ادریس بختیار اور رحمت علی رازی بھی چل بسے
16 جون 2019 2019-06-16

پاکستان کے نامور صحافی، منفرد کالم نگار، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی(اے پی این ایس) کے جوائنٹ سیکرٹری اورچیئرمین عزم میڈیا گروپ رحمت علی رازی وفات پا گئے ہیں۔ سینئر صحافی ادریس بختیار کے کچھ ہی دنوں بعد رحمت علی رازی کی اچانک وفات نے ملک بھر کی صحافتی برادری کو گہرے رنج و غم سے دوچار کر دیاہے۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ میں جب بھی کراچی جاتامرحوم ادریس بختیاراپنے گھر بلاتے اور بڑی مہمان نوازی سے پیش آتے جو مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ محترم ادریس بختیار اور رحمت علی رازی دونوں صحافیوں نے پاکستان کی صحافت میں بہت نام کمایا اور اچھی شہرت حاصل کی۔ وہ نوجوان صحافیوں کیلئے بلا شبہ رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جناب ادریس بختیار کی طرح رحمت علی رازی سے بھی میرا دہائیوں پرانا تعلق تھا اور وہ ہمیشہ میرے ساتھ بہت محبت اور شفقت سے پیش آتے۔ ان کی طبیعت میں عاجزی اور انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ساری عمر انہوں نے سچی اور صاف ستھری صحافت کی۔ وہ منفرد اسلوب کے حامل کالم نگار اور دانشور تھے۔ ان کے کالموں میں صرف لفاظی ہی نہیں بلکہ خبریت بھی ہوتی تھی۔ پڑھنے والے قاری کو ان کے کالموں سے حالات حاضرہ سے متعلق بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملتا ۔ان دونوں شخصیات کا شمارپاکستان کے انتہائی باخبر صحافیوں میں ہوتا تھا۔ وہ معاشرتی موضوعات پربھی بہت خوب لکھتے اور وطن عزیزپاکستان کو درپیش حالات اور ملکی سلامتی کیخلاف ہونیوالی سازشوں سے متعلق بھی ان کا قلم کبھی خاموش نہیں رہا۔ ان کا دل ایک سچے اور محب وطن شہری کی طرح پاکستان کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ میں ان کے کالموں کا مستقل قاری رہا ہوں لیکن اس کا سبب دیرینہ دوستی نہیں بلکہ ان کا خوبصورت طرز تحریراور کالموں میں تازہ ترین حالات سے متعلق دی جانے والی آگاہی تھی۔ ان کے کا لم یقینا ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں پڑھے جاتے اور اگلے کالم کا انتظار کیا جاتا تھا۔ مرحوم رحمت علی رازی مختلف محکموں میں سرکاری افسران کے تبادلوں ، کرپشن اور دیگر بے قاعدگیوں او ربدعنوانیوں کو یوں منظر عام پر لاتے کہ پڑھنے والا ان کی معلومات دیکھ کر دنگ رہ جاتا ۔

رحمت علی رازی بہت سادہ اور نرم دل انسان تھے اور میری طرح وہ اپنے پینڈو ہونے پر فخر کرتے تھے تاہم کرپشن کرنے والے چاہے وہ سیاست میں ہوں یا کسی اور طبقہ میں ، ان کے نام سے خوف کھاتے تھے۔ صحافیوں سمیت ہر طبقہ فکر میں ان کا بہت احترام پایا جاتا ہے۔ یہ مقام انہوںنے عمر بھر کی محنت، مشقت اور جانفشانی سے حاصل کیا۔ وہ اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس کے جوائنٹ سیکرٹری ہونے کے ساتھ ساتھ ممبر ایگزیکٹو کمیٹی بھی تھے۔ اسی طرح سی پی این ای میں بھی وہ ممبر سٹینڈنگ کمیٹی کا عہدہ رکھتے تھے۔ عزم میڈیا گروپ ان کی پہچان بن چکا تھا۔ اس ادارہ کو بنانے میں انہوںنے دن رات محنت کی۔ محترم رحمت علی رازی فیصل آباد میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے گئے جہاں سے وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ موٹر وے کے راستہ واپس آرہے تھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اگرچہ اس موقع پر لاہور پہنچتے ہی انہیں اتفاق ہسپتال لیجایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔ تحقیقاتی صحافت اور کالم نویسی کے میدان میں عالمی شہرت کے حامل رحمت علی رازی کانام ایک منفرد پہچان کا حامل ہے۔ انہوں نے سخت محنت اور لگن سے دنیائے صحافت میں ایک روشن مثال قائم کی ہے۔چار عشروں پر محیط ایک طویل قلمی کیریئر کی بدولت انہیں وہ مقام ومرتبہ حاصل ہواہے کہ اب ان کی شخصیت شفاف جرنلزم، بے داغ کردار اور صحافیانہ بصیرت کی ترجمان بن چکی ہے۔جناب رحمت علی رازی نے تحریک پاکستان کو مہمیز دینے والے تاریخ ساز شہر بہاولپور میں جنم لیا۔انہوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز 1974ء میں روز نامہ’’ وفاق‘‘ کے سٹاف رپورٹر کی حیثیت سے کیا۔ 1978ء میں وہ ’’پنجاب یونین آف جرنلسٹس ‘‘کی ’’مجلس عاملہ‘‘ کے بلا مقابلہ رکن منتخب ہوئے اور 1979 میں اس کے جوائنٹ سیکرٹری چن لئے گئے جبکہ 1981ء میں ’’ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘‘ کی ’’مجلس عاملہ‘‘ کے رکن منتخب ہوئے۔ 1980 سے 1982 تک روزنامہ’’ جرأت‘‘ کے ایگزیکٹوایڈیٹر رہے۔ 1988ء میں ’’ آئی ایس پی آر‘‘ کی جانب سے ’’ دفاعی نامہ نگار‘‘ کی تربیت حاصل کی۔ 1989 میں پاکستان آرمی کی مشق اعظم’’ ضرب مومن‘‘ میں شمولیت اختیارکر کے فوج کے مختلف یونٹوں کے ساتھ رہے اور اس جنگی مشق کی بہترین رپورٹنگ پر انہیں اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے ’’تعریفی سند‘‘ عطا کی گئی۔ اس کے بعد وہ روزنامہ ’’ نوائے وقت‘‘ کے ساتھ بطور ’’ فیچر رائٹر‘‘ اور انٹرویو نگار منسلک ہوگئے اور 1984ء سے مارچ 1994ء تک سینئر سٹاف رپورٹر کے طور پر کام کیا۔ بعدازاں جناب رحمت علی رازی مارچ 1994ء میں ہی روزنامہ ’’ جنگ لاہور‘‘ کے ساتھ ’’خصوصی نامہ نگار‘‘ کی حیثیت سے وابستہ ہوگئے ۔ اس دوران ان کی قابلیت اور غیر معمولی کارکردگی کی بنا پر 1997ء میں انہیں ایڈیٹر گریڈ میں ترقی دے کر’’ جنگ گروپ آف نیوز پیپرز‘‘ کا ’’ایڈیٹر انویسٹی گیشن‘‘ مقرر کر دیا گیا۔ روزنامہ جنگ میں ’’درونِ پردہ ‘‘کے نام سے شائع ہونے والا ان کاکالم قومی اوربین الاقوامی سطح پر ہر مکتبہ فکر کی توجہ کا مرکز بن گیاجو آجکل روزنامہ ’’ ایکسپریس‘‘، روزنامہ’’طاقت‘‘ اور ہفت روزہ ’’ عزم‘‘ کے صفحات کی زینت بن رہا تھا۔

حالات پر گہری نظر رکھنے اور جابر حکمرانوں کی خبر لینے والے رحمت علی رازی پاکستان کے واحد صحافی ہیں جنہوں نے 1987 سے 1996 کے دوران تحقیقی رپورٹنگ میں سات ’’اے پی این ایس ‘‘ایوارڈز حاصل کر کے صحافت کی تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کیا۔ شعبہ صحافت میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میںانہیں 23 مارچ2000ء کو ’’ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے بھی نوازا گیا۔جناب رحمت علی رازی ’’ عزم میڈیا گروپ ‘‘ کے ’’ گروپ چیئرمین‘‘ اور ’’ ایڈیٹر انچیف‘‘ کے علاوہ ’’ پرنٹر اور پبلشر‘‘ بھی تھے جن کی ادارت اعلیٰ میں ’’روزنامہ طاقت‘‘ بیک وقت پاکستان کے گیارہ بڑے شہروں: لاہور، اسلام آباد،راولپنڈی، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفر آباد، بہاولپور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ جبکہ روزنامہ ’’بزنس ورلڈ‘‘ لاہور سے شائع ہو رہا ہے ۔ اسی طرح ہفت روزہ ’’ عزم‘‘ ، ہفت روزہ ’’طاقت انٹرنیشنل‘‘ اور ہفت روزہ ’’ اکنامک ورلڈ‘‘ لاہور سے تسلسل کیساتھ شائع ہورہے ہیں۔ روزنامہ طاقت ، روزنامہ بزنس ورلڈ، ہفت روزہ’’عزم‘‘ ، ہفت روزہ ’’اکنامک ورلڈ‘‘ اور ہفت روزہ ’’طاقت انٹرنیشنل‘‘ کئی سالوں سے ایوان صنعت وتجارت لاہور کے مستقل رکن بھی چلے آرہے ہیں۔ جناب رحمت علی رازی عرصہ دراز سے ’’ اے پی این ایس‘‘ کی ’’ ایگزیکٹو کمیٹی‘‘ کا ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ ’’ سی پی این ای‘‘ کی ’’ سٹینڈنگ کمیٹی‘‘ کے رکن بھی چلے آرہے ہیں جبکہ سال 2015-16 کے دوران انہیں ’’آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی‘‘ ( اے پی این ایس) کے ’’جوائنٹ سیکرٹری‘‘ کے طور پر بھی منتخب کیا گیا ۔ رحمت علی رازی کی وفات سے شعبہ صحافت میں یقینا ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے ۔وہ جونیئر صحافیوں کا بہت خیال رکھتے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی وفات اہل صحافت کی طرح ان کے اہل خانہ اور خاندان کے دیگر افراد کیلئے یقینی طور پر بہت بڑا صدمہ ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا کرے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔


ای پیپر