4 محافظین پاکستان
16 جولائی 2020 (15:29) 2020-07-16

پاکستان کہ مملکت خداداد ہے اگرچہ جب سے اس کا قیام عمل میں آیا ہے اور یہ پون صدی کا قصہ ہے چہار اطراف سے خطرات میں گھری ہوئی… اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرنے والا ہے کہ ایک بڑے اور عظیم مقصد کی خاطر قائم کی گئی تھی… اس مقصد کی اس کے عوام کی تمام تر خواہشات کے برعکس تکمیل نہ ہو سکی… اس کے ذمہ دار ہمارے وہ حاکم ہیں جنہوں نے اسے اصل منزل سے دور کے راستے پر ڈال دیا… اسی لئے 23 سالہ قیام کے بعد دولخت ہو گئی… بانی مملکت قائداعظم محمد علی جناحؒ اور ان کے بااعتماد ساتھیوں کے پیش نظر اسلامی قومی اور جمہوری ریاست کا قیام تھا مگر جنہوں نے قائد اور لیاقت علی وغیرہ جیسے لیڈروں کی وفات کے بعد اس کی باگیں اپنے ہاتھوں میں لے لیں… امور مملکت پر بزور طاقت قبضہ جما لیا وہ اسے قومی سلامتی کی ریاست (NATIONAL SECURITY STATE) بنانے پر تل گئے یوں اپنا ادارہ جاتی راج مسلط کر دیا… یہی ہماری حرماں نصیبی ہے… اسی سبب کی بنا پر قائداعظمؒ اور ان کے ساتھیوں اور برصغیر کے وہ مسلمان جنہوں نے 1946ء میں ان کے حق میں ووٹ ڈالا تھا کے خوابوں کی تکمیل نہ ہو سکی… مملکت پاک اور اس کے عوام جب بھی حقیقی ترقی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں جس کے اندر بہت زیادہ اور روشن امکانات پائے جاتے ہیں تو زیرسطح آب آمریت اور جمہوریت کی آویزش بڑی رکاوٹ بن کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے… سارا عمل ٹھوکریں کھانی شروع کر دیتا ہے… یہ ایسا چکر ہے جس میں ہماری قوم و ملک گزشتہ ساٹھ دہائیوں سے مبتلا چلا آ رہے ہیں… باوجود ہزار کوشش کے نکل نہیں پاتے… تاہم ہم جو بھی ہیں جیسے بھی ہیں… مہیب خطرات جو ہمیں ہر وقت درپیش رہتے ہیں ان میں ہماری حفاظت کرنے والی بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات برکات ہے… پاکستان کے عوام ہیں جنہیں اپنی سلامتی ہر حال میں بہت عزیز ہے… ہماری سرحدوں کی ہرآن حفاظت پر مامور فوج ہے… مزیدبرآں چار طاقتور بیرونی عناصر بھی ہیں جنہیں ہمارا وجود اور اس کا قائم و دائم رہنا بڑا عزیز ہے کیونکہ یہ امر ان کے اپنے قومی مفادات سے بہت زیادہ جڑا ہوا ہے… اسی لئے ہمارے گردوپیش اور خطہ ارض کے چاروں طاقتور عناصر جب بھی پاکستان کو خطرات میں گھرا ہوا دیکھتے ہیں… اس کی کشتی ہچکولے کھانا شروع کردیتی ہے… اس کے لئے گہرے پانیوں سے نکلنا مشکل تر ثابت ہو جاتا ہے تو یہ اپنے اپنے طور پر حرکت میں آ جاتے ہیں اور مملکت پاکستان کو اس کے حاکم جیسے بھی ہوں ہمارے ملک اور اس کے وجود کی حفاظت ان کی ترجیح بن جاتی ہے… اگرچہ حالات کو دیکھتے ہوئے کڑی شرائط بھی عائد کر دیتے ہیں… ان پر عمل کرنے کے لئے پورا دبائو بھی ڈالتے ہیں… اس سب کے باوجود ہماری سلامتی کے کم از کم تقاضوں کو پورا کرنے کی ہرممکن سعی کرتے ہیں… ہمیں اپنا محتاج بھی بنا کر رکھتے ہیں… ہر وقت باور کرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ مفت کا لنچ کہیں سے نہیں ملتا… قیمت بہرصورت ادا کرنی ہوگی…

