بچے میرے تمہارے
16 جون 2019 2019-06-16

کچھ چوٹیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیشہ دل کو کچوکے لگاتی رہتی ہیں۔ چاہے انسان جتنا مرضی صاحب ثروت ہو اور دنیاوی رزق کی اس کے پاس فراوانی ہو،بہترین تنخواہ رکھتا ہو، صاحب اولاد ہو، دوستوں اور پیار کا ہر رزق اس کے پاس ہو لیکن کچھ چوٹیں ایسی ہوتی ہیں جن کو وقت مندمل کرنے میں بھی کافی مشکل محسوس کرتا ہے۔ ایسی حالیہ چوٹ لگنے کا اتفاق مجھے بھی ہوا۔ چھٹی لے کر کوشش کی کہ بچوں کے ساتھ تھوڑا انجوائے کرلیا جائے۔ یہی وہ خیال تھاکہ جس کی بِنا پر شاید موسم کو بھی خیال آگیا۔ اتنی گرمی میں بادل آئے ہوئے تھے اور کافی خوبصورت موسم تھا۔ اس انجوائے میں مجھ سمیت اس بے حس معاشرے پر لگی ہوئی جو تہمت تھی اسے صحیح ثابت ہونے میں کافی مدد ملی۔

ہم جی ٹی روڈ سے نکلے اور میری پہلے بریک قصور کے قریب لگ گئی۔ میری بیٹی میرے بائیں جانب بیٹھی اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں سٹوری بک پڑھ رہی تھی اوراس کے بائیں جانب بھٹے کے آگے بیٹھا ایک بچہ اینٹیں بنا رہا تھا۔ میری بیٹی مزے سے کتاب کے کاغذ پلٹ رہی تھی اور وہ مرجھائے ہوئے چہرے اورنڈھال حالت میں اینٹیں بنا رہا تھا۔ یہ منظر میں کبھی نہیں بھولا اورکبھی نہیں بھولوں گا۔

ہر سال جب بارہ جون کو بچوں سے مشقت کے خلاف آگاہی کا عالمی دن آتا ہے اور اس دن کے حوالے سے خبریں چلتی ہیں تو وہ منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ رواں برس اس دن کا مرکزی خیال کام کرنے والوں بچوں کی صحت وحفاظت سے متعلق تھا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پندرہ کروڑ بیس لاکھ بچے جبری مشقت پر مجبورہیں۔یونیسیف کے مطابق، دنیا کا ہر دسواں بچہ یا بچی زندہ رہنے یا پھراپنے اہلخانہ کی مدد کرنے کے لیے مزدوری کرتا ہے۔ متاثرہ بچوں میں سے نصف کو کام کے خراب حالات کا سامنا رہتا ہے ، اس کے علاوہ ان کا جسمانی استحصال بھی کیا جاتا ہے، ایسے متاثرہ بچوں کی سب سے بڑی تعداد افریقہ اور ایشیا میں ہے۔ شائننگ انڈیا کا نعرہ لگانے والے ہمسایہ ملک میں بھی چائلڈ لیبر ایک بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان میں بھی پانچ سے چودہ سال کے درمیان بچوں کی ایک بڑی تعدادمزدوری کرنے پر مجبورہیں۔ پاکستان میں غربت ،بے روزگاری و مہنگائی نے غریب بچوں کو اسکولوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ ان کے لیے تعلیم ایک خواب ہی بن کر رہ گئی ہے۔ یہ معصوم بچے بوٹ پالش کے کام سے لے کر ہوٹلوں، چائے خانوں، ورکشاپوں، مارکیٹوں، چھوٹی فیکٹریوں، گاڑیوں کی کنڈیکٹری، بھٹہ خانوں، سی این جی اور پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے سمیت دیگربہت سے جبری مشقت کے کام کرتے ہیں۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 11 سیکشن 3کے تحت ملک میں 14 سال سے کم عمربچے کسی فیکٹری، کان یا ایسی جگہ ملازمت نہیں کرسکتے جو ان کے لئے جسمانی اعتبار سے خطرناک ثابت ہو۔ لیکن اہم قوانین کی موجودگی کے باوجود ملک میں چائلڈ لیبرکی صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے۔

