اوور سیز پاکستانیز: پاکستان کے غیر مشروط وفادار
16 جولائی 2020 (15:25) 2020-07-16

اردو کا ایک محاورہ ’شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونا‘ آپ نے بھی اکثر سنا ہو گا یہ محاورہ ہماری سیاسی لغت میں ہمیشہ منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ انگریزی میں اس مفہوم کا ایک محاورہ ہے "More catholic than the pope" ۔ ان دونوں محاوروں کا مثبت استعمال کرتے ہوئے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا اوورسیز طبقہ وطن سے محبت کے معاملے میں Main Stream پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان کا غیر مشروط خیر خواہ ہے۔ پاکستان ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طبقے کو پاکستان کی طرف راغب کرنے کے لیے ہماری حکومتوں کو کسی پالیسی یا پیکیج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے اندر قدرتی طور پر ایک In-Built ڈیوائس پیدائشی طور پر فٹ ہوا ہوا ہے۔ وہ دنیا کے جس کونے میں بھی بستے ہوں پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہ محبت نہیں بلکہ جنوں ہے جو انہیں دیار غیر میں ہزاروں میل کے فاصلے پر بھی پاکستان سے لاتعلق نہیں ہونے دیتا۔ نیو یارک کے بروکلین ہسپتال میں پھیپھڑوں کے ماہر امراض Pulmonobgist ڈاکٹر افضال احمد ملہی ایک ایسا ہی نام ہے جن کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔ وہ بے خوابی اور نیند کے دوران خراٹے جیسے مسائل کے معالج ہیں اور نیویارک میں اپنے پیشے کے صف اول کے ماہرین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر افضال ملہی کے تعارف میں دقت یہ ہے کہ انہیں صرف بطور ڈاکٹر متعارف کرانا زیادتی ہے اپنے پیشے کے علاوہ وہ سیاسی، سماجی اور چیریٹی حلقوں کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔

گزشتہ سال میں نے روزنامہ نئی بات کے انہی صفحات پر لاہور میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل پر ایک کالم لکھا چند روز بعد مجھے ڈاکٹر افضال ملہی صاحب کا فون آیا ، ان کے ساتھ ہماری جتنی گہری نیاز مندی ہے ، اس سے مجھے اندازہ ہے کہ جب وہ کال کرتے ہیں تو گفتگو طول پکڑ جاتی ہے۔ جب خاصا وقت گزرنے پر کال جاری تھی تو انہوں نے مجھے کہا کہ

آپ مجھ سے جان چھڑا رہے ہیں۔ ان کی کال کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے لاہور کی ٹریفک پر لمبا چوڑا کالم لکھ دیا ہے ٹریفک جام تو امریکہ میں بھی ہوتے ہیں پھر انہوں نے بتایا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے گھر سے کلینک جاتے ہوئے ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں ان کا کال کرنے کا مدعا یہ تھا کہ ہم پاکستان کا مثبت امیج پیش کیا کریں۔

پاکستان میں اس وقت ٹی وی ٹاک شوز کی بھرمار ہے ۔ شام ہوتے ہی پرائم ٹائم ٹاک شو شروع ہوتے ہیں جو رات گئے تک جاری رہتے ہیں۔ ان شوز میں الزام تراشی، گالی گلوچ ، شخصی رویے اور باڈی لینگوئج اور عدم برداشت کا معیار کسی گھٹیا درجے کی انڈین فلم سے بھی پست ہوتا ہے۔ یہ پروگرام ہماری معاشرتی اقدار کی دھجیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ اس موقع پر ہمیں ڈاکٹر افضال ملہی صاحب کے پروگرام ہیلتھ ٹاک ود ڈاکٹر افضال ملہی کا امریکہ سے براہ راست پروگرام یاد آرہا ہے جس میں عوامی آگہی کے لیے صحت کے تمام موضوعات پر دنیا کے ماہر ترین ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ رائے دیکھنے کو ملتی ہے۔ ڈاکٹر ملہی اس پروگرام کے میزبان ہیں جو صرف عوامی خدمت کے جذبے کے تحت پیش کیاجاتا ہے۔ اس پروگرام نے کورونا کے سلسلے میں بڑی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں حال ہی میں ہونے والی ان پروگراموں میں ڈاکٹر رضوان خالد کارڈیالوجسٹ ،ڈاکٹر احسن خان پلمونری کنسلٹنٹ، ڈاکٹر ایم اسلم سائیکاٹرسٹ، ڈاکٹر عمر فاروق ماہر امراض گردہ جیسے ماہرین کی قیمتی آراء عوام کے لیے مفت پیش کی جاتی ہیں۔

امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ تنظیم APPNA(ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ ان نارتھ امریکہ) کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈاکٹر ملہی اس تنظیم کے سینئر رکن ہیں بلکہ نجی حلقوں میں ان کا شمار APPNA کے کنگ میکرز میں ہوتا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان سے اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا جانے والے نوجوان ڈاکٹرز کی امداد اور رہنمائی کے علاوہ پاکستان میں چیریٹی پروگراموں کے ذریعے نچلے طبقے کی بحالی اور امریکہ میں پاکستان کے امیج بلڈنگ کے لیے نہایت فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے حال ہی میں ڈاکٹر افضال ملہی کو نیو یارک ریجن میں پارٹی کی تنظیم سازی میں اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان سے باہر قومی سیاسی جماعتوں کے فروغ کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ اس سے اوورسیز کمیونٹی میں تفرقہ بندی پھیلتی ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانیت کے فروغ کے لیے پی ٹی آئی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ڈاکٹر افضال ملہی کا ذکر ہو اور وہاں منڈی بہاؤ الدین کا نام نہ آئے تو بات مکمل نہیں ہوتی۔ امریکہ میں منڈی بہاؤ الدین یا MBD سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ یہ State of MBD کو امریکہ کے 53 ویں ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایڈوائزر ساجد تارڑ کا تعلق بھی MBD سے ہے اور وہ ڈاکٹر افضال ملہی کے حلقہ یاراں کے اہم رکن ہیں۔ اس حلقے میں اکثر اوقات وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ندیم چن بھی ہیں جو گاہے بہ گاہے اس محفل میں شریک ہونے جاتے ہیں۔ ان میں ایک نام محترم شاہد رضا رانجھا کا ہے جو منڈی بہاؤ الدین میں فلاح و بہبود کے کاموں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ رانجھا صاحب اپنے آبائی شہر میں غریب بچیوں کی شادیوں اور شہر میں پینے کے صاف پانی کے R.O پلانٹ اور دیگر فلاحی سرگرمیوں میں تاریخی کام کر رہے ہیں۔

سماجی میڈیا پر ڈاکٹر افضال ملہی کا ایک فین کلب ہے جو ہلکے پھلکے انداز میں ذہنی تفریح طبع کے ذریعے ان کے چاہنے والوں کو بیماریوں اور ذہنی دباؤ سے دور رکھنے کا اہتمام کرتا ہے۔ اس میں مزاح، شعر و ادب اور سماجی تعلقات کے بارے میں مفید معلومات کا تبادلہ کیاجاتا ہے تا کہ ذہنی تازگی کو متاثر کرنے والے محرکات سے دور رہا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب کی ہمہ جہت اور Dynamic شخصیت کے اتنے زیادہ خانے ہیں کہ ہم حیران ہیں کہ ایک مصروف ترین ڈاکٹر کسی طرح مختلف امور کو بیک وقت ساتھ لے کر چل سکتا ہے۔ وہ امریکہ جا کر منڈی بہاؤ الدین کو نہیں بھول پائے۔

تمہارے گاؤں کی مٹی لگی ہے پیروں میں

ہمارے شہر کے رستے خوشی سے پاگل ہیں


ای پیپر