ان میں پہلا اور سرفہرست ملک ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے… وقت کی واحد سپرطاقت ہے… اس کے اندر کوئی بھی صدر انتخابی معرکہ جیت کر برسراقتدار آئے… اس کاتعلق امریکی اسٹیبلشمنٹ کی محافظ اور گوری نسل کی اصل نمائندہ ری پبلکن پارٹی سے ہو یا نچلے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی گوروں اور رنگدار لوگوں کی نمائندہ ڈیموکریٹک پارٹی سے… وہ اپنے دفتر خارجہ اور امور سلامتی کے محکمے کی خفیہ فائلوں کا جائزہ لے کر جلد اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے جنوبی ایشیا اور گردوپیش کے خطے میں پاکستان اس کا حقیقی اتحادی ہے… اس کی فوج نے اس کے سٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کی خاطر بامعنی کردار ادا کیا ہے… اس کے ساتھ تعلقات استوار کرنا یا قائم دائم رکھنا ازبس ضروری ہے… امریکی مفادات اس کا تقاضا کرتے ہیں اور اس کے وجود کے قائم و دائم رہنے میں ہمارے مفادات کو تقویت ملتی ہے… لہٰذا حالات کے تحت دبائو بھی سخت ڈالو کیونکہ کمزور ملک ہے… اپنی شرائط بھی خوب منوائو کیونکہ اس کے اصل حاکموں کو ہماری حفاظتی چھتری کی ہر آن ضرورت لاحق رہتی ہے… لیکن اس کی بیرونی سلامتی کو یقینی بنانے کی ہرآن کوشش بھی کرتے رہو… اس کے اصل حاکموں کے مسلسل اور خفیہ تعاون کے حصول میں پس و پیش سے کام نہ لو… اس کے عوض انہیں اپنی شرائط کے تحت جدید اسلحہ اور ڈالروں کی امداد فراہم کرتے رہو… تاکہ اپنا دفاع خود کرنے کا بھرم قائم رکھ سکیں اور ہمارے کام بھی آتے رہیں… ہمیں اپنی جنگیں لڑنے کے لئے ان کی فوج کی ضرورت پیش آئے تو پیچھے نہ رہیں… اس کے عوض اسے مارشل لا لگانے کی کھلی چھٹی ملتی رہی حالات اگر کبھی اس کی اجازت نہ دیں تو جمہوریت کی بیخ کنی میں ہاتھ بٹاتے رہو… چنانچہ ستر سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس خفیہ اور ظاہری مفاہمت کے نتیجے میں ارض پاک پر خفیہ فوجی یا ہوائی اڈے قائم کئے گئے… سیٹو اور سنٹو جیسے دفاعی معاہدے بھی ہوئے… افغانستان کی جنگ بھی جو اب تک جاری ہے لڑی گئی ڈکٹیٹروں کو کھیل کھیلنے کا خوب خوب موقع ملا… امریکہ نے بھی اس سارے کھیل تماشے میں پاکستان کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں اپنا تعاون جاری رکھا… مشرقی پاکستان والے حصے کی البتہ اسے ضرورت نہ تھی… اسی لئے جنرل یحییٰ خان بھارت کا مقابلہ کرنے کے لئے حالت اطمینان میں جام پر جام لنڈھاتا رہا کہ امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ خلیج بنگال میں داخل ہوا چاہتا ہے لہٰذا فکرمند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں… وہ مگر نہ آیا… امریکہ کا مفاد محض مغربی پاکستان سے وابستہ رہ گیا تھا چنانچہ 16 دسمبر 1971ء کو ہمارے جنرل نیازی کے ہتھیار ڈال دینے کے شرمناک واقعے کے بعد اندراگاندھی نے مغربی پاکستان پر بھی حملہ آور ہونے کی ٹھان لی… تو امریکی صدر نکسن کی جانب سے واضح الفاظ میں پیغام نئی دہلی کے حکمرانوں تک پہنچایا گیا اپنے ہاتھ روک لو… مغربی پاکستان کی سلامتی کو گزند نہ پہنچنے پائے… تب سے اب

