کورونا کیسوں میں کمی: سیاست میں بے یقینی!
16 جولائی 2020 (15:26) 2020-07-16

رب کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ کورونا کی وبا نے کچھ دم توڑنا شروع کیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے کورونا کیسز میں کمی کی خبریں موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں... اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پورے عالم کو اس وبا سے چھٹکارا عطا کرے۔ کورونا کی وبا کے بعد زندگی میں آنے والی تبدیلی اور ٹھہراؤ کب دوبارہ اپنی جگہ سنبھالے گا یہ تو معلوم نہیں مگر احتیاطی تدابیر کا سکہ ہاتھ سے چھوٹا تو یہ وبا بھی پاکستانی سیاست کی طرح کسی مرتے ہوئے سانپ کا آخری ڈنگ ثابت ہو گی جو جاتے جاتے بھی کافی نقصان کر سکتی ہے۔ اس لیے عید الاضحٰی اور محرم الحرام کے اجتماعات میں سخت احتیاط کرنا ہو گی۔ پاکستان خصوصاً پی ٹی آئی کی سیاست بھی اس وقت وبا اور دم توڑتے ہوئے سانپ کی صورتحال اختیار کر چکی ہے۔100 دن،1 سال اور پھر 2 سال بعد تبدیلی نظر آنے کے دعوے دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ کنٹینر پر موجود عمران خان اور آج کے وزیراعظم عمران خان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔عمران خان اقتدار کی مسند پر بیٹھ کر ملکی مسائل وزارت عظمیٰ کی مجبوریاں، مصلحت کی سیاست اور بہت سے دوسرے داؤ پیچ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔مہنگائی اور انتظامی معاملات قابو سے باہر یا یوں کہہ لیں کے قابو سے باہر دکھائے جا رہے ہیں۔ عمران خان سمجھ چکے ہیں کہ اقتدار میں آنا پھر حکومتی مدت پوری کرنا صرف عوام کے ووٹ کی بنیاد پر ممکن نہیں ہے۔ کسی سرکاری عہدے کے منشی کی طرح (جو یس اور نو کی گیم میں فائل کو گھمانا جانتا ہے ) وزارت عظمیٰ بھی مکمل طور پر وزیراعظم کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ کبھی منشی، کبھی ایڈوائزر اور کبھی سیکرٹری کی صورت میں وزارت

