یہ ہیں وہ ذرائع
16 جون 2019 2019-06-16

گھر کے اخراجات کو مناسب طریقے سے چلانا بھی ایک فن ہے اور ہماری گھریلو خواتین اس فن میں طرہ امتیاز رکھتی ہیں ۔ خاص طور پر جب اُن کا تعلق مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے ہو۔ ہماری خواتین ہمیشہ ہی ماہانہ خرچے سے کچھ نا کچھ پیسے بچا کر رکھتی ہیں ۔ گھر میں جب بھی کوئی بڑا ایڈونچر کرنا مقصود ہو جیسا کہ بچوں کی شادی یا گھر زمین کی خریداری تو عموماً سال دو سال کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور ایسے میں ہماری یہ سُگھڑ خواتین کمیٹیاں ڈال لیتی ہیں اور آرام سے ان منصوبہ جات میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں ۔ بصورتِ دیگر اگر آپ یہ تصور کریں کہ صرف ماہانہ تنخواہ سے یہ سب ہو جائے گا تو یہ کسی حد تک مشکل ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ اپنے کسی دوست عزیز سے کچھ اُدھار لے کر مشکل وقت کو گزار لیتے ہیں اور بعدازاں اس کو چُکا دیتے ہیں ۔ ویسے اگر گھر گِرستی پر ہی بات کرنی ہو تو سو مشکلیں مصیبتیں اور رکاوٹیں گنوائی جا سکتی ہیں مگر فی الحال ان سے ہی ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اپنی سفید پوشی رکھنا کتنا مشکل ہے اور اگر یہ چھن جائے تو اسے دوبارہ حاصل کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے ۔

اب آپ خود سوچھیں ہمارا ملک پاکستان جب ہم اس کو دنیا کہ نقشے میں دیکھتے ہیں تو کسی بھی طرح یہ نہیں لگتا کہ ہم بحیثیت قوم کوئی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ باقی دنیا تو ایک طرف خطے میں بھی ہم کسی طرح لوئر کلاس سے اوپر نہیں گردان سکتے۔ اب اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ ہماری حکومت میں موجود خواتین نے کبھی ہمیں ان مشکلات سے نکالنے کے لئے کوئی کمیٹی نہیں ڈالی اور جو ہمارے سربراہ تھے انہوں نے قرضے لینے میں دوستوں سے کیا شریکوں کے سامنے بھی ہمیں لم لیٹ کیا۔ چلو جناب مشکل وقت میں کوئی بات نہیں اگر ضرورت تھی تو قرضہ لے لیا مگر واپس بھی تو کر دیتے !

ہمارے ملک کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ہماری مڈل کلاس جو کہ سب سے زیادہ تھی وہ تقریباً ختم ہونے کو ہے ۔ اب ایک ایلیٹ کلاس ہے جو روز بروز مزید ایلیٹ ہوتی جا رہی ہے اور دوسری جانب مڈل کلاس اب لوئر مڈل بلکہ لوئر ترین کلاس میں بدل رہی ہے۔ دوسرا موجودہ بجٹ سے امیر شخص کو تو کوئی فرق نہیں پڑنا مگر نچلے طبقے کی چیخیں سُننے کو مل رہی ہیں ۔جہاں حکومت گزشتہ سال کے متعین اکثر اہداف کو حاصل نہ کر سکی ایسے میں ہمیں ان وجوہات کو سمجھنا ہو گا جس کے باعث ایسا کرنا ناگُزیر ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ وہ شاہانہ بجٹ تھا جو مفتاع اسماعیل نے پیش کیا تھا جس میں بنیادی عنصر صرف الیکشن میں سبقت حاصل کرنا تھی۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ گزشتہ حکومت نے جاتے جاتے صرف ووٹوں کی لالچ میں تمام محصولات کو ختم یا انتہائی کم کر دیا گیا ایسا تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی شاید نہیں ہوتا ہو گا مگر لگتا ہے کہ مفتاع اسماعیل کو خزانہ کی تصویریں فوٹوشاپ کر کے دکھائی گئی ہوں گی تب ہی وہ یہ سب کر گئے اس وقت ایک بہت بڑا ایشو تنخواہ دار طبقے پر چھ لاکھ سے زائد آمدن پر ٹیکس کا اطلاق ہے جو گزشتہ سال بارہ لاکھ کر دیا گیا حالانکہ ہمیں یاد ہے کہ اس سے پہلے یہ حد چار لاکھ تھی تو وہ بجٹ بنانے والوں سے پوچھا جائے کہ اس وقت کونسی ایسی دودھ کی نہریں بہہ رہی تھیں جو یوں خزانے کو لات نہیں لاتیں،ٹھڈے مُکے مارے گئے۔ مرسڈیز کاریں خریدی گئیں ہر چند ہر شعبے میں بے شمار بلکہ انہے واہ خزانہ لٹایا گیا جس کے بعد آنے والی حکومت کو ملا کیا ؟ تو جناب یہ ٹُھلو وہ ذریعہ ہے کہ جس سے ماضی میں بجٹ بنایا گیا تھا۔