تک امریکہ اور مختلف پاکستانی حکومتوں کے مابین باہمی سلامتی کا جو عمل ہے اور افغان جنگ اس کا سب سے بڑا اور طویل باب ہے آج بھی جاری ہے… صدر ٹرمپ کے لئے اگلا انتخاب جیتنے کی خاطر ملک افغاناں سے اپنی افواج کا باعزت انخلا موصوف کے اولین سیاسی اہداف میں سے ہے… اسی لئے پاکستان اور خاص طور پر اس کی فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں… ہماری جانب سے بھی مثبت جواب یا ردعمل مل رہا ہے… مستقبل قریب میں بھی امریکہ کے لئے پاکستان کی اس کے جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر ضرورت میں کمی واقع نہ ہو گی لہٰذا وہ پاکستان کی بیرونی سلامتی کی حفاظت میں تمام تر دبائو ڈالنے اور ہرآن کڑی شرائط منوانے کے باوجود پیچھے نہیں رہے گا…

پاکستان کاخطہ ارض پر دوسرا بڑا محافظ سعودی عرب ہے… یہ ملک ہمارے لئے ارض مقدس کا درجہ رکھتا ہے… حرمین الشریفین کا مرکز ہے… اللہ تعالیٰ کا گھر مکہ معظمہ یعنی ہمارا قبلہ و مرجع جو دنیا کے بتکدوں میں پہلا گھر خدا کا ہے اسی سرزمین پر واقع ہے… چند سو میل کے فاصلے پر ہمارا دوسرا مقدس ترین مقام مسجد نبوی اور روضہ رسول کا مسکن شہر مدینہ منورہ ہے دیگر مسلمانوں کی مانند ہر پاکستانی کے سینے کے اندر یہ خواہش اور دل و دماغ میں اس کی تمنا لے کر جوان اور بوڑھا ہوتا ہے زندگی میں ایک دن ایسا ضرور آئے گا وہ حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے اور روضہ رسول کی زیارت کی خاطر وہاں حاضری دے گا… اکثر صاحب استطااعت حضرات کی یہ تمنا پوری بھی ہو جاتی ہے… تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کی وجہ سے اس ملک میں روزگار کے بے شمار مواقع پائے جاتے ہیں… ہزاروں پاکستانی اس مقصد کی خاطر بھی وہاں آباد ہیں اور مختلف خدمات سرانجام دے رہے ہیں… اس کے سبب ان کے کنبوں میں خوشحالی در آئی ہے اور ملکی خزانے کے اندر زرمبادلہ کا اضافہ ہوتا رہتا ہے… یہاں پر بادشاہت چلی آ رہی ہے… ان کے وسیع و عریض محل ہیں… بے شمار آرامگاہیں ہیں… دیگر ریاستی مقامات ایسے ہیں جن کی ہمہ وقت حفاظت کی ہر وقت ضرورت لاحق رہتی ہے… پاکستان کے فوجی دستے ان مقامات کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر وہاں بھجوائے جاتے ہیں… جو چوبیس گھنٹے نہایت درجہ پیشہ وارانہ مہارت اور مستعدی کے ساتھ ان خدمات کی انجام دہی میں مصروف رہتے ہیں… وہ معاوضہ میں بھاری تنخواہیں وصول کرتے ہیں… سعودی شاہی حکمران بھی ہماری قیادتوں فوجی ہوں یا سول کے ساتھ گہرے تعلقات استوار رکھتے ہیں… پاکستان کو مشکل پیش آئے تو ہرآن موجود ہوتے ہیں… 1998ء میں وزیراعظم نوازشریف نے بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکہ کیا… امریکہ سمیت اکثر