آن لائن تدریس، مشکلات اور حل
16 جولائی 2020 (15:26) 2020-07-16

ریاستوں کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ شرح ِ خواندگی کو بہتر بنانے کے لئے دنیا میں بہت کام کیا جا رہا ہے۔عالمی سطح پر بر سر پیکار این جی اوز بچوں کی تعلیم کو اولین ضرورت قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے بیش بہا نکات کا پرچار کرتی ہیں۔ اقوام ِ متحدہ کے سترہ "Sustainable Development Goals" میں معیاری تعلیم چوتھے نکتے پر کندہ ہے۔ان کے بقول تعلیم سماجی و اقتصادی صورتِ حال کو بلندی کی جانب گامزن کرتی ہے اور غربت سے نجات کا ذریعہ ہے۔حصولِ تعلیم کے لئے تمام ممالک اپنی استعداد کے لحاظ سے اقدامات کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس ناک معاملہ اب وجود میں آچکا ہے،اقوام ِ متحدہ کے مطابق کورونائی عہد نے 1.6 بلین بچوں کو سکول سے باہر کر دیا ہے۔جہاں عالمی وبا نے دنیا میں مختلف شعبہ جات کی اشکال بدل دیں، وہیں شعبہ ِ تعلیم کو نیا ڈھنگ بخشا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک پہلے سے ہی اس نسخہ پر عمل پیرا تھے لیکن ترقی پذیر اقوام کو بھی اس ترکیب سے روشناس ہونا پڑا ۔ یہ نسخہ، یہ ترکیب برقی تدریسی نظام ہے۔ جسے آسان الفاظ میں آن لائن ایجوکیشن سسٹم کہتے ہیں۔

مارچ 2020ء میں کورونا کی شدت کو بھانپتے ہوئے پاکستان کے تمام سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں کو بند کرنے کے احکامات دیے گئے۔ اور تدریسی عمل کو آن لائن کرنے کا کہا گیا۔یعنی تعلیمی سرگرمیاں انٹرنیٹ کے ذریعے ممکن ہوں گی۔ سکولوں کی بات کی جائے تو بڑے سکولوں نے خوش اسلوبی سے اس انداز کو اپنایا۔ چوں کہ وہاں کے بچے تکنیکی اعتبار سے باشعور سمجھے جاتے ہیں تو اس بنا پر یہ سلسلہ بہتر رہا۔ بقیہ سرکاری سکولوں کے حالات کسی کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہیں۔ قارئین کو گھِسے پٹے جملے اذہان میں نقش ہیں۔کالجوں کا ذکر کریں تو سرکاری سطح پر ایک کام تو بروقت اور درست ہوا ،وہ ہے دعویٰ۔البتہ نجی کالجوں نے اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کی ہے۔

تعلیمی کرئیر میںطالب ِ علم کو یونیورسٹی ہی عملی زندگی کی جانب راغب کرتی ہے۔ آن لائن نظام سے سالانہ بنیادوں پر ہونے والے امتحانات"Annual System"کے لئے اتنی مشکل نہ آئی ہو جتنی سمیسٹر سسٹم میں پڑھنے والوں کے لئے دشواری آئی ہے۔ یونیورسٹیوں میں زیادہ تر سمیسٹر سسٹم کے تحت ڈگریاں ہوتی ہیں تو اس اعتبار سے زیادہ پیچیدگی ہوئی۔ آن لائن تعلیم کے مسائل پر مختلف طبقات سے بحث کا آغاز ہوا۔ اگر بہت ہی بنیادی مسئلے کی بات کریں تو انٹرنیٹ کی دسترس، اس کے استعمال کا طریقہ ہی ابتدائی سطور

میں شامل ہوتا ہے۔ اس ضمن میں چودہ طلبہ تنظیموں کے اشتراک سے وجود میں آنے والی طلبہ ایکشن کمیٹی نے مسائل بڑے پیمانے پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے آپسی نظریات کو بالائے طاق رکھ کر طلبہ کی فلاح و بہبود کے لئے اتحاد قائم کیا ۔مسائل کی تفصیل جاننے کے لئے طلبہ ایکشن کمیٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن سبط ِ حسن سے رابطہ ہوا تو مسائل کا مفصل خلاصہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بات تو یہ ہے آن لائن ایجوکیشن سسٹم کے لئے اساتذہ کی تربیت ہی نہیں کی گئی، پھر طلبہ اس نظام کے عادی نہیں ہیں۔ پاکستان کے بہت سے ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں انٹرنیٹ تک رسائی ہی ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ہاں طبقاتی نظام بھی حصول ِ تعلیم میں آڑے آتا ہے۔ اور تو اور سرکاری اور نجی اداروںمیں زیر ِ تعلیم بچوں کی تکنیکی طور پر شعوری وسعت میں بہت فرق ہے۔ سبط ِ حسن نے لرننگ مینجمنٹ سسٹم کا حوالہ بھی دیا، کہا کہ اس سسٹم سے ہماری وابستگی نہیں رہی۔ ہم یک دم اس کے ذریعے کام نہیں کر سکتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا کا حملہ بغیر اطلا ع ہوا ہے۔ لیکن اس حوالے سے تدابیر بنائی جا سکتی تھیں۔رکن کمیٹی نے تجاویز دیں کہ اگر ہم اب بھی اساتذہ کی تربیت کو فوقیت دیں ۔ سِیشنل مارکس کو پورے پیپر کی حیثیت دے کر اس طرح سے مرتب کریں کہ بچوں سے اسائنمنٹ(مشق) ، ریسرچ پیپر یا آن لائن نظام کے مطابق تدابیراپنائیں تو ان حالات کا وقتی مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ گفتگو کے بعد تشنگی سی پیدا ہوگئی کہ کس طرح دور دراز مقیم طلبہ علم کی پیاس بجھا سکتے ہیں، کون سے عوامل ان پیچیدگیوں کو حل کر سکتے ہیں؟اِ س ضمن میں جامعہ پنجاب شعبہ ِ علوم ِ ابلاغیات کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نوشینہ سلیم بہترین رہنمائی کا ذریعہ بنیں۔بطور سربراہ آپ سوالات سے قبل ہی ساری پریشانی سے آشنا تھیں۔ ڈاکٹر نوشینہ نے مثال دی کہ سمیسٹر سسٹم کی ابتداء میں اس انداز ِ تدریس پر بھی بہت تنقید ہوئی تھی، بعد ازاں اس کومستقل طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ آن لائن کلاسز کا معاملہ دیکھا جائے تو پاکستان میں برقی تکنیکی وسائل کی کمی ہے، دنیا میں جس طرح انٹرنیٹ کے حوالے سے کام کیا جارہا ہے، یہاں وہ صورتِ حال نہیں ہے۔ اِن مسائل کے باوجود ہم نے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا ہے۔ نجی ادارے بچوں سے بھاری فیس وصول کر لیتے ہیں،اُنھیں صَرف ِ کثیر کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔

ڈاکٹر نوشینہ نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں (اب پاکستان بھی )تمام عملی(انجینئرنگ، میڈیکل) مضامین آن لائن پڑھائے جانے لگے ہیں۔ علوم ِ ابلاغیات کو کچھ حد تک تھیوری کے اعتبار سے پڑھا سکتے ہیں لیکن عملی مضامین میں اس کی گنجائش نہیں ہوتی ، اب حالات یہ تقاضا کر رہے ہیں کیوں کہ اس وبا کے خاتمے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔نفسیاتی اعتبار سے آپ نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ آن لائن کلاسز کی مصروفیت سے بچے نفسیاتی ٹراما کا شکار نہیں ہوتے۔ بطور استاد، آپ کی ایک دلیل نے زمانہ طالب ِعلمی کا مزاحیہ عنصر اجاگر کیا، وہ یہ کہ بہت سے ایسے طالب ِ علم کلاس میں موجود ہوتے ہیں جو صرف جسمانی طور پر کلاس میں وجود رکھتے ہیں، ذہنی طور پر کسی اور دنیا میں چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔ ان کے لئے آن لائن کلاس جوئے شیر لانے کے مترادف ہی ہے۔ ہاں کچھ طلبہ (کمیونیکشن کی زبان میں )لیٹ ایڈوپٹرز ہوتے ہیں، ان میں کسی بھی چیز کو جلد سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، ان کے لئے اس نظام کو سمجھنا اہم ہے۔

امتحانات کے حوالے سے آپ نے فرمایا کہ اسائنمنٹ کی صورت میں امتحانات لئے جا سکتے ہیں۔ عین موقع پر موضوع دیں، جس پر دورانیہ دے کروقت ختم ہونے پر اسائنمنٹ جمع کروا سکتے ہیں۔ریسرچ پیپر بھی لکھوایا جا سکتا ہے۔ آپ نے انٹرنیٹ کی رسائی سمیت مجموعی آن لائن مسائل بارے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ تمام جامعات کو بہترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے۔بنیادی آگاہی فراہم کی جائے۔ جس طرح دنیا میں گوگل کی صورت میں اعلیٰ سرچ انجن بنایا گیا ہے، ہماری وزارت ِ سائنس و ٹیکنالوجی ایسی ایجادات کی جانب دھیان دے یا ایسے ذہین نوجوانوں کو موقع دے جس سے باہر جانے والا سرمایہ اپنے گھر آئے اور ہم اپنے سرچ انجن سے آراستہ ہو سکیں۔ آنے والا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی جہات کی نوید دے رہا ہے۔ اِس ضمن میں ہائر ایجوکیشن کو ورچوئل ایجوکیشن کے حوالے سے تدابیر بنانا ہوں گی۔ ورنہ مستقبل قریب میں پاکستان کے بچے دوسرے ممالک سے آن لائن ہی ڈگری حاصل کریں گے۔

انٹرنیٹ کے حوالے سے آپ کا مشورہ قابل ِ غور تھا، وہ یہ کہ لیپ ٹاپ بانٹنے یا نوجوانوں میں قرض تقسیم کرنے کی بجائے جامعات کو وسائل کے اعتبار سے توانا کیا جائے اور خاص طور پر پاکستان کے تمام اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت ہر صورت ممکن بنائی جائے۔وگرنہ ہم اساسی جھمیلوں سے باہر نہیںنکلیں گے اور دنیا چاند کا چکر لگا کر واپس بھی آ جائے گی۔

مندرجہ بالا گفتگو سے ایک بات واضع ہوئی کہ ہمارے پاس قابل اشخاص کی کمی نہیں ہے،تدابیر بھی بہت سی ہیں، لیکن ہم وقتی فیصلوں پر ہی انحصار کرتے ہیں۔اگر حکومت آن لائن تدریسی عمل پرطویل مدتی سوچ بچار کرے تو ناصرف طلبہ کے لئے حصول ِ علم ممکن ہو سکے گا، بلکہ اساتذہ بھی تکنیکی مشکلات کے بھنور میں نہیں پھنسیں گے۔


ای پیپر