مقبوضہ کشمیر میں بھار ت کے بڑ ھتے مظا لم اور کچھ ملکی حالات
16 جولائی 2020 (23:07) 2020-07-16

ایک لمبے عر صے سے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ بھارتی فوج نے 80 لاکھ کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، وہاں ایسے قتل عام کا خدشہ موجود ہے جو 25 برس قبل بوسنیا کے قصبہ سربرینیکا میں سربیائی فوج کے ہاتھوں ہوا تھا جس میں 8 ہزار بے گناہ افراد کو موت کے گھات اتار دیا گیا تھا۔ سربرینیکا میں ہونے والی نسل کشی کی 25 ویں برسی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں 25 سال قبل خطہ بلقان میں ہونے والی نسل کشی اور قتل عام سے سبق سیکھنا چاہیے اور ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے کی اجاز ت نہیں دینی چاہیے۔ انہوںنے انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سربرینیکا کبھی اقوام متحدہ کی امن فوج کے لیے پُرامن جنت تھی، ایسی پُرامن جگہ پر پچیس برس قبل یہ کیسے ممکن ہوا؟ مجھے اب بھی اس بات کا صدمہ ہے کہ عالمی بردری نے اس واقعہ کو کیسے رونما ہونے دیا، آج کشمیری عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے اس دن کی مناسبت سے پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے بوسنیا کے عوام کے لیے سلامتی اور نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔گزشتہ سال 5 اگست کو بھارتی حکومت نے اپنے ظالمانہ اقدامات کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں موجود خصوصی حیثیت کو ختم کر ڈالا جس کے بعد وہاں قابض بھارتی افواج کو کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کے لیے اپنے ظالمانہ اور غاصبانہ اقدامات میں کھل کھیلنے کا موقع مل گیااور اس نے کشمیریوں کے خلاف اپنے ظلم و ستم اور جبر کا شکنجہ مزید کسنا شروع کردیا مگر آفرین ہے کشمیریوں پر کہ انہوں نے ظلم و جبر کی اس آہنی دیوار کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کرتے ہوئے قربانیوں کے سلسلے میں کمی نہ آنے دی۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے جہاں قابض بھارتی فوج کشمیریوں سے زندگی کی ہر خوشی چھیننے میں مصروف عمل ہے۔ بھارتی افواج نے کشمیریوں کے گھر میں گھس کر نوجوانوں کو اغوا کرکے انہیں قتل کرنے، خواتین کی بے حرمتی اور احتجاج کرنے والوں پر پیلٹ گن جیسے ظالمانہ ہتھیار آزمانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی لیکن کشمیریوں کا جذبہ حریت ماند پڑنے کے بجائے روز بروز بڑھتا ہی چلا جارہا ہے جس پر غاصب قوتیں بھی کشمیریوں کے اس غیرمتزلزل عزم کے سامنے انگشت بدنداں ہیں۔ غلامی اور جبر کے خلاف نہتے کشمیریوں کی بے مثال قربانیاں دنیا بھر کی امن قوتوں کو انصاف اور آزادی کے لیے اپنی طرف بار بار متوجہ کر رہی ہیں لیکن اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی قوتیں اس ظلم و ستم کو دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ اس مجرمانہ خاموشی کی جانب وزیراعظم عمران خان نے توجہ دلاتے ہوئے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کی امن فوج کی موجودگی کے باوجود سربرینیکا میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور آج بھی اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کا وہی

رویہ ہے اس لیے اس خدشے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ بھارتی فوج کہیں مقبوضہ کشمیر میں سربرینیکا کی تاریخ نہ دہرادے۔ آج سے 25 سال قبل بوسنیا کے مشرقی شہر سربرینیکامیں سرب افواج نے صرف 10 دن میں 8 ہزار بے گناہ مسلمانوں کو شہید کردیا تھا۔ 1992ء سے 1995ء تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں سرب، کروٹ اور مسلمان شامل تھے۔ 11 جولائی 1995ء میں مسلمانوں کا سربوں کے ہاتھوں قتل عام شروع ہوا۔