ممالک ہمارے بائیکاٹ پر اتر آئے… مگر سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ فوراً آ موجودہوا ہماری ڈھارس بندھوائی… لمبے ادھار پر تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا… پاکستان کی سلامتی کی حفاظت میں گہرا کردار ادا کیا… آج بھی جبکہ پاکستان بیرونی قرضوں میں لتا پڑا اور عالمی محتاجی میں جکڑا ہوا ہے سعودی حکمران ہماری دیکھ بھال میں پیچھے نہیں رہے پہلے کی سی گرم جوشی اگرچہ باقی نہیں رہی… تاہم یہ امر واقع ہے سعودی حکمرانوں کو اپنے محلات کی حفاظت کے لئے ہمارے فوجی دستوں کی ہر لمحہ ضرورت رہتی ہے… انہوں نے ہمارے ایک سابقہ آرمی چیف کو اپنی اتحادی افواج کا سپہ سالار بنا رکھا ہے… اس کے عوض وہ بھی پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ہمہ وقت فکرمند رہتے ہیں اور اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں… امریکہ کے ساتھ چونکہ ان کی بھی گہری دوستی ہے لہٰذا پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت میں دونوں کا مشترکہ مفاد پایا جاتا ہے…

پاکستان کا تیسرا بڑا محافظ ملک ہمارا عظیم ہمسایہ ملک عوامی جمہوریہ چین ہے… جس کے ہم اسرائیل ہیں… چین کو بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی سلامتی اس قدر عزیز ہے کہ 1965ء کی جنگ میں ہمارے حق میں اس کے عظیم کردار کی یادیں مشام جان کو معطر کرتی رہتی ہیں… پائیدار باہمی تعلقات کی لمبی کہانی ہے جو 1965ء سے شروع ہو کر آج تک ہمارے سٹرٹیجک منصوبوں کی رگ جان کر انہیں توانائی اور گہرے اعتماد کی طاقت بخشتی رہتی ہے… تنازع کشمیر پر چین ترکی کے علاوہ دنیا کا واحد طاقتور اور سلامتی کونسل میں ویٹو طاقت کا مالک ملک ہے جس نے اس مسئلے پر ہماری اور کشمیری عوام کے انتہائی جاندار اور اصولی مؤقف کی بھرپور حمایت کی ہے اور اس تنازع کو زندہ رکھنے میں ہماری ڈپلومیٹک اور سٹرٹیجک مدد کی ہے… حال میں جب اس تنازع پر ہماری کہیں شنوائی نہیں ہو رہی تھی یہ چین ہے جس نے سلامتی کونسل کے بند کمرے میں اجلاسوں اور کھلے عام یعنی ہر پلیٹ فارم پر ہماری آواز کے ساتھ آواز ملائی ہے… گزشتہ چند برسوں کے دوران چین کے موجودہ اور تاحدنگاہ وژنری صلاحیتیں رکھنے والے صدر جناب چن ژی نے اپنے مشہور عالم سٹرٹیجک و تجارتی منصوبے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے خدوخال تیار کئے تو اس کے سی پیک والے حصے میں جس کے اندر پاکستان کو نمایاں مقام حاصل ہے ہمارا تعاون حاصل کرنے اور ہمیں حصہ دار بنانے کی خاطر غیرمعمولی اقدامات کئے… سرمایہ کاری کے منصوبے پیش کئے… قرض کی رقوم فراہم کیں… ایشیا کے اس سب سے بڑے تعمیراتی منصوبے کی تعمیر کے فوری آغاز کے لئے اپنے ملک کے ہرممکن تعاون کی پیشکش کی… اس مقصد کی خاطر 2014ء میں خود اسلام آباد آنا اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا پسندکیا… لیکن عمران خان کادھرنا آڑے آ گیا… جناب چن ژی اتر نہ سکے ان کا جہاز واپس چلا