عظمیٰ اور ملک کو نقصانات پہنچانے والے عناصر کی کہانیاں تو روز اول سے ہی چلی آر ہی ہیں مگر موجودہ صورتحال کچھ گھمبیر اس لیے بھی ہے کہ اس مرتبہ کا منشی نہ حاضر سروس افسر سے مطمئن ہے اور نہ ہی اسکے معیار پر کوئی متبادل ٹھہر رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی لگتا ہے یہ اگست بھی گزارنے کا پلان بنا چکی کے. مائنس نواز شریف، مائنس زرداری اور مائنس عمران خان کے بعد کہ تینوں جماعتیں تو کھیل سے باہر ہونے کی دعویدار ہیں مگر ان ہاؤس تبدیلیاں ضرور زیر غور ہیں۔ وفاق کے بعد پنجاب میں بھی ان ہاؤس تبدیلی کا شور و غل موجود ہے مگر غلطی کی گنجائش کے ساتھ ناقص العلم راقم کا تجزیہ یہ کہتا کے کہ پنجاب میں اب بھی عثمان بزدار ہی بہترین آپشن ہیں اگر تبدیلی ہوئی تو کابینہ اور منشی جی کی ہو گی۔ علیم خان، میاں اسلم اقبال اور محسن لغاری منجھے ہوئے سیاست دان ضرور ہیں مگر یہاں شرائط و ضوابط میں تو سیاسی بصیرت کا خانہ ہے ہی نہیں۔ ان ہاؤس تبدیلیاں تو پی ٹی آئی میں بھی نظر آنا شروع ہو گئی ہیں۔پنجاب سے عظمیٰ کاردار، ایم این اے احمد حسن ڈیہر اور اجمل وزیر سمیت پی ٹی آئی یو کے کے ممبر ظفر اقبال ملک کو بھی نوٹس جاری کرکے باغی عناصر کو پیغام دیا جا رہا ہے ۔مگر یہ باغی عناصر اس پیغام کا مثبت اثر لے کر پارٹی مفاد میں کام کرتے ہیں یا منفی اثر لے کر کھل کر پارٹی کے سامنے آ جاتے ہیں اس کا فیصلہ آئندہ پیدا ہونے والے حالات کریں گے..بزدار حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے ایڈیشنل آئی جی اور ایڈیشنل سیکرٹری کی تعیناتی کر کے جنوبی پنجاب سے ایک بڑے ناراض گروپ کے منہ بند کر دئیے ہیں اور ناراض گروپ کے اراکین کے خلاف نیب کیسز بھی کھلنا شروع ہو گئے ہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں کی بات کریں تو ن لیگ میں مائنس نواز شریف کے بعد کوئی نام قابل قبول نہیں ہے ۔ شہباز شریف پر بہت سے رہنما متفق ہیں مگر انکی صحت اور نیب کیسز کی تلوار انھیں مزاحمتی سیاست کی اجازت نہیںدیتی ۔حمزہ شہباز میاں نواز شریف کو قبول نہیںاور مریم نواز شہباز شریف سمیت متعدد رہنماؤں کو قبول نہیں ۔پیپلز پارٹی میں بھی صورتحال مختلف نہیںہے مائنس زرداری کا مطلب ہے پارٹی کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے گی ۔ پی ٹی آئی میں بھی اب تک یہی بازگشت ہے کہ مائنس عمران خان پی ٹی آئی قبول نہیں ۔ پی ٹی آئی تو حکومت میںہوتے ہوئے اور عمران خان کے ہوتے ہوئے بھی کئی دھڑوں کا شکار ہے ۔ جہانگیر ترین کے ملک سے باہر جانے کے باعث مخالف دھڑ ے کو چالیں چلنے کا موقع مل گیا ہے لیکن کابینہ میں موجود ترین لابی بھرپور جواب دے رہی ہے ۔پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کی جو بات ہو رہی ہے وہ بھی جہانگیر ترین کی غیر حاضری کی وجہ سے ہی ہے ۔ گزشتہ برس بھی جب بزدار مائنس فارمولے کی ہوا چلی تھی تو جہانگیر خان ترین نہ صرف پنجاب میں سرگرم نظر آئے تھے بلکہ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا آپ نے بزدار کو بچا لیا تو انھوں نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ خاموش رہتے ہوئے بہت کچھ کہہ دیا تھا۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی موجودگی میں جہانگیر ترین نے پنجاب میں خاصا اثر و رسوخ قائم رکھا ۔ تبادلے ، محکمہ زراعت کے اجلاس ہوں یا کوئی اور اہم فیصلے جہانگیر ترین لابی کی بات ہی مانی جاتی رہی ہے ۔اب جب ہوا انکے مخالف ہوئی ہے تو دوسرا گروپ اقتدار کا مزہ لوٹنے کے لئے بے تاب ہے ۔ملتان کا مخدوم گروپ پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کے لئے زور آزما ہے مگر ترین لابی پورا جواب دیتے ہوئے کچھ ایم این ایز کے ذریعے شاہ محمود قریشی پر ملتان میں کرپشن کے الزامات لگا چکی ہے ۔ قومی اسمبلی کے رکن احمد حسن ڈیہر کو اسی سلسلے میں شو کاز نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے ۔حکومت اور سیاسی جماعتوں کے اندر یہ کھینچا تانی ایک طرف مگرطاقت کا اصل مرکز یعنی منشی جی کی تبدیلی پر کوئی غور ہی نہیں کر رہا۔۔ حلانکہ وقت اور حالات جلد ہی ثابت کر دیں گے کہ افسر نہیں منشی تبدیل کر کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔


ای پیپر