ملکی معیشت کی ترقی میں تعمیراتی صنعت کے کلیدی کردار سے انکار ممکن نہیں کیونکہ تعمیرات اور ہائوسنگ کے اس شعبے سے درجنوں صنعتیں وابستہ ہیں۔اینٹ، ریت، سیمنٹ، بجری، لوہا، شیشہ، لکڑی، سینٹری، بجلی کا سامان، رنگ و روغن سمیت بہت سی صنعتوں کو تعمیرات سے مہمیز ملتی ہے۔ اس کے علاوہ مزدوروں اور ہنرمندوں کو بھی روزگار کے وسیع مواقع میسر آتے ہیں، یوں ملکی معیشت کی ترقی کے لیے تعمیرات کے سیکٹر کا فروغ ناگزیر ہے۔ اسی تناظر کے پیش نظر گراوٹ کا شکار ملکی معیشت کے تن مردہ میں نئی جان ڈالنے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کے روز ہائوسنگ اور تعمیرات سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں نیا پاکستان ہائوسنگ پروجیکٹ کے لیے 30 ارب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کا مژدہ جانفزا سنایا جس کے مطابق پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر پر فی گھر تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔ قرضے کی صورت میں مارک اپ کی شرح پانچ مرلہ مکان کے لیے پانچ فیصد اور 10 مرلہ مکان کے لیے 7 فیصد ہوگی۔ این او سی اور دیگر سہولیات کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر ون ونڈو آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سستے گھروں کی تعمیر پر ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ گھر کی خریداری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے۔ تمام لوگ 31 دسمبر تک سہولیات سے استفادہ کرسکیںگے۔ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی میں 31 دسمبر تک مہلت ملی ہے یہ سہولت ختم ہوجائے گی۔ کورونا سے پیدا ہونے والے بحرانوں نے ملکی معیشت کو ہر سطح پر جس طرح دھچکا پہنچایا ہے اس کے لیے ناگزیر ہوچکا تا کہ حکومت انقلابی اقدامات اٹھائے۔ اس پس منظر میں وزیراعظم کی جانب سے ہائوسنگ اور تعمیراتی سیکٹر کی ترقی کے لیے مراعات اور سہولیات کا اعلان خوش آئند ہے۔ اس سے جہاں صنعتوںکو ہونے والے نقصان کا ازالہ ہونے کے علاوہ نئی قوت ملے گی وہاں روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوںگے۔ دوسری جانب مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ کورونا وبا کے دوران حفاظتی سازو سامان کی طلب کی وجہ سے ملکی برآمدات کی بحالی کا امکان ہے۔ امریکی جریدے بلومبرگ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انفرادی حفاظتی سامان، ماسک اور دیگر حفاظتی آلات اب ایک نئی مارکیٹ بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی برآمدات کا نصف حصہ ٹیکسٹائل سیکٹر پر مشتمل ہے، اس کے لیے بھی آرڈر موصول ہونے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ چین اور فلپائن کو سیمنٹ بھی سپلائی کیا گیا ہے۔ معیشت کی بحالی کے لیے جو اقدامات کیے جارہے ہیں وہ انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ اس ضمن میں حکومتیں کاوشیں لائق تحسین ہیں۔

تا ہم عسر ت کے ان دنو ں میںایک خو ش کن خبر یہ ہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈائون کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں اور تشویشناک حالت والے مریضوں میں 28 فیصد کمی آئی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کے خلاف یہ کامیابی اسمارٹ لاک ڈائون، ایس او پیز پر عمل درآمد اور عوام کے رویوں میں تبدیلی کی مرہون منت ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی شرح کم ہوکر 2.1 فیصد ہوگئی ہے جبکہ بھارت میں مودی کے سکت ترین لاک ڈائون کے باوجود یہ شرح 2.7 فیصد پر برقرار ہے۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کورونا کی وبا پاکستان سے مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے بلکہ ابھی تک ہم حالات جنگ میں ہیں۔ پانچ ہزار افراد اس وائرس کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ اڑھائی لاکھ متاثرہ مریض ہیں۔ عوام عید قرباں کے موقعے پر احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں، ورنہ دوبارہ موت کا بھیانک کھیل شروع ہوسکتا ہے۔


ای پیپر