اعلیٰ کون؟
16 جون 2018 2018-06-16

وقت اور حالات کا ہی تو فرق ہے نہیں تو میری جگہ وہ اور اس کے جگہ میںہوسکتا تھا۔ انسان کی قدر میری یہ آپ کی نظر میں بلند یا پست تو ہوسکتی ہے لیکن تخلیق کار نے ہر شخص کو ہم وزن ہی بنایا ہے۔ تخت پر بیٹھنے والابادشاہ ذلیل تو زمیں نشین انسان عارف ہوسکتا ہے۔ یہ سب اللہ کی بچھائی ہوئی بساط ہے جسے ہم سب سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لیکن مشیتِ ایزدی یہ سبق ضرور دیتی ہے کہ 'اے انسان قدرومنزلت کا فیصلہ تمہاری نظر سے نہیں میری قدرت سے ہوگا'۔

دو حیرت انگیز واقعات آپ کے سامنے تحریر ہیں لیکن ان سے ملنے والا سبق ایک ہی ہے۔بس پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی کہ اچانک بجلی چمکی، بس کے قریب آئی اورواپس چلی گئی۔ بس آگے بڑھتی رہی، لیکن آسمانی بجلی کے وار بھی تواتر سے جاری تھے۔ ڈرائیور 'سمجھدار' تھا، اس نے گاڑی روکی اور اونچی آواز میںبولا 'بھائیوں بس میں کوئی گنہگار سوار ہے یہ بجلی دراصل اسے تلاش کررہی ہے۔ ہم نے اسے نہ اتارا تو ہم سب مارے جائیں گے۔' بس میں سراسیمگی پھیل گئی اور تمام مسافر سب کو شک کی نظر سے دیکھنے لگ گئے۔ ڈرائیور نے مشورہ دیا سامنے پہاڑ کے نیچے درخت ہے اور ہم تمام ایک ایک کرکے اترتے ہیں اوردرخت کے نیچے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہم میں سے جو گنہگار ہوگا بجلی اس پرگرجائے گی اور باقی لوگ بچ جائیں گے۔ یہ تجویز قابلِ عمل تھی اس لیے سب نے اس پر اتفاق کیا۔ ڈرائیور سب سے پہلے اترا اور درخت کے نیچے کھڑاہوگیا۔ بجلی آسمان پر چمکتی رہی لیکن ڈرائیور کی طرف نہیں آئی، وہ بس میںواپس چلا گیا یوں سب مسافر ایک کے بعد ایک کرکے درخت کے نیچے کھڑے ہوتے رہے اور اپنی پارسائی کی گارنٹی لیتے ہوئے واپس جاتے رہے۔ بجلی کو نہ گرنا تھا نہ گری۔ یہاں تک کہ صرف ایک مسافر بچ گیا۔ یہ گندہ میلا مجحول سا مسافر تھا کنڈکٹر نے اس پر ترس کھاکر اسے بس میں سوار کرلیا تھا۔مسافروں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ لوگوں کا کہنا تھا ہم تمہاری وجہ سے موت کے منہ میں بیٹھے ہیں تم فوراً بس سے اتر جاو¿۔ وہ ساتھ ساتھ اس سے ا±ن گناہوں کی تفصیل بھی پوچھ رہے تھے جن کی وجہ سے ایک اذیت ناک موت اس کی منتظر تھی۔ لیکن وہ مسافر اترنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ لیکن لوگ اسے ہر قیمت پر بس سے اتارنا چاہتے تھے۔ مسافروں نے پہلے اسے برابھلا کہہ کر اترنے کا حکم دیا اور آخر میں اسے گھسیٹ کر اتارنے لگے اورکامیاب ہوگئے۔ ڈرائیور نے بس چلادی۔ بس جونہی "گنہگار" شخص سے چند میٹرآگے گئی ایک زوردار آواز سے بجلی بس پر آگری۔ تمام مسافر چند لمحوں میں جل کر بھسم ہوگئے۔ دراصل، وہ "گنہگارمسافر" دو گھنٹوں سے مسافروں کی جان بچا رہا تھا۔