گیا… 2015ء میں دوبارہ تشریف لائے سی پیک کی تعمیر کا بڑے زورشور کے ساتھ آغاز کیا… امریکہ اور بھارت کو یہ پیش رفت پسند نہ آئی… 2017ء میں نوازشریف کی جمہوری حکومت الٹا کر رکھ دی گئی… سی پیک منصوبے کو بھی صدمہ پہنچا… اس کی رفتار کار میں سستی آ گئی… پھر فوج نے دیرینہ خواہش کے تحت اس کا انتظام و اہتمام اپنے ہاتھوں میں لے لیا… اب یہ گاہے ہلکی گاہے تیزرفتار کے ساتھ آگے کی جانب بڑھ رہا ہے… چین نے پاکستان کے اندر ہونے والی تبدیلی کو ناپسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھنے کے باوجود وزیراعظم عمران خان کے مطالبے اور آرمی چیف کی اشیرباد کے ساتھ ہمیں ضروری قرض فراہم کرنے میں تاخیر نہیں کی… آج بھی اسے پاکستان کی سلامتی صدق دل کے ساتھ عزیز ہے شائد یہ تعلقات ہمیشہ تک کے لئے قائم رہے…

آپ کو یہ پڑھ کر شائد یقین نہ آئے لیکن امر واقع ہے پاکستان کا چوتھا بیرونی محافظ بھارت ہے… جو ہمارا اذلی اور کمیشہ دشمن بھی ہے… ہر دم ہمارے خلاف فوجی اور اندرون ملک انتشار پھیلانے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے… مشرقی پاکستان کے اندر علیحدگی کے لئے سازشوں کاجال پھیلانے کا اعتراف خود اس کے حکمران وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں… پاکستان کو اقتصادی اور معاشی لحاظ سے دوسروں کا محتاج رکھنا بھی اس کی ترجیحات میں سرفہرست ہے کشمیریوں پر ظلم کے جو پہاڑ یہ ملک ڈھا رہا ہے وہ اپنی جگہ بربریت کی ایک داستان ہے… اس کے باوجود اس کے فاسق حکمرانوں کو وہ کانگریسی ہوں یا بی جے پی والے پاکستان کے وجود کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے… انہوں نے انتخاب جیتنے کی خاطر پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجاتے رہنا ہوتا ہے… اندراگاندھی نے پاکستانی خطرات کا ہوّا کھڑا کر کے دو مرتبہ چنائو جیتے… بی جے پی برسراقتدار آئی تو اس کی پاکستان دشمن لابی ہر وقت متحرک نظر آئی… انتخابات جب بھی سر پر آن کھڑے ہوئے واجپائی ہوں یا موجودہ اور متعصب ترین وزیراعظم نریندر مودی انہوں نے پاکستان کے خلاف ہندوئوں کے جذبات کو بھڑکایا… دھمکی پر دھمکی دی… سٹرٹیجک سٹرائیک کا کھڑاک کھڑا کیا… بھارتی مسلمانوں کے خلاف خونی جذبات کو انگیخت دی… اس کے ساتھ پورے بھارت کے اندر پاکستان مخالف نعرے گونج اٹھے اور بھاری اکثریت کے ساتھ انتخاب جیت لیا… دشمن پاکستان کا وجود ان کے بہت کام آیا… بھارتی اکھنڈ بھارت کے بہت قائل ہیں…اس کا پرچار بھی کرتے رہتے ہیں مگر ان کے نہاں خانہ دماغ میں یہ بات سمائی ہوئی ہے… ایک کمزور پاکستان کا وجود ان کے مفاد میں ہے… جس کے ساتھ اپنی سیاست کاکھیل کھیلتے رہیں…اس پورے تناظر کو سامنے رکھئے اور غور کیجئے پورے خطے کے اندر ہم کس قدر اہمیت رکھنے والا ملک ہیں… اگر یہاں جمہوریت کی بیخ کنی نہ کی جاتی اور اپنی قومی خودمختاری (SOVEREIGNTY)کی طنابیں اپنے ہاتھوں میں رکھی ہوتیں تو ہم کس ارفع مقام پر کھڑے ہوتے…


ای پیپر