عالمی ادارہ محنت کے مطابق چائلڈ لیبر کے زمرے میں آنے والے بچے قالین بنانے، چوڑیاں بنانے کی صنعت، سرجیکل آلات بنانے، کوڑا چننے، چمڑا رنگنے کی صنعت کے علاوہ گھروں میں بھی ملازمت کرتے ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں میں لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، گوجرانوالہ، اسلام آبادسمیت مختلف شہروں سے گھریلو ملازمت کرتے بچوں پر تشدد کے نہ جانے کتنے کیسز رپورٹ ہوئے لیکن ان معصوم بچوں پر وحشیانہ تشدد کرنے والوں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا گیا۔ لوگ چائلڈ لیبر کو اس لیے بھی کام پر رکھتے ہیںکیونکہ وہ ہمیشہ سستی ہوتی ہے، ڈرانے پر سہم جاتی ہے اور تھوڑے پر بھی راضی ہو جاتی ہے۔

مختلف ممالک میں غربت، جہالت اور بے روزگاری کی بنا پر والدین اپنے بچوںکو مشقت کرانے پر مجبور ہیں۔ لیکن ایک سبب دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والی معرکہ آرائیاں، خانہ جنگیاں، قدرتی آفات اور ہجرتیں بھی ہیں جوبچوں سے ان کا بچپن چھین کر انہیں زندگی کی تپتی بھٹی میں جھونک دیتی ہیں۔

اس دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں حکومتی نمائندے چائلڈ لیبر کے خلاف تقریریں کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں سیمینارز اور واک کا اہتمام کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے آگاہی کے پیغامات جاری کیے جاتے ہیں۔ لیکن اس دن کے بعد اگلا دن ایسا ہی ہوتا ہے جیسا ان بچوں کی زندگی میں گزرتا آیا تھا۔ محنت کش بچے کوئی پیدائشی محنت کش نہیں ہوتے، ان کی شکلیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباکی ہوتی ہیں لیکن صرف وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے میں چھوٹے بن کررہ جاتے ہیں۔

سال2000سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کے تحت ترقی پذیرممالک میں انسانی سماجی ترقی کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خصوصاًبچوں کی طرف توجہ دیتے ہوئے2001تا 2010میلینیم ڈیویلپمنٹ گولز کے لحاظ سے ایک پروگرام شروع کیا گیا اور یہ طے کیا گیا تھا کہ یہ اہداف ان دس برسوںمیں حاصل کرلیے جائیں گے مگر ایسا نہ ہوسکا تو اس کے بعد اب اسی پروگرام میں توسیع کی گئی ہے تاکہ ان اہداف کو2030تک حاصل کرلیا جائے۔

دل یہ سوچ کر دکھی ہوتا ہے کہ جن ہاتھوں نے تھامنے تھے قلم وہ بن گئے گھر والوں کا ذریعہ آمدن۔ کیا ہم کسی مسیحا کا انتظار کریں جو دنیا بھرمیں مشقت کرتے ان معصوموں کا مداوا کرے۔

کون ہے جو کام کے دوران ان کے جسموں پر آئی چوٹوں پر مرہم رکھے۔ کوئی ہے جو سہم کر روتے ہوئے ان بچوںکے آنسو پونچھ لے۔ کوئی انہیں بھی پیارے پیارے کپڑے پہنچا دے اور کوئی انہیں بھی انگلی پکڑ کر اسکول لے جائے۔آج میں بھی اس منظر کو یاد کرتا ہوں جب میں ایک مستقبل کو تباہ ہوتا دیکھ کراپنی ہی دھن میں آگے نکل گیا۔


ای پیپر