دوسرا واقعہ: ایک صاحب کی زبانی بیان ہے کہ وہ ترکی کے راستے یونان جاناچاہتے تھے۔ ایجنٹ انہیں ترکی لے گیا۔ یہ ازمیر شہر میں دوسرے لوگوں کے ساتھ برفباری کا انتظار کرنے لگے۔ سردیاں یورپ میں داخلے کا بہترین وقت ہوتا تھا۔ برف کی وجہ سے سکیورٹی اہلکار مورچوں میں دبک جاتے تھے۔ بارڈرپر گشت رک جاتا تھا۔ ایجنٹ لوگوں کو کشتیوں میں سوار کرتے اور انہیں یونان کے کسی ساحل پراتار دیتے۔ ان صاحب نے بتایا کہ ہم ترکی میں ایجنٹ کے ڈیرے پر پڑے تھے، ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کا میلا کچیلا، گندہ سا لڑکاتھا، اوراس سے خوفناک بو آتی تھی۔ تمام لوگ اس سے دور رہنے میں ہی عافیت جانتے تھے۔ ہم لوگ دسمبر میں کشتی میں سوار ہوئے اور کوئی شخص اس لڑکے کوساتھ نہیں لے جانا چاہتا تھا۔ ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ روناشروع ہوگیا۔ ایجنٹ کے پاس وقت کم تھا چنانچہ اس نے اسے ٹھڈا مار کر کشتی میں پھینک دیا۔ کشتی جب یونان کی حدود میں داخل ہوئی تو کوسٹ گارڈ'ایکٹِو' تھے۔ یا یوں کہیے کہ مخبری ہوگئی تھی۔ ایجنٹ نے مختلف راستوں سے یونان میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ہر راستے پر کوسٹ گارڈ تھے۔ اس دوران اس لڑکے کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ الٹیاں کرنے لگا۔ ہم نے ایجنٹ سے احتجاج شروع کردیا۔ ایجنٹ پہلے ہی ٹینشن میں تھا اسے غصہ آگیا۔ اس نے دولڑکوں کی مدد لی اور اس گندے لڑکے کو اٹھا کر یخ ٹھنڈے پانی میں پھینک دیا۔ ہم ابھی آدھا کلومیٹر آگے گئے تھے کہ ہم پر فائرنگ شروع ہوگئی اورکشتی اپنا توازن پانی میں برقرار نہ رکھ سکی اور الٹ گئی۔ ہم سب پانی میںڈبکیاں کھانے لگ گئے۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں اسپتال میں تھا۔ مجھے اسپتال کے عملے نے بتایا کہ کشتی میں سوار تمام لوگ مر چکے ہیں صرف دولوگ بچے ہیں۔ میں نے دوسرے زندہ شخص کے بارے میں پوچھا، ڈاکٹر نے میرے بیڈ کا پردہ ہٹا دیا۔ میں کیا دیکھتا ہوں دوسرے بیڈ پر وہی لڑکا لیٹا ہوا ہے جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینکا تھا۔ سمندر کی لہریں اسے دھکیل کر ساحل تک لے آئی تھیں۔ میں 15 دن اسپتال رہا۔ اور اس دوران یہ سوچتا رہا کہ میں کیوں بچ گیا۔ مجھے کوئی جواب نہیں سوجھتا تھا۔ میں جب اسپتال سے ڈسچارج ہورہا تھا، مجھے اس وقت یاد آیا جب اس لڑکے کو ٹھنڈے یخ پانی میں پھینکا گیا تھا تو میں نے فوراً باکس سے لائف جیکٹ نکال کر اسے پہنا دی تھی۔ شاید یہ وہ نیکی تھی جس نے مجھے بچالیا۔ مجھے چھ ماہ کا وہ سارا زمانہ یاد آگیا جو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ گزارا تھا۔ ہم نہ صرف ترکی میں اس کی وجہ سے بچتے رہے بلکہ وہ لڑکا جب تک کشتی میں موجود رہا سب لوگ، کوسٹ گارڈ، یخ پانی اور موت سے بھی بچتے رہے۔ اب مجھے معلوم ہوا کے میرے ساتھیوں کو دراصل اس کے جسم سے اپنی موت کی بو آتی تھی۔

غور کریں تو ہماری زندگی میں ایسی مثالیں بارہا ملتی ہیں کہ جنہیں ہم حقیر جان رہے ہوتے ہیں دراصل وہی وہ چند افراد ہوتے ہیں جن سے دنیا قائم ہے۔


ای پیپر