، صحت، پینے کے پانی، تحصیل، کچہری، تھانے کے مسائل عام ا ٓدمی کے لیے پہاڑ جیسے ہیں۔ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی، سٹاک ایکسچینج، سرمایہ کاری، روزگار، جس کی طرف بھی دیکھیں انحطاط ہی انحطاط اور بد حالی و زبوں حالی ہی نظر ا ٓتی ہے۔بلاشبہ، ہمارا حال ہمارے ماضی کا نتیجہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ہمارا مستقبل ہمارے حال کی کوکھ سے ہی جنم لے گا۔ اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ اس حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمارے پاس کون سے ا ٓپشنز ہیں اور ان ا ٓپشنز کو کیسے بروئے کار لایا جاسکتا ہے؟ اسی پر بات کرلیتے ہیں۔قومی بجٹ اور وزیر اعظم کا قوم کے نام پیغام ہماری موجودہ صورتحال کے تناظر میں بہت اہم ہیں۔ بطور قوم ہماری چند ذمہ داریاں ہیں۔ صحیح ٹیکس دینا ا ُسی طرح فرض ہے جس طرح معاشرے میں امن قائم رکھنا صرف ریاست کا ہی نہیں بلکہ ہر فرد کا بھی فرض ہے۔ ہم کم از کم 60 سالوں سے اپنی ذاتی ترجیحات، اپنے ذاتی مفادات کو سامنے رکھ کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ہماری ترجیحات میں پاکستان کس نمبر پر درج ہے؟ اگر اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنے اردگرد بھی نظر دوڑالیں اور دیانتداری سے جواب دیں تو اپنے جواب پر ہمیں شرمندگی ہوگی۔ بجٹ سے واضح ہے کہ ا ٓنے والے دن ا ٓسان نہیں ہوں گے۔ حکومت سے صرف یہ کہنا ہے کہ اتنا خیال ضرور رکھے کہ جن افراد اور طبقوں کی چوری اور قانون شکنی کے سبب ملک دیوالیہ ہونے کو ہے، ان کی سزا ان افراد اور طبقوں کو نہ دے جو اول الذکر کے جرم میں شریک نہیں رہے۔ اگر ہم نے ایک ا ٓزاد اور باعزت ملک کے طور پر زندہ رہنا ہے تو ہم میں سے ہر فرد کو اپنے فرائض کو اچھی طرح پہچاننا ہوگا اور ان کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ٹیکس دینا اور پورا ٹیکس دینا، ٹیکس قوانین پر مکمل عمل کرنا دنیا بھر میں عوام کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کو رکھنا ہوگا۔ صرف زبانی اور محض بطور نعرہ نہیں، بلکہ عملاً اور مکمل دیانتداری کے ساتھ۔ تبھی حقیقی ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا جاسکے گا۔بہر حا ل اس سب کے سا تھ ایک امید افزا خبر کا ذ کر کر نا عین بر محل ہو گا ـ، او ر وہ یہ کہ فیڈ رل بو رڈ ا ٓ ف ر یو نیو کے مطا بق ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے لیئے در خوا ست دینے وا لو ں کی تعدا د میں ا ضا فہ ہو ر ہا ہے۔ یہ تعدا د پا نچ ہزا ر سے تجا وز کر چکی ہے۔


ای پیپر