سفارتی سطح پرہندوستان کی تنہائی
16 جولائی 2020 (23:05) 2020-07-16

یہ حقیقت ہے کہ مودی سرکار کے غلط اقدامات کے باعث بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج مودی بھارت کا گوربا چوف ثابت ہونے جا رہا ہے۔ کشمیر تو ویسے بھی بھارتی ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ لداخ پر چینی قبضہ ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے اروناچل پردیش پر بھی اپنا حصہ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ سکم پر چینی قبضے کے بعد بھارت کی سات ریاستوں کو آزادی حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دوسری طرف خالصتان تحریک زوروں پر ہے اور اس مرتبہ لگتا ہے کہ سکھ اپنا آزاد ملک خالصتان بنا کر ہی دم لیں گے۔

اگر بھارت کے گردونواح پر نظر ڈالیں تو وہ تمام ممالک جن پر اب تک بھارت دھونس جما کر بیٹھا تھا ، اب کا ردعمل کیسا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بھارتی عوام بھی اپنے انتہا پسند آقاؤں سے پوچھنے لگے ہیں کہ وہ جو آ کے دوست تھے وہ اسوقت کہاں چلے گئے۔ کیا بھارت کی خارجہ پالیسی فیل ہو گئی ہے۔ بھارت نے جن ممالک پر اپنی منڈی کھول کر دروازے کھول دئے ان ممالک نے بھارت کو چین کے مقابلے میں اکیلا کیوں چھوڑ دیا۔ خصوصا اسرائیل کے حوالہ سے بحث جاری ہے کہ وہ اسوقت کیوں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ امریکہ چین کے خلاف بھارت کی حمایت کیوں نہیں کر رہا۔

بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ امریکہ نے چینی سمندروں میں اپنے جہاز بھیجے تو مودی خوش ہوگئے کہ امریکہ ان کی مدد کو آیا ہے مگر امریکہ چین کے ساتھ اپنے اختلافات خود دور کرنے پر ترجیح دے گا بجائے وہ بھارت کی مدد کرے۔ دوسری طرف اب چین نے امریکہ کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں کہ اگر امریکی جہاز سمندر میں آئے تو چینی فضائیہ انہیں سمندر برد کر دے گی۔

مودی تو چین کا نام بھی لینے سے گھبراتے ہیں۔ چند روز قبل لداخ کے دورے پر گئے تو سرحد سے اڑھائی سوکلومیٹر اندر ہی عارضی طور پر بنائے گئے نئے ہسپتال میں ہٹے کٹے زخمیوں کی عیادت کر کے واپس چلے آئے ۔ نام نہاد زخمی فوجیوں سے خطاب میں چین کو صرف زبانی دھمکیاں دیں وہ بھی چین کا نام لئے بغیر۔ اس پر تو بھارتی تجزیہ نگاربھی ان سے سوال کرتے ہیں کہ مودی سرکار چین کا نام لینے سے بھی گھبرا رہی ہے ۔بھارت چپ کر کے اپنے علاقوں سے دستبردار ہوتا جارہا ہے ۔

ایک طرف نیپال نے آپ کو آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں۔ اپنا نیا نقشہ بنالیا جس میں کئی علاقے جن پر آپ نے زبردستی قبضہ کیا ہوا تھا، واپس لے لئے۔ ابھی چار روز پہلے نیپالی وزیر اعظم نے مودی پر الزام عائد کیا کہ بھارت مجھے اقتدار سے علیحدہ کرنے کیلئے سازشیں کر رہا ہے۔ بھوٹان جو بالکل ہی آپ کا بغل بچہ تھا ، جس کی خارجہ پالیسی بھی آپ کے ہاں بن کے جاتی تھی ، اس نے بھی آپ کا پانی بند کر دیا۔ آسام میں سینکڑوں کسانوں نے پانی کی بندش پر مظاہرہ کیا ۔ بنگلہ دیش آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہا ہے۔ حسینہ واجد کی تمام تر بھارت نوازی اس وقت دھری رہ گئی جب انہوں نے چین سے جدید ترین آبدوز یں خریدنے کا معاہدہ کیا۔

بھارت نے ایران میں چاہ بہار بندرگاہ سے سڑک اور ریل کا منصوبہ ایران ، افغانستان سے روسی ریاستوں اور وہاں سے یورپ جانے کیلئے بنایا تھا ۔ اس کا بڑا مقصد پاکستان کو بائی پاس کر کے افغانستان میں داخل ہونا اور یہاں قدم جما کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا تھا مگر ایران نے دو روز قبل ہی بھارت کو چاہ بہار ریل منصوبے سے نکال باہر کیا۔ اب بھارت کا وہاں دوبارہ قدم جمانا نا ممکن ہے کیونکہ چین نے ایران سے 25 سالہ معاہدہ کر لیا ہے۔ اسی طرح سری لنکا میں سابقہ حکومت نے بھارت سے کچھ معاہدے کر رکھے تھے جس میں بڑا معاہدہ سری لنکن بندرگاہ کو جدید بنانا تھا ۔ ظاہر ہے اگر بھارت سری لنکن بندرگاہ بنائے گا تو یہاں اپنا اثر و رسوخ بھی رکھے گا۔ یہاں تک کہ اس کو ممبئی پورٹ کا نام بھی دیا گیا۔ مگر سری لنکا کی نئی حکومت نے بھارت سے کئے ہوئے تمام معاہدوں کو ختم کر نے کا اعلان کیا ہے۔ سری لنکن وزیر اعظم راجا پاکشے چین کے ساتھ تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں۔ بیجنگ پہلے ہی سری لنکا میں بندرگاہوں، پاور اسٹیشنوں اور ہائی ویز کی تعمیر کر چکا ہے جو ایشیا بھر میں اس کے ٹریڈ اینڈ ٹرانسپورٹ منصوبے کا حصہ ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ 50 سال کے بعد بھارت اور چین میں سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، بھارت کے نیپال، بھوٹان اور سری لنکا سے بھی تنازعات ہیں۔بھارت سفارتی محاذ پر تنہا ہوگیاہے اور کوروناوائرس کے تناظر میں دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔لہذابھارت پاکستان کیخلاف کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کرسکتا ہے۔اگر بھارت نے پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔

ان سارے حالات میں سب سے مشکل وقت جو مودی سرکار پر آن پڑا ہے وہ اپوزیشن اور عوام کی جواب طلبی ہے۔ لداخ پر چینی قبضہ اور فوجیوں کی ہلاکت پر وزیر اعظم مودی کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ بھارتی عوام پوچھ رہی ہے کہ لداخ پر چینی قبضہ کیوں کر ہوا؟ جدید ترین اسلحہ سے لیس بھارت کی اتنی بڑی فوج نے چین کا مقابلہ کیوں نہیں کیا۔ بھارتی فوجیوں نے مار بھی کھائی اور علاقہ بھی گنوا دیا۔ اگر بھارتی فوج کی کارکردگی یہی ہے تو پھر اتنے بڑے دفاعی بجٹ کی کیا ضرورت ہے۔ اب کوئی بھارتی عوام کو کیسے بتائے کہ ان کی فوج صرف کشمیر، مشرقی پنجاب ، آسام، گورکھا لینڈ، میزورام ، ناگا لینڈ اور دیگر ریاستوں میں نہتے مسلمانوں، سکھوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف ہی رعب و دبدبہ دکھا سکتی ہے ۔ حقیقی عملی میدان میں بالکل ٹھس ہے۔


ای پیپر