مایوسی گنا ہ ہے، بجٹ کوایک دفعہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ شاید اب تک کی تاریخ کا سب سے مشکل بجٹ ہے کیوں کہ اس میں بہت سارے ٹیکس لگائے گئے ہیں جن کا درد ہر خاص و عام کو محسوس کرنا ہو گااور اس میں اب کوئی دورائے نہیں کہ ہمیں کڑا وقت دیکھنے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔ دیکھا جائے تو بجٹ پاکستان کی بیمار معیشت کو پہلا طاقت کا ٹیکہ ہے اور ابھی ایسے کوئی دو تین اور ٹیکے لگانے ہوں گے۔ پہلی دفعہ کسی حکومت نے ووٹ اور سپورٹ کے لئے نہیں بلکہ ملک کے لئے سوچا ہے اس بجٹ سے بہرحال ریاست مضبوط ہو گی۔ ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہوگا اس کے علاوہ اب کھانے کے لئے کام کرنا ہو گا بیٹھے بٹھائے کھانے والے دن اب گئے کیونکہ نا تو اب پراپرٹی کے کام میں سٹے بازی ہو گی اور نہ ہی سودی منافع اتنا پُرکشش۔ اب لوگوں کو صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی ۔ پلاٹ مکانات سستے ہو ںگے اور ایک عام آدمی کی دسترس میں آ جائیں گے۔ اب بظاہر نظر آرہا ہے کہ سسٹم ایسا بنایا جا رہا ہے کہ ٹیکس دینے والے کو ہر جگہ پر ترجیحی سہولیات دی جائیں گی جو کہ دوسرے لوگوں کو بھی اس سسٹم میں لانے کا ایک ذریعہ بنے گا۔

اپوزیشن کی بھرپور مخالفت اور نئے اقدامات کے واضح ہونے تک ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگلے چار پانچ ماہ مارکیٹ رُکی رہے گی مگر اس کے بعد ہمیں اس میں تبدیلی نظر آئے گی۔ بجٹ میں جو اہداف پیش کئے گئے ہیں ان کا حصول ایک مشکل امر سہی مگر ناممکن نہیں ہے ۔ اب عمران خان کے پاس وقت کم ہے وہ کافی عرصے سے ایف بی آر میں اصلاحات اور اس کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی بات کر رہے ہیں جس کی کمان انہوں نے شبرزیدی کے ہاتھوں میں تھمائی ہے ۔ تو جان لیں ملک کی سالمیت اور ریاست کی بقاء اس وقت ان اعداد وشمار میں جکڑی ہوئی ہے جس میں مفتاع اسماعیل گزشتہ سال پھنسا گئے اوراب کی بارحماد اظہر اُلجھا گئے۔ عمران خان اب جلدی سے خصوصی پکڑ دھکڑ کمیشن کے ساتھ ساتھ ایف بی آر کو بدلیں کیونکہ آپ کے پاس اب دو تین سال نہیں صرف دو تین ماہ ہیں کوشش کریں جو بھی کرنا ہے اس پہلی سہ ماہی میں ہی کرلیں کیونکہ گزشتہ سال حکومت چار ہزار ارب محصولات بھی جمع نہیں کر پائی اور اس سال کا ہدف تو ساڑھے پانچ ہزار کا ہے ۔ اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب یہ اصلاحات مکمل ہو جائیں بصورت دیگر موجودہ سسٹم میں اس ہدف کو حاصل کرنے کی صلاحیت نظر نہیں آتی۔

اس کے علاوہ دو مزید حل یہ بھی ہیں کہ امریکہ یا دیگر ممالک کی طرح ہم بھی کرنسی نوٹوں کو تبدیل کر دیں اور پھر یہ عمل ایک مخصوص عرصے کے بعد دہرایا جاتا رہے جس سے کہ وہ پیسہ جو لوگوں نے تجوریوں میں چھپا کے رکھا ہوا ہے ان کو باہر لانا ہو گا۔ اس سے سٹیٹ بینک کے ذخائر میں بھی کافی اضافہ ہو گا اور ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔ پانچ ہزار کے نوٹ کے مستقبل کے بارے میں بھی جلدی فیصلہ کرنا ہو گا۔ دوسرا حل جو کہنے میں آسان مگر کرنے میں مشکل ہے پر اگر ہم کر سکیں تو فواد چوہدری جنہیں اب ہم سیاستدان سے زیادہ سائنسدان کے طور پر زیادہ جانتے ہیں تو جناب ان کی بات مجھے اچھے سے یاد ہے کہ وہ موبائل سے لین دین کے معاملات کرنے کی بات کر رہے تھے تو جناب ان کی بات کو سنجیدہ لیں ۔ ان کو بھی ساتھ لیں ، ملک کے ماہر آئی ٹی اور معیشت کے ماہرین کو ساتھ بٹھا کر کرنسی کی بجائے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز یا ڈیجیٹل والٹ کی طرف جائیں ۔ چین میں اس وقت یہی طریقہ استعمال ہو رہا ہے تو ہم ان سے بھی مدد لے سکتے ہیں ۔ یہ کرنے کو تو مشکل ہے پر اگر ایسا ہو جائے تو کمال ہو گا تمام تر لین دین ایف بی آر کی نظر میں ہوں گی اور حکومت کا مکمل کنٹرول ہو گا ۔دو نمبری اور ٹیکس چوری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر۔آخر میں اتنا عرض ہے کہ جناب کچھ بھی کریں مگر صدقِ دل سے اور پورے اخلاص سے کریں ۔ یاد رکھئے گا پاکستان بھی اللہ کے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے اور جس جس نے اس کا برا سوچا اللہ نے اسے رسوا کیا ہے !


